انتہاپسند فسطائیت نظریےکے سبب بھارت کے ٹکڑے ہوجائیں گے

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت تباہی کے راستے پرگامزن ہے اوراگر بھارت فسطائیت اورانتہا پسند ہندووتوا کے راستے پرہی گامزن رہا تو ہمیشہ کے لیے تقسیم ہو جائے گا اوراس کے ٹکڑے جائیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے میرا وہی نظریہ ہے جوبانیان پاکستان علامہ اقبال اورقائد اعظم محمد علی جناح کا تھا اورپاکستان کے لیے ان کا نظریہ یہ تھا کہ اس ملک کو مدینہ میں مسلمانوں کی پہلی ریاست کی طرزپربنایا جائے جس کی بنیاد ہمارے نبی اکرم ﷺ نے رکھی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ جب میں وزیراعظم بنا تھا تو میں نے سب سے پہلے بھارت سے رابطہ کیا تھا اوربھارتی وزیراعظم نریندرمودی کومکمل حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنے تعلقات کو بہتربنانے کے لیے جو کچھ ہو سکا وہ کریں گے کیونکہ سب سے زیادہ غریب لوگ ہمارے خطے میں رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطےمیں غربت کوکم کرنےکا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ دونوں ملک تعلق بہتر کرتے ہوئے آپس میں تجارت شروع کریں، دونوں ملکوں میں جتنی کشیدگی کم ہوگی اتنا ہی ہم دفاع پرکم خرچ کریں گے اورتجارت پرزیادہ خرچ کرسکیں گے جس سے خوشحالی بڑھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے ہمارے پیشکش کو مسلسل ٹھکرایا جاتا رہا جس کی کوئی عملی وجہ نہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ بھارت پرایک انتہا پسند نظریے نے قبضہ کرلیا ہے۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوکچھ بھارت میں ہورہا ہے وہ بھارتی عوام کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور اس سے بھارت ہمیشہ کے لیے تقسیم ہو جائے گا اوراس کے ٹکڑے ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں بڑی اقلیت موجود ہے اورہندوتوا کےانتہا پسند فاشسٹ نظریے نے50 کروڑافراد کوالگ کردیا اوراگروہ اسی ڈگرپرچلتےرہے توانہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
انہوں نے بھارت کوخبردارکیا کہ اگرایک مرتبہ بھارت میں انتہا پسند نظریےکا جن بوتل سےباہرآ گیا تواسےدوبارہ بوتل میں ڈالنا مشکل ہوجائے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میں بھارت سےہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے کہہ رہا ہوں کہ جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے وہ اس کےلیےسب سےبڑی تباہی ہےکیونکہ یہ فاشسٹ سوچ کسی اورنظریےکوپنپنےکی اجازت نہیں دیتی۔
اس موقع پرانہوں نےمستقبل میں بھارت سے بہترتعلقات کی امید ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں جب کبھی بھی ایسی حکومت آتی ہے جو برصغیر میں غربت کے خاتمےاورخوشحالی پر یقین رکھتی ہو توپاکستان انہیں دوستی کی پیشکش کرنے والا پہلا ملک ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button