فیصل واوڈا دوہری شہریت کیس میں عدلیہ کا دوہرا معیار برقرار


حقائق سامنے ہونے کے باوجود فیصل واوڈا نااہلی کیس کا فیصلہ کرنے کی بجائے عدالت نے حکومتی وزیر کے خلاف دوہری شہریت نااہلی کیس میں انصاف کا دوہرا معیار اپنا رکھا ہے اور لمبی لمبی تاریخیں ڈال کر معاملہ لٹکایا جا رہا ہے.
دوہری شہریت نااہلی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 14 جنوری کو حیران کن طور پر وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کی رسی ایک مرتبہ پھر دراز کرتے ہوئے انہیں جواب داخل کرانے کے لئے مزید ایک مہینے کی مزید مہلت دے دی ہےحالانکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے گذشتہ برس نومبر میں فیصل واڈا کے کاغذات نامزدگی اور امریکی شہریت چھوڑنے کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروائے جانے کے بعد یہ معاملہ ایک اوپن اینڈ شٹ کیس بن چکا.ہے کیونکہ واوڈا کی دونمبری کھل کر سامنے آچکی ہے۔ تاہم اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس معاملے میں عدالت کسی خفیہ ہاتھ کا دباؤ لے رہی ہے.
یاد رہے کہ دوہری شہریت نااہلی کیس میں فیصل واوڈا الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں سے پچھلے ایک برس سے تاخیری ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے تاریخ پر تاریخ حاصل کرتے چلے آرہے ہیں۔تاخیری حربوں کے ذریعے فیصل واوڈا ابھی تک الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو اپنے نا اہلی کیس میں فیصلہ کرنے کا موقع نہیں دے رہے۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ فیصل واڈا کے پاس وہ کونسی طاقت ہے جو انہیں اس کیس میں بچائے چلے جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے لئے عدالتیں دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں جو ملک کے نظام انصاف کے لئے نیک شگون نہیں۔
کیس کی.پچھلی سماعت پر واوڈا کو جواب جمع کرانے کی آخری مہلت دینے کے باوجود 14 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک مرتبہ پھر واڈا کو 8 فروری تک جواب جمع کرانے کا موقع دے دیا. اس موقع پر عدالت نے یہ سوال ضرور پوچھا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی کیسے جمع کروایا، یاد رکھیں کہ اس کے اپنے نتائج ہیں۔
14 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے وفاقی وزیر فیصل واڈا کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی جہاں فیصل واڈا کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل نے درخواست خارج کرنے کے لیے متفرق درخواست دائر کی ہے۔ دوسری جانب واوڈا کے خلاف درخواست گزار کے وکیل جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے فیصل واڈا کے کاغذات نامزدگی اور بیان حلفی عدالت میں پیش کر دیے ہیں جس کے بعد کیس واضح ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس میں آج 16ویں پیشی ہے اور عدالت نے فیصل واڈا سے ایک سال قبل جواب طلب کیا تھا جو ابھی تک نہیں دیا گیا۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم فیصل واڈا کو جولائی 2023 تک کی تاریخ دے دیتے ہیں، ہم نے کہا تھا کہ فیصل واڈا عدالت میں جواب جمع کرائیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے موکل کا رویہ درست نہیں ہے، آٹھ سے دس سماعتیں ہو چکی ہیں، مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں ان سے جواب کس طرح لوں۔ یہ نوٹس کی کاپی کابینہ کو بھیج دیتا ہوں وہیں سے جواب آ سکتا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے پوچھا کہ کیا فیصل واڈا دوہری شہریت رکھتے تھے، انہوں نے امریکی شہریت کب چھوڑی، آپ نے ہدایات لی ہوں گی اس حوالے سے عدالت کو بتائیں۔ فیصل واڈا کے وکیل نے کہا کہ مجھے کچھ وقت دیا جائے میں اس عدالت کو متفرق درخواست پر مطمئن کروں گا جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے بھی آپ نے ہی وقت مانگا تھا۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کی ہی تین اراکین قومی اسمبلی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ اسی عدالت نے کیا تھا، چونکہ ان کے وکلا نے عدالت کو مطمئن کیا اس لئے عدالت نے پی ٹی آئی اراکین کے خلاف درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ برس بارہ نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصل واوڈا نے اپنا حتمی جواب جمع کروانے کی بجائے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ اپنا وکیل تبدیل کرنے جا رہے ہیں اس لیے انہیں اس مقصد کے لیے ایک مہینے کا وقت دیا جائے اور کیس کی سماعت ملتوی کی جائے۔ چنانچہ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت ایک مہینے کے لئے ملتوی کردی تھی۔ اس کیس کی 4 نومبر کی سماعت پر بھی فیصل واوڈا کے تاخیری حربوں سے تنگ آکر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے تھے کہ فیصل واڈا الیکشن کمیشن کے روبرو نااہلی کیس میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں لگا ہوا ہے اور جب یہاں ان سے پوچھا جاتا ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ میرا کیس تو الیکشن کمیشن کے پاس زیر سماعت ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نااہلی کیس میں فیصل واوڈا کی طرف سے جواب داخل نہ کرنے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل کھیلنا چھوڑ دیں۔ عدالت سے سیدھی بات کریں، یہ نہ ہو کہ عدالت موکل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا 2018ء کے عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت امریکی شہری تھے اور ان کا الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جانے والا حلف نامہ جعلی تھا کیونکہ اسمیں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ 11 جون 2018ء کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔ کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی ان کی امریکی شہریت برقرار تھی۔ فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں حلفاً کہا تھا کہ وہ صرف پاکستانی شہری ہیں تاہم دستاویزات سے ثابت ہوا جب انہوں نے کاغذات جمع کرائے وہ امریکی شہری تھے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے تو واوڈا نااہل ہوجائیں گے۔4 نومبر کو اس کیس کی سماعت کے دران الیکشن کمیشن کے وکیل نے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا تھا اور عدالت کو بتایا کہ ریکارڈ کے ساتھ دہری شہریت نا رکھنے کا فیصل واؤڈا کا بیان حلفی بھی دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کیس یہ ہے کہ فیصل واوڈا کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت رکھتے تھے، فیصل واوڈا نے ‏11 جون 2018 کو بیان حلفی میں کہا دوہری شہریت نہیں رکھتے جبکہ ‏شہریت چھوڑنے کی درخواست 25 جون 2018 کو منظور ہوئی، ‏اس کا مطلب یہ ہوا بیان حلفی کے وقت فیصل واوڈا امریکی شہری تھے۔ جسٹس عامرفاروق اپنے ریمارکس میں کہہ چکے ہیں کہ ‏فیصل واؤڈا نے بیان حلفی میں کہا کہ وہ غیرملکی شہریت نہیں رکھتے اور نہ ہی کبھی اپلائی کیا۔ دوسری طرف کہتے ہیں کہ ‏شہریت 25 جون کو چھوڑی اور بیان حلفی میں کہا گیا کہ آپ امریکی شہری نہیں۔ اس پر فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا تھاکہ ‏یہ دستاویزات جعلی بھی ہوسکتی ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے تھے کہ ‏آپ سے ایک سال سے جواب مانگ رہے ہیں، اصل حقائق پیش کر دیں ‏خود کو بند گلی میں نہ لےجائیں،‏عدالت سے سیدھی بات کریں۔
واضح رہے کہ 2018 میں سپریم کورٹ نے ن لیگ کے سینیٹرز سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت پر نااہل قرار دیا تھا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کر دیا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امیدواروں کے پاس غیر ملکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہئے۔ اسی بات پر سپریم کورٹ نے کئی ارکان پارلیمنٹ کو نا اہل قرار دیا تھا اس لئے فیصل واوڈا کو بھی سیٹ چھن جانے کا ڈر لگا ہوا ہے جس سے بچنے کے لئے وہ غیر مرئی قوتوں کی مدد سے مسلسل تاخیری حربے استعمال کرکے مہلت حاصل کئے جا رہے ہیں اور حیران کن طور پر انہیں من چاہی ڈھیل مل بھی رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button