وزیر اعظم کا اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت اتحادی جماعتوں کے تمام تحفظات کو دور کرے گی اور انھیں ہمیشہ ساتھ لے کر چلے گی۔ ایم کیو ایم اہم اتحادی ہے، خالد مقبول صدیقی کو کابینہ میں واپس لائیں گے
وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں امریکا ایران کشیدگی، عالمی حالات اور ملک کی سیاسی ومعاشی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔وفاقی کابینہ نے 16 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا۔ وزارتوں، اداروں اور متعلقہ محکموں کے انتظامی امور پر بھی وزیراعظم کو اجلاس میں بریفنگ دی گئی۔
وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور قانون سازی سے متعلق کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی۔ اجلاس میں پاک سعودی ایئر سروسز کے معاہدے، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا بورڈ میں پروڈکشن کنٹرول کے ممبر اور پاکستان محتسب کراچی سیکرٹریٹ میں انچارج ممبر کی تقرری کی منظوری دی گئی۔فاٹا اور گلگت بلتستان کے 4 فیصد کوٹہ کی تقسیم پر رپورٹ کابینہ کو پیش کی گئی۔ اجلاس میں پی ایس او کے ایم ڈی اور سی ای او کی تقرری کا معاملہ موخر کر دیا گیا جبکہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔ اجلاس میں نئی ایئر لائن ایئر سیال کی لانچنگ کی منظوری بھی دی گئی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے تحفظات پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتوں نے ہر مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیا، انھیں ساتھ لے کر چلیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی حکومت کو بچانے کیلئے وزیراعظم عمران خان نے اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے..وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے ہرحال میں تحفظات دور کریں گے.
دوسری طرف وزیر اعظم نے یکے بعد دیگرے اتحادی جماعتوں کی ناراضگی کے بعد اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے۔ حکومتی کمیٹی کو تمام اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم کے وزارت چھوڑنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم اہم اتحادی ہے، خالد مقبول صدیقی کو کابینہ میں واپس لائیں گے، اتحادیوں کے تمام مطالبات پر پیشرفت ہورہی ہے، حکومتی کمیٹی تمام اتحادیوں سے مسلسل رابطے میں رہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button