پاکستان کا ایران امریکہ تنازع میں قیام امن کیلئے کردار ادا کرنے کا فیصلہ

پاکستان نے ایران امریکہ کشیدگی کم کرنے اور قیام امن کیلئے کردار ادا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سعودی عرب، تہران اور واشنگٹن کے دوروں کی ہدایت کردی ہے.
عمران خان نے ٹویٹ میں کہا کہ ‘میں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ریاض اور تہران کے وزرائے خارجہ سمیت امریکا کے سیکریٹری خارجہ سے ملاقات کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ ‘چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ متعلقہ ممالک کے فوجی رہنماؤں سے ملاقات کریں’۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وزیر خارجہ اور آرمی چیف متعلقہ ممالک کو واضح پیغام دیں کہ ‘پاکستان امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اسلام آباد کسی جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔
وزیراعظم عمران خان نے امریکا اور ایران تنازع کے تناظر میں کہا ہے کہ ماضی میں علاقائی تنازعات کی وجہ سے پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا تاہم اب ملک خطے میں کسی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔ عمان کے وزیر برائے اوقاف اور مذہبی امور شیخ عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ السلامی سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے دہرایا کہ ‘پاکستان ہمیشہ امن کے شراکت دار کے طور پر کردار ادا کرتا رہے گا’۔
علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور غیر انسانی لاک ڈاؤن کے نتیجےمیں پیدا ہونے والی انسانیت سوز صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔عمران خان نے عمان کے وزیر برائے اوقاف اور مذہبی امور شیخ عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ السلامی سے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے امیتازی سلوک پر مبنی پالیسی کا تذکرہ بھی کیا۔اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری کو موجودہ صورتحال سے نمٹنے کےلیے فوری اقدامات اٹھانے چاہیے۔خطے کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی کے خاتمہ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ماضی میں علاقائی تنازعات کی وجہ سے پاکستان کو ہونے والے نقصانات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ پاکستان خطہ میں کسی تنازعہ کا حصہ نہیں بنے گا۔وزیراعظم نے اختلافات اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے امریکا اور ایران، ایران اور سعودی عرب کے مابین رابطوں کی سہولت کے لیے اپنی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔عمران خان نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا شراکت دار رہے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی ڈرون حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد تہران نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔علاوہ ازیں ایرانی پاسداران انقلاب نے سخت الفاظ میں امریکا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی اقدام یا جارحیت کے مزید تکلیف دہ اور بھرپور ردعمل دیے جائیں گے۔
