اقبال سے منسوب اشعار جو ان کے نہیں ہیں


شاعری کو کسی بھی شاعر کی اولاد کہا جا سکتا ہے۔ جب بھی کوئی شاعر کوئی شعر تخلیق کرتا ہے تو وہ اس سے بلاشبہ اولاد جیسی محبت کرتا ہے۔ اگر کسی کی اولاد کو کسی دوسرے کا نام دے دیا جائے تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا؟ لیکن بے شمار شعرا کے ایسے سینکڑوں اشعار ہیں جنہیں دیگر شعرا کے نام سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ ایک ایسے شاعر ہیں جن کے کھاتے میں دوسرے شعراء کے بہت سارے مشہور اشعار ڈالے گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اقبالؔ ایسے شاعر ہیں جن کے نام سے ہر کوئی واقف ہے۔ ویسے بھی جس اچھے شعر کا خالق گم نام ہو، وہ اقبالؔ کا نام لگا کر پیش کردیا جاتا ہے حالانکہ ان اشعار کا اقبال کے اندازِ فکر اور اندازِ سُخن سے دُور دُور کا تعلق نہیں ہوتا۔
ناقدین کہتے ہیں کہ کلامِ اقبال اور پیامِ اقبال سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ایسے اشعار کو اقبال سے سے منسوب نہ کریں جو ان کے نہیں ہیں۔ آئیے آپ کو کچھ ایسے اشعار کے بارے میں بتاتے ہیں جو کہ ہیں تو معیاری اور کسی اچھے شاعر کے، مگر اُنہیں اقبال سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ ایسے اشعار میں عموماً عقاب، قوم، اور خودی جیسے الفاظ کے استعمال سے قاری کو یہی لگتا ہے کہ یہ شعر اقبال کا ہی ہے۔ جیسے کہ
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کےلیے
یہ شعر اصل میں ایک غیر معروف شاعر سید صادق حسین کا ہے۔
اسی طرح ایک اور شعر
اسلام کے دامن میں اور اِس کے سِوا کیا ہے
اک ضرب یَدّ اللہی، اک سجدہِ شبیری
یہ شعر شاعر وقار انبالوی کا ہے۔
ایک اور مشہور شعر جس کا استعمال اکثر مواقع پر ہوتا ہے وہ ہے
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اقبال سے منسوب یہ شعر اصل میں مولانا ظفر علی خان کا ہے۔
پھر ایسے بھی اشعار ہیں جو ہیں تو وزن میں مگر الفاظ کے چناؤ کے لحاظ سے کوئی خاص معیار نہیں رکھتے یا کم از کم اقبال کے معیار یا اسلوب کے قریب نہیں ہیں۔ مثلاً
عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
یہ اشعار بھی غیر معروف شاعر سرفراز بزمی کے ہیں۔
ایک اور شعر
تِری رحمتوں پہ ہے منحصر میرے ہر عمل کی قبولیت
نہ مجھے سلیقہِ التجا، نہ مجھے شعورِ نماز ہے
یہ شعر کسی نامعلوم شاعر کا ہے لیکن اسے بھی اقبال کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے حالانکہ یہ ان کا شعر نہیں۔
بعض اوقات لوگ اپنی بات معتبر بنانے کے لیے واضح طور پر من گھڑت اشعار اقبال سے منسوب کر دیتے ہیں۔ مثلاً یہ کچھ اشعار غالباً شدت پسندوں کے خلاف اقبال کے پیغام کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں جب کہ اِن کا اقبال سے دُور دُور تک کوئی تعلق نہیں:
اللہ سے کرے دور، تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کےلیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
اقبال سے منسوب یہ شعر بھی سرفرازؔ بزمی کا ہے۔
اِسی طرح اقبال کو اپنا حمایتی بنانے کی کوشش مختلف مذہبی و مسلکی جہتوں سے بھی کی جاتی ہے۔ مثلاً یہ شعر سنئے:
پوچھتے کیا ہو مذہبِ اقبال
یہ گنہگار بو ترابی ہے
یہ شعر کس کا ہے کچھ معلوم نہیں لیکن اس میں اقبال کا نام آیا تو ان سے منسوب کر دیا گیا۔
ایک اور شعر سنئے:
وہ روئیں جو منکر ہیں شہادتِ حسین کے
ہم زندہ و جاوید کا ماتم نہیں کرتے
اس شعر کے خالق بارے بھی کوئی معلومات دستیاب نہیں لیکن اس سے بھی اقبال کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔
اب کچھ اور اشعار بھی سنیئے جنہیں کہ اقبال سے منسوب کر دیا گیا ہے:
بیاں سِرِ شہادت کی اگر تفسیر ہو جائے
مسلمانوں کا کعبہ روضہء شبیر ہو جائے
نہ عشقِ حُسین، نہ ذوقِ شہادت
غافل سمجھ بیٹھا ہے ماتم کو عبادت
اسی طرح یہ ایک اور بہت ہی مشہور شعر ہے جسے اقبال سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن یہ ان کا نہیں:
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ھے
اسلام زندہ ھوتا ہے ہر کربلا کے بعد
یہ شعر دراصل مولانا محمد علی جوہر کا ہے۔
پھر کچھ ایسے اشعار بھی ہوتے ہیں جن میں ‘اے اقبال’ یا ’اقبال‘ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ عموماً انتہائی بے وزن اور بے تُکے اشعار کے ساتھ ‘اقبال’ یا ‘اے اقبال’ وغیرہ لگا کر انہیں اقبال کے نام سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ اِس قسم کے اشعار کو پہچاننا سب سے آسان ہے کیوں کہ یہ کسی بھی لحاظ سے بھی معیار نہیں ہیں مثلاً:
کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے اقبال
وہ کون سا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرے پروردگار سے؟
تیرے سجدے کہیں تجھے کافر نہ کر دیں اقبال
تُو جُھکتا کہیں اور ہے اور سوچتا کہیں اور ہے!
دل پاک نہیں ہے تو پاک ہو سکتا نہیں انساں
ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہت
مسجد خدا کا گھر ہے، پینے کی جگہ نہیں
کافر کے دل میں جا، وہاں خدا نہیں
میرے بچپن کے دِن بھی کیا خوب تھے اقبال
بے نمازی بھی تھا، بے گناہ بھی
وہ سو رہا ہے تو اُسے سونے دو اقبال
ہو سکتا ہے غلامی کی نیند میں وہ خواب آزادی کے دیکھ رہا ہو
گونگی ہو گئی آج زباں کچھ کہتے کہتے
ہچکچا گیا میں خود کو مسلماں کہتے کہتے
یہ سن کہ چپ سادھ لی اقبال اس نے
یوں لگا جیسے رک گیا ہو مجھے حیواں کہتے کہتے
ان سب اشعار میں اقبال کا نام استعمال کیا گیا ہے لیکن ان کا علامہ اقبال سے دور کا بھی تعلق نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button