الیکشن کمیشن کے باہر اپوزیشن کے احتجاجی پلان پر کپتان پریشان

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس کا فوری فیصلے کروانے کی خاطر 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کا گھیراؤ کرنے کے اعلان نے وزیر اعظم عمران خان کے لیے ایک بڑی پریشانی کھڑی کر دی ہے, خصوصاً پی ٹی آئی کی جانب سے حال ہی میں فارن فنڈنگ کا الزام تسلیم کئے جانے کے بعد اس اعلان سے الیکشن کمیشن پر بھی چھ برس سے لٹکے اس اہم ترین کیس کا جلد فیصلہ کرنے کے لیے دباؤ بھی بڑھ گیا ہے.
یاد رہے کہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے 19 جنوری کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کی عمارت کے باہر احتجاج اور دھرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ پچھلے چھ برس سے زیر التوا تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہو پائے. اسی دوران تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سے ملاقات کے بعد چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو بھی اپنی فارن فنڈنگ کی تفصیلات 18 جنوری تک جمع کروانے کا حکم دیا ہے جسے کہ تحریک انصاف کا کیس مزید لٹکانے کا ایک حربہ قرار دیا جا رہا ہے.
بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا سے اس روز اور اسوقت ملاقات کی جبکہ ای سی پی کی دوسری منزل پر اسکروٹنی کمیٹی ان کی پارٹی کے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کررہی تھی۔ اس ملاقات سے کئی پیشانیوں پر شکن آئی ہے اور چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کے کردار کے حوالے سے سوالات کھڑے ہو گے ہیں. ناقدین اس غیر معمولی ملاقات کو پی ٹی آئی وکیل شاہ خاور کے اس تحریری بیان کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں جس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف امریکا میں رجسٹرڈ دو غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ وصول کرتی رہی ہے. اس بیان سے اکبر ایس بابر کے اس الزام کی تصدیق ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تحریک انصاف نے غیر قانونی طریقے سے فارن فنڈنگ اکٹھی کی. تاہم پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور نے الیکشن کمیشن کے سامنے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ فنڈز اگر غیر قانونی تھے تو انہیں اکٹھا کرنے کی ذمہ داری پارٹی پر نہیں بلکہ ان کو مینج کرنے والے غیر ملکی ایجنٹس پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری جانب اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ یہ دو غیر ملکی ایجنٹس نہیں بلکہ دو غیر ملکی کمپنیاں ہیں جنہوں نے بڑے پیمانے پر تحریک انصاف کے لیے غیر قانونی طور پر فنڈز
اکٹھے کیے اور وہ بھی عمران خان کے ایماء پر اور ان کی مرضی سے.
یاد رہے کہ گذشتہ سات برس سے فارن فنڈنگ کیس کی سماعتوں کے دوران تحریک انصاف کسی بھی ممنوعہ ذریعے سے بیرون ملک سے فنڈنگ لینے کے الزام کو رد کرتی آئی ہے تاہم اب امریکہ سے ممنوعہ فنڈنگ لینے کا اقرار کرتے ہوئے اس کے وکیل نے سارا مدعا اپنے ایجنٹس پر ڈال کر گلو خلاصی کروانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے 13 جنوری کو الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے تحریری جواب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ایجنٹس کی اکٹھی کی گئی کوئی بھی کنٹری بیوشن جو قابل پوچھ گچھ ہوسکتی ہے وہ بنیادی فریق یعنی تحریک انصاف کی دی گئی ہدایات یا ذمہ داری کے دائرہ کار سے ماورا ہے۔ پارٹی نے یہ تازہ مؤقف الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے دیے گئے سوال نامے کے تحریری جواب میں اپنایا۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس اس جماعت کے ایک بانی رکن اکبر ایس بابر نے نومبر 2014 میں دائر کیا تھا۔ اس کیس میں دعویٰ کیا گیا کہ تحریک انصاف نے سیاسی جماعتوں کے لیے موجود قانون پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کی خلاف ورزی کی ہے اور اس لیے پارٹی چیئرمین عمران خان اور خلاف ورزیوں کے مرتکب دیگر قائدین کے خلاف کارروائی کی جائے۔ درخواست میں کہا گیا کہ تحریک انصاف سال نے2007 سے 2012 تک جو فنڈ غیر ممالک سے اکھٹا کیا ہے اس کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے چھپائی گئی ہیں۔ درخواست کے مطابق قانون کے تحت ہر سیاسی پارٹی کے لیے ہر سال حاصل کردہ فنڈ، اثاتے اور ان کی آڈٹ رپورٹ پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی بھی غیر ملکی سے کوئی بھی فنڈنگ حاصل نہیں کرسکتی۔ اسی طرح پاکستانی کمپنیوں، این جی او وغیرہ سے بھی فنڈنگ حاصل نہیں کی جا سکتی اور ایسی غیر قانونی فنڈنگ حاصل کرنے والی سیاسی جماعت پر الیکشن کمیشن پابندی عائد کرنے کا مجاز ہے. تاہم پچھلے چھ برس میں تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی 80 سے زائد سماعتیں ہونے کے باوجود اس کا فیصلہ نہیں کیا جا رہا جس کے خلاف اب اپوزیشن اتحاد نے 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے. اپوزیشن اتحاد کا کہنا ہے کہ اگر اس کیس کی تحقیقات شفاف انداز میں ہو جائیں اور میرٹ پر مبنی فیصلہ آئے تو نہ صرف عمران خان وزیراعظم کے عہدے سے نا اہل ہوجائیں گے بلکہ ان کی حکومت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا.
