اشنا شاہ کی خواتین گلوکاروں کی کمی کی شکایت، حدیقہ کیانی نے فہرست جاری کردی

اداکارہ اشنا شاہ نے ٹوئٹر پر ملک میں خواتین گلوکاروں اور موسیقاروں کی کمی کا اظہار کرتے ہوئے صرف 2 خواتین کے نام بتائے اور شکایت کی کہ موسیقی کے شعبے میں خواتین کی کمی ہے۔
اشنا شاہ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ موسیقی کے شعبے میں صرف آئمہ بیگ اور قرۃ العین بلوچ ہی بہترین خواتین گلوکارائیں ہیں۔
تاہم اداکارہ کی ٹوئٹ پر کئی مداحوں نے کمنٹس کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ ملک میں عابدہ پروین اور حدیقہ کیانی سمیت درجنوں خواتین گلوکارائیں موجود ہیں۔
کچھ مداحوں نے تو اشنا شاہ کو یہ بھی یاد دلایا کہ وہ حدیقہ کیانی کو کیسے بھول گئیں جن کی آواز میں ان کے ڈراموں میں گانے بھی شامل ہیں۔
اشنا شاہ کا مذکورہ ٹوئٹ جب گلوکارہ حدیقہ کیانی نے دیکھا تو انہوں نے اداکارہ کو یاد دلانے کےلیے ملک کی خواتین گلوکاراؤں کی طویل فہرست جاری کردی۔
حدیقہ کیانی نے موسیقی کے شعبے میں کئی دہائیوں سے خدمات سر انجام دینے والی پاکستانی گلوکاراؤں و موسیقار خواتین کی فہرست جاری کردی اور اس فہرست میں 40 کے قریب خواتین کے نام موجود تھے۔
حدیقہ کیانی کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں عابدہ پروین،فریدہ خانم، نازیہ حسن، گل پانڑا، مومنہ مستحسن، روشن آرا بیگم، مسرت نذیر، صنم ماروی، میشا شفیع، زیب بنگش، زوئی وکاجی، ریچل وکاجی، سارہ حیدر، نتاشا بیگ، کومل رضوی، فریحہ پرویز، حمیرا ارشد، مائی ڈھائی، حمیرا چنا اور شبنم مجید سمیت دیگر گلوکاراؤں کے نام شامل تھے۔
اس کے علاوہ حدیقہ کیانی کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں زیادہ تر قومی سطح پر گلوکاری کرنے والی یا شہرت حاصل کرنے والی گلوکاراؤں کے نام شامل تھے، مذکورہ فہرست میں ملک کی دیگر زبانوں میں گلوکاری کرنے والی درجنوں گلوکاراؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔


حدیقہ کیانی نے فہرست جاری کرتے ہوئے مختصر نوٹ بھی لکھا اور انہوں نے موسیقی کی دنیا میں خواتین کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ساتھ ہی حدیقہ کیانی نے الگ سے اپنی پسندیدہ گلوکاراؤں کی فہرست بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ٹینا ثانی، نیرہ نور، مہناز، ریشماں، ناہید اختر، اقبال بانو، تصور خانم، شازیہ خشک، سائرہ نسیم، زاہدہ پروین اور منی بیگم کے نام شامل کیے۔
حدیقہ کیانی کی جانب سے فہرست جاری کرنے کے بعد اشنا شاہ نے گلوکارہ سے معذرت کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ کو بھی ڈیلیٹ کردیا۔

