ایران پر مزید پابندیاں لگائیں گے، حملے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پرمزید سخت پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے حکم پر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا گیا، پیشگی وارننگ سسٹم نے بہترین کام کیا اور عراق میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی حملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے حکم پر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا گیا۔ سلیمانی امریکی مفادات پر حملے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ انہوں نے ہی عراق میں موجود امریکی فوجیوں پر حملے کے احکامات دئیے تھے۔ بغداد کے امریکی سفارت خانے پر حملے کا منصوبہ بھی جنرل قاسم نے ہی ترتیب دیا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ جنرل سلیمانی نے دہشت گرد اور حزب اللہ کو ٹریننگ دی، انھیں بہت پہلے ہی مار دینا چاہیے تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران دنیا میں دہشت گردی کی معاونت کرتا رہا، اس کے روئیے کو ایک حد تک برداشت کیا گیا۔ ایران نے یمن، لبنان، افغانستان اور عراق میں تباہی مچائی۔ ایران نے حالیہ دنوں میں 2 امریکی ڈرون بھی تباہ کیے۔ اب معاملہ برداشت سے باہر ہو چکا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ایران کے ساتھ احمقانہ معاہدہ کیا گیا۔ انھوں نےنیٹو پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنا کردار بڑھائے۔
عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملے کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘عراق میں امریکی اڈوں پر حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور احتیاطی تدابیر کی وجہ سے کسی امریکی اور عراقی کو نقصان نہیں پہنچا۔’ انہوں نے کہا کہ ‘پیشگی وارننگ سسٹم نے بہترین کام کیا، امریکی افواج کسی بھی قسم کے حالات کے لیے تیار ہیں. ایران پستی کی جانب جا رہا ہے جو تمام متعلقہ فریقین اور دنیا کے لیے خوشی کی بات ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘ایران دنیا میں دہشت گردی کی معاونت کرتا رہا ہے اور مہذب دنیا کو خوف زدہ کر تا رہا ہے، قومیں ایران کا مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کا رویہ طویل عرصے سے برداشت کرتی رہی ہیں تاہم اب ایران کو ایسا کچھ نہیں کرنے دیں گے۔’ اب دنیا ایران کو پیغام دے گی کہ اس کی دہشت گردی اب قبول نہیں کی جائے گی۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘ایران نے نہ صرف خطے کو عدم استحکام کا شکار کیا بلکہ اپنے عوام پر بھی سخت اور جابرانہ تسلط قائم کر رکھا ہے، ایران میں حالیہ ہونے والے مظاہروں میں سینکڑوں شہریوں کو قتل کردیا گیا۔’ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوری طور پر اضافی پابندیاں لگانے کا اعلان بھی کیا۔
امریکی صدر نے ایران اور یورپی ممالک کی جوہری ڈیل پر تنقید کرتے ہوئے اسے ناقص قرار دیا ، ان کا کہنا تھا کہ ایران نے یہ ڈیل حال ہی میں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اب ایران کو جوہری اسلحہ بنانے کے لیے تیز اور صاف راستہ مل چکا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو فوری طور پر روکنا اور دہشت گردی کی حمایت کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے اتحادی ممالک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو مل کر ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا ہوگا تاکہ ہم دنیا کو محفوظ اور پرامن بناسکیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی افواج ہرطرح کی صورتحال کے لیے تیار ہیں لیکن اس وقت ایران کو جھکنا ہوگا، موجودہ صورتحال میں ایران نے پیچھے ہٹنے کا اظہار کیا ہے جوکہ تمام متعلقہ فریقین اور دنیا کے لیے بہترین ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب سے انہوں نے صدارت سنبھالی ہے امریکا تیل کی پیداوار کے حوالے سے خود مختار ہوگیا ہے اور اب ہم دنیا بھر میں تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار کے حوالے سے سب سے آگے ہیں اس لیے ہمیں مشرق وسطیٰ کے تیل کی ضرورت نہیں ہے۔
