انگلینڈ میں شدید گرمی اور خشک سالی، جنگلاتی آگ نے تباہی مچا دی

انگلینڈ میں ریکارڈ توڑ گرمی اور طویل خشک سالی کے باعث تیزی سے پھیلنے والی جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔
تفصیلات کے مطابق شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں آگ بھڑکنے کے کئی بڑے واقعات پیش آئے،جس سے ہنگامی خدمات پر شدید دباؤ پڑا۔ ایک مقامی گالف کورس کے قریب بھڑکنے والی گھاس کی آگ تیزی سے پھیلتے ہوئے رہائشی علاقے تک پہنچ گئی۔
ریسکیو حکام نے اس واقعے کو فائر سروس کی تاریخ کے خطرناک ترین واقعات میں سے ایک قراردیتے ہوئے کہا کہ تباہی بڑے پیمانے پر ہوئی ہے اور کم از کم 6 مکانات مکمل طور پر جل گئے۔
ویسٹ مڈلینڈز میں جنگلاتی آگ کے دوران امدادی کارکنوں نے 54 افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی ، متاثرین میں 3 فائر فائٹرز اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل سفوک کے ڈن وچ ہیتھ میں بھی بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ نے علاقائی وسائل پر دباؤ بڑھادیا تھا۔
دوسری جانب وزیراعظم اینڈی برنہم نے ہنگامی اجلاس طلب کرکے صورت حال سے نمٹنے کےلیے قومی سطح پر اقدامات،متاثرہ مقامی انتظامیہ کو اضافی امداد کی فراہمی اور آگ سے بچاؤ کےلیے ممکنہ پابندیوں پر غور کیا۔ان اقدامات میں ڈسپوزایبل باربی کیو پر پابندی بھی شامل ہے۔
ماحولیاتی ایجنسی کےمطابق ریکارڈ خشک ترین جولائی کےبعد اگست میں اب تک انگلینڈ میں طویل مدتی اوسط کے مقابلے میں صرف 6 فیصد بارش ہوئی ہے۔ انگلینڈ کا ایک بڑا حصہ شدید خشک سالی کی صورت حال سے دوچار ہے۔
حکام نے شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے اور انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مزید آگ بھڑکنے کے واقعات سے بچا جاسکے۔ فائرفائٹرز نے کئی مقامات پر آگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں پیش رفت کی ہے،تاہم حکام کا کہنا ہےکہ خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں۔
