آٹو موبائل انڈسٹری پر سینٹ میں تنقید

مینوفیکچرنگ کے نام پر گاڑیوں کی اسمبلنگ، بغیر کسی چیک کے قیمتوں میں اضافے اور سیفٹی اسٹینڈرڈ نہ ہونے کے باعث ڈرائیو کرنے والوں کے لیے خطرہ بننے کرنے کی وجہ سے کار کی مقامی صنعت پر سینٹ میں شدید تنقید کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سینیٹر اعظم سواتی نے بتایا کہ غیر محفوظ گاڑیاں بنانے والے مینوفیکچررز کو سزا دینے کے اصول وضع کیے جارہے ہیں جس کا مسودہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جاچکا ہے۔وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ حکومت کی پیش کردہ نئی پالیسی کے تحت کار بنانے والے 18 نئے پلانٹس لگائے جائیں گے جس میں سے 5 تیاری کے مراحل میں ہیں اور اس مسابقت میں چینی اور کوریائی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ حکومت قیمت مقرر نہیں کرسکتی طلب و رسد کا فرق مارکیٹ میں قیمت کا تعین کرتا ہے لہٰذا اگر پیداوار طلب سے زائد ہوگی تو قیمتیں کم ہوجائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ کمپنیوں کو مشینیں درآمد کرنے کے لیے زیرو ٹیکس کی سہولت دی جارہی ہے لیکن وہ مینو فیکچرنگ کے نام پر کار اسمبل کررہے ہیں۔
قبل ازیں سینیٹر عتیق احمد شیخ نے کہا تھا کہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت آٹو انڈسٹری کو بند کیا گیا اور ملک میں ایک کارٹل بنا کر خراب کوالٹی کی گاڑیاں اسمبل کی جارہی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کمپنیاں بغیر کسی چیک کے قیمتوں میں اضافہ کرتی ہیں اور اس کارٹل کی وجہ سے اس شعبے میں سرمایہ کاری بھی نہیں آرہی۔
