اپوزیشن اتحاد حکومت گرائے گا یا خود گر جائے گا؟


چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں حکومتی امیدواروں کی کامیابی کے بعد حزب اختلاف کے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت اب کیا حکمت عملی اپنانے کا سوچ رہی ہے اور اسکا مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو بارہا پی ڈی ایم کی قیادت سے پوچھے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی واضح جواب نہیں مل پایا۔
تاہم یہ طے ہے کہ 12 مارچ کو ہونے والے سینیٹ چیئرمین کے الیکشن پر عدالتوں میں بھی ایک قانونی جنگ لڑی جائے گی جسکا نتیجہ یوسف رضا گیلانی کے حق میں آنے کی صورت میں حزب مخالف کی حکومت مخالف تحریک کو فائدہ ہو گا۔ لیکن اگر اس قانونی جنگ کا نتیجہ حکومت کے حق میں آتا ہے تو حزب مخالف کی تحریک کو ایک دھچکا پہنچے گا۔ گیلانی کے مسترد شدہ سات ووٹوں کے حوالے سے قانونی ماہرین کی رائے منقسم ہے۔ اپوزیشن کو امید ہے کہ اسے انصاف ملے گا اور یوسف رضا گیلانی کے مسترد شدہ سات ووٹوں کو تسلیم کر لیا جائے گا۔ تاہم حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کو پاکستان کی کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اس لئے یوسف رضا گیلانی کی ہار کا نتیجہ حتمی ہے۔
چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئیرمین کے انتخاب کے فوراً بعد کی جانے والی پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ ’مشترکہ طور پر فیصلہ کر کے یا تو عدالت جائیں گے یا پھر عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے۔ لیکن حتمی فیصلہ پی ڈی ایم کی قیادت کرے گی۔‘ اس بارے میں مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ’چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں جو ہوا اس سے ہمارے بیانیے کو مزید تقویت ملی ہے۔ حکومت نے تو وہی ثابت کر دیا جو ہم کہتے آ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن سے فورا پہلے ایوان میں لگائے گئے خفیہ کیمرے پکڑے جانے سے ہی یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی تھی کہ اسٹیبلشمنٹ کی اپوزیشن کے امیدوار کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
حکومتی امیدوار ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی کے 98 میں سے 54 ووٹ حاصل کرنے اور اپوزیشن اراکین کے بھی چند ووٹ لینے کے معاملے پر مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’جب چیئرمین ایک پارٹی کا بن جائے تو کچھ اراکین پر اس کا اثر پڑتا ہے اور انکا مورال گرتا یے۔ اگر ہمارے چیئرمین یوسف رضا گیلانی بنتے تو آپ دیکھتے کہ ڈپٹی چیئرمین بھی ہمارا آ جاتا۔ یہ صورتحال کے زیر اثر آنے کی بات ہوتی ہے۔‘
اس معاملے پر سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا کہ اپوزیشن ایک 11 جماعتی اتحاد ہے اور اس کا کردار حکومتِ پر چیک رکھنے کا ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں معیشت ایک بہت اہم مسئلہ ہے جیسا کہ مہنگائی اور بے روزگاری وغیرہ۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی طرف سے اسمبلیوں سے استعفے دینے والی بات محض دھمکی تھی کیونکہ بہت جلد پھر الیکشن ایک بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات کے ذریعے بھی اپوزیشن حکومت کو دباؤ میں لائی۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ اگر حکومت کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو اپوزیشن کے امیدوار کو ایسے عہدے پر نہیں پہنچایا جا سکتا تھا جو قائم مقام صدر بھی بن جائے جو کہ مسلح افواج کا کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے۔
اس معاملے پر سینیڑ صحافی ضیاء الدین کانکہنا تھا کہ پاکستان میں تمام اہم فیصلے تو فوج ہی کرتی ہے۔ انھوں نے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر تو بننے دیا مگر اب انھیں چئیرمین سینیٹ نہیں منتخب کرایا جا سکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اسے ایک بڑی فتح کے طور پر دیکھ رہی ہے جبکہ یہ تو ایسی کوئی فتح نہیں ہے جس پر حکومت جشن منائے۔
یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ کس نے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ کے عہدے تک پہنچایا اور پھر ان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد بھی ناکام بنائی۔ایک سوال کے جواب ضیاء الدین کا کہنا تھا کہ ماضی میں بے نظیر بھٹو نے لاہور سے لانگ مارچ شروع کرنا تھا مگر پھر بعد میں کوئی ایسا دباؤ آیا کہ وہ مارچ نہ ہو سکا۔ ’بے نظیر بھٹو نے خود مجھے بتایا تھا کہ مارچ نہ کرنے کے نتائج آپ جلد دیکھ لیں گے۔‘ ضیاء الدین کہتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت چند روز بعد ختم ہو گئی کیونکہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے نئے انتخابات کا راستہ ہموار کیا تھا۔ ضیاء الدین کا کہنا تھا کہ اگر تو اپوزیشن لانگ مارچ کرتی ہے تو یہ بہت بڑی ہو گی اور ہو سکتا ہے کہ حکومت اس سے ہل کر رہ جائے۔ تاہم ان کے خیال میں آثار یہی ہیں کہ اپوزیشن ایسا نہ کرے۔ ضیاء الدین کے مطابق موجودہ صورتحال میں بظاہر اپوزیشن کو اس مقدمے میں عدالت میں بھی کوئی کامیابی نہیں مل سکے گی کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستانی عدالتیں آزاد نہیں ہیں۔
سینئر صحافی مبشر زیدی نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپوزیشن کی خام خیالی ہو گی کہ ان کو گیلانی کے مسترد شدہ ووٹوں پر عدالتوں سے کوئی ریلیف مل سکے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں وہی ہوا ہے جو سینیٹ الیکشن میں حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کے ساتھ ہوا تھا۔ اس طرح اپوزیشن کا کیس بھی اتنا ہی کمزور ہے جتنا حکومت کا سینیٹ انتخابات میں جنرل نشست ہارنے کے بعد تھا۔
تاہم مسلم لیگ ن کے احسن اقبال کا اصرار یے ہے کہ گیلانی کے سست ووٹ کسی بھی طرح سے مسترد نہیں ہو سکتے تھے۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جن میں عدالت نے کہا ہے کہ ووٹر کی نیت معنی رکھتی ہے۔ نشان نام کے اوپر لگایا جا سکتا ہے۔‘احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ’اس انتخاب کی شفافیت پر سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ ہم تو آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں اور اگر ایوانِ بالا کے انتخاب میں اتنی دھاندلی ہو سکتی ہے تو دیگر انتخابات میں کیا ہوتا ہو گا یہ بھی سامنے آ گیا۔ ہماری تحریک اور مضبوط ہو گئی ہے اور اس میں لانگ مارچ کی اہمیت اب اور بھی بڑھ گئی ہے۔‘
تاہم دوسری جانب وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی عدالت پارلیمانی کارروائی پر فیصلہ دینے کا اختیار نہیں رکھتی اور سینیٹ چیئرمین کا الیکشن بھی پارلیمنٹ کی کارروائی ہے۔ یاد رہے کہ پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کے بارے میں ایک اہم اجلاس چار فروری کو ہوا تھا جس میں پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کے علاوہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، محمود خان اچکزئی اور دیگر رہنما شریک ہوئے تھے۔ اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ ’پورے ملک سے 26 مارچ کو اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔‘ تاہم پی ڈی ایم نے استعفوں سے متعلق کسی بھی فیصلے کو سینیٹ کے انتخابات کے بعد تک ملتوی کر دیا تھا۔
دوسری جانب یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں ناکامی کو پیپلز پارٹی کی شکست بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے موقف کے برعکس پیپلزپارٹی کی قیادت کا یہ خیال تھا کہ سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہے گی اور بلاول بھٹو کا اب بھی یہی اصرار ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہی رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ جو دھاندلی ہوئی وہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے تعلق رکھنے والے پریذائیڈنگ آفیسر سید مظفر علی شاہ نے کی اور اس کا مداوا پاکستانی عدالتیں کریں گی۔
دوسری جانب حکومتی ترجمانوں کا موقف یے کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے گیلانی کی شکست کے بعد ہوا نکل چکی ہے اور گیارہ جماعتی اتحاد میں موجود تین بڑی سیاسی جماعتوں کے مختلف اہداف دکھائی دیتے ہیں۔ اس بارے میں مبشر زیدی کا کہنا تھا کہ ’عوام کے لیے ان کا ہدف ایک ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے مہنگائی کی اور نئے انتخابات کروا کر انھیں گھر بھیجنا ہو گا۔ دوسری جانب سٹیبلشمنٹ بھی اس طرح پھنس چکی ہے کہ کیا وہ ان لوگوں کو دوبارہ لے کر آئیں گے جن کی وہ پشت پناہی کرتے رہے ہیں؟‘ انھوں نے کہا کہ جہاں تک سٹیبلشمنٹ کو سیاست میں گھسیٹنے کی اور ان کی مداخلت کو روکنے کی بات ہے تو ’اس کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے سے ایک سیاسی قوت تصور کی جاتی ہے۔ لہذا اس وقت پی ڈی ایم کے پاس لانگ مارچ کرنے کا ایک آخری آپشن موجود ہے جو کہ صورت حال کو یکسر تبدیل بھی کر سکتا ہے۔
دوسری جانب احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس اس وقت دو بہت ہی واضح راستے ہیں۔ ایک طرف عدالتوں میں سینیٹ انتخاب میں ہونے والی دھاندلی کا معاملہ لے کر جانا اور دوسرا اس دھاندلی اور خفیہ کیمرے ملنے کے نتیجے میں پی ڈی ایم کے مؤقف کو جو تقویت ملی ہے اس کے ذریعے اپنی مہم کو مزید مضبوط کرنا۔ ان کو یقین ہے کہ گیلانی کے کیس میں عدالتیں انصاف کریں گی اور لانگ مارچ کے نتیجے میں کپتان حکومت کا ختم ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button