ایم کیو ایم نے اپنا روائتی کارڈ کھیلا ہے یا معاملہ سیریس ہے؟

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کے وزارت سے استعفے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑ گیا ہے کہ کیا اس مرتبہ بھی ایم کیو ایم نے اپنا روائتی پریشر کارڈ کھیلا ہے جسے حرف عام میں بلیک میلنگ کہا جاتا ہے یا اس مرتبہ اسے واقعی حکومت سے آہستہ آہستہ علیحدگی کا اشارہ دیدیا گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ اس مرتبہ بھی ایم کیو ایم کے بہانے اور طریقہ واردات وہی پرانے والے ہیں جن کے بعد وہ منت سماجت کروا کر دوبارہ حکومتی اتحاد کا حصہ بن جاتی ہے۔ تاہم ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی پہلے جیسا ہی کرنا ہوتا تو وفاقی وزیر اسد عمر کے ساتھ خالد مقبول صدیقی کی ملاقات ناکامی پر منتج نہ ہوتی۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ان کے ساتھ حکومت سازی کے وقت جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں ہوئے جس کے بعد ان کا وفاقی کابینہ میں بیٹھنا بے سود ہے۔ تاہم اس تمام تر صورت حال میں ایک شخص جس کا کردار خاصہ مبہم نظر آیا وہ ایم کیو ایم کے ہی سینئر رہنما اور وفاقی وزیر قانون سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم ہیں جو بدستور وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنی قیادت کا مستعفی ہونےکا حکم تسلیم نہیں کیا جس کے بعد خالد مقبول صدیقی نے سرعام یہ کہہ دیا ہے کہ فروغ نسیم ایم کیو ایم کے کھاتے میں وزیر نہیں ہیں بلکہ وہ پی ٹی آئی کے کھاتے میں جا چکے ہیں۔
ایم کیو ایم کی تازہ سیاسی گگلی نے ماضی کی یاد تازہ کردی ہے جب پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس کی اتحادی ایم کیو ایم متعدد بار ناراض ہوکر حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دیتی تھی اور مطالبات تسلیم ہونے اور من پسند وزارتوں کے حصول کے بعد پھر رضامندی کے ساتھ حکومت کا حصہ بن جاتی تھی۔
سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اب صورت حال پہلے کی نسبت کچھ مختلف ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت سے ایم کیو ایم اکیلے ہی نہیں دیگر اتحادی بھی نالاں ہیں جس سے لگتا ہے کہ وہ معمولی اکثریت سے قائم حکومت کا ساتھ چھوڑنے کےلیے پر تول رہے ہیں اور نئے سیاسی سیٹ اپ کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ تاہم ایم کیو ایم کے رہنما ان تمام امکانات کی نفی کرتے ہیں اور اپنی مشہور منطق دانی کے بھر پور استعمال سے صورت حال کی ایسی منظر کشی کررہے ہیں کہ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔
اس حوالے سے ایم کیو ایم کی قیادت نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایم کیو ایم حکومت کے خلاف کسی عدم اعتماد کی تحریک کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ وہ حکومت کے ساتھ قانون سازی کے عمل میں بھی ساتھ کھڑی ہو گی۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ ہم حکومت کے ہر اچھے اقدام کےلیے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔ تاہم کچھ معاملات پر ہماری رائے مختلف بھی ہوتی ہے جیسے میں نے نوازشریف کو باہر بھیجنے کے معاملے پر اسمبلی میں کہا تھا کہ حکومت بیمار شخص پر سیاست نہ کرے اسی طرح زرداری صاحب کی صحت کے معاملے پر بھی بات کی تھی۔ ہمارا اصولی موقف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم حکومتی بنچوں کا حصہ ہے سرکاری بنچوں پر بیٹھیں گے لیکن چونکہ حکومت نے ایم کیو ایم کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کی یاداشتوں پر عمل نہیں کیا جو کہ زیادہ تر کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے تھے تو پارٹی کی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کابینہ سے علیحدگی اختیار کی جائے۔ فروغ نسیم کے بارے میں ایم کیو ایم کی قیادت کا کہنا تھا کہ انہیں عمران خان نے اپنی حکومت بننے کے فوراً بعد خود وزارت قانون کےلیے منتخب کیا تھا اور ان کی وزارت ایم کیو ایم کے مطالبات میں شامل نہیں تھی۔
اس سوال پر کہ اگر اپنی پارٹی کے کابینہ سے علیحدگی کے باوجود فروغ نسیم وزارت نہیں چھوڑتے تو کیا یہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟ ایم کیو ایم کے کنوینر کنور نوید کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے فروغ نسیم کےلیے وزارت نہیں مانگی تھی بلکہ خود وزیراعظم نے انہیں پیش کی تھی اور ایم کیو ایم نے انہیں قبول کرنے کی اجازت دی تھی۔ یہ ایک تکنیکی وزارت ہے جس کا ایم کیو ایم کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔
تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اپنے ماضی کی ریکارڈ کی روشنی میں بہت احتیاط کے ساتھ یہ فیصلہ کرے گی کہ اس نے اپوزیشن کے ساتھ کب جانا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ اگلے کچھ ہفتوں یا مہینوں ایم کیو ایم انتظار کرے گی کہ حکومت کے اقتدار کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور اگر مستقبل قریب میں دیگر حکومتی اتحادیوں یعنی بلوچستان نیشنل پارٹی، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور قاف لیگ نے بھی حکومت سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو پھر ایم کیو ایم بھی باقاعدہ اپوزیشن کے ساتھ چلی جائے گی تاکہ اگلی حکومت میں بھی کابینہ کا حصہ بن سکے۔
