این آر او مخالف عمران خان کا گجرات کے چوہدریوں کےلیے NRO


پچھلی ڈھائی برس سے ‘میں چوروں کو این آر او نہیں دوں گا’ کی گردان کرنے والے وزیر اعظم عمران خان نے سیاسی مصلحت اور مجبوری کے تحت اب چوہدری برادران کو اپنے قومی احتساب بیورو سے این آر او دلوا دیا ہے حالانکہ وہ ماضی میں انہیں پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو قرار دیتے رہے ہیں۔

گجرات کے چوہدریوں کو چور اور ڈاکو قرار دینے والے عمران خان نے 2018 میں حکومت بنانے کی خاطر مجبوری میں انہیں شریک اقتدار تو کر لیا تھا اور پرویز الہی کو پنجاب اسمبلی کی سپیکرشپ بھی دے دی تھی لیکن وہ دل سے انہیں قبول کرنے کو کبھی بھی تیار نہ تھے۔ شاید اسی لیے چوھدریوں کے وفاق اور پنجاب حکومتوں میں سانجھے داری کے باوجود عمران خان کے اشاروں پر چلنے والے قومی احتساب بیورو نے نہ صرف چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی کے خلاف پچھلے دو برسوں میں پرانے مقدمات کھول دیے بلکہ نئے کیسز بھی دائر کیے۔ اسی وجہ سے عمران خان اور چوہدری برادران میں پچھلے ڈھائی برسوں کے دوران اعتماد کا رشتہ قائم نہیں ہو سکا اور دونوں ایک دوسرے پر شک کرتے رہے۔ لیکن اب بدلے ہوئے حالات میں جب کہ پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد حکومت مخالف تحریک تیز کر رہا ہے اور قومی اسمبلی میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل عمران خان کا ساتھ چھوڑ چی ہے، کپتان نے چودہریوں کا اعتماد جیتنے کی خاطر ان کا ایک بڑا مطالبہ مانتے ہوئے نیب میں دائر کردہ چوہدری برادران کے خلاف تمام کیسز اور انکوائریاں بند کروا کر انہیں کلین چٹ دے دی ہے۔
صرف یہی نہیں، وزیراعظم عمران خان نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے چودھریوں کا ایک اور مطالبہ پورا کردیا اور قاف لیگ کے سیکرٹری جنرل کامل علی آغا کو سینٹ کے الیکشن میں پی ٹی آئی کا مشترکہ امیدوار بھی بنا دیا ہے۔

یاد رہے کہ قاف لیگ تحریک انصاف کی کلیدی اتحادی ہے جس کی حمایت کے بغیر نہ تو پنجاب میں عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ قائم رہ سکتی ہے اور نہ ہی مرکز میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت۔ لیکن ان دونوں حکومتی اتحادیوں کے مابین پچھلے ڈھائی برس سے اعتماد کا فقدان چل رہا تھا۔ تاہم اب باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ہفتے پہلے لاہور میں چودھری شجاعت کے گھر آمد اور گلے شکووں کے بعد سے وزیر اعظم عمران خان چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور نیب کی جانب سے ق لیگ کی قیادت کے خلاف جاری تمام انکوائریاں اور کیسز بند کرنے کے فیصلے کو اسی حوالے سے دیکھا جانا چاہیے۔ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی مسلسل الزام عائد کرتی چلی آرہی ہیں کہ نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائیرڈ جاوید اقبال وزیر اعظم عمران خان کے ہاتھوں اپنی ایک نازیبا ویڈیو کی وجہ سے بلیک میل ہوتے چلے آرہے ہیں اور احتساب بیورو کے معاملوت میں ویسا ہی کرتے ہیں جیسا کہ کپتان چاہتے ہیں۔ اسے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان بھی اپنے کم دو حالیہ فیصلوں میں نیب کو سیاسی انجینئیرنگ کا حکومتی ادارہ قرار دے چکی ہے۔

قومی احتساب بیورو کے بارے میں یہ رائے بھی عام ہے کہ جب اسے کپتان کی جانب سے کسی سیاستدان کو پکڑنے کا ٹاسک دے دیا جاتا ہے تو یہ بغیر ثبوت بھی اسے گرفتار کر لیتا ہے۔ اسی طرح جب کسی کو نیب کے شکنجے سے نکلوانا ہو تو قومی احتساب بیورو ایک روز اچانک اپنے عائد کردہ تمام الزامات واپس لے لیتا ہے۔ کچھ ایسا ہی چوہدری برادران کے معاملے میں بھی ہوا لگتا ہے۔

یاد رہے کہ 20جنوری 2020 کے روز نیب حکام نے چودھری برادران کے خلاف 20 سال سے کرپشن کے الزامات پر چلنے والے کیسز بند کرنے کا باقاعدہ اعلان عدالت میں کیا۔ یہ اعلان جسٹس صداقت علی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ کے سامنے چوہدری برادران کی چیئرمین نیب کے اختیارات کیخلاف درخواست پر سماعت کے دوران کیا گیا۔ اس موقع پر ڈی جی نیب پنجاب شہزاد سلیم عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ نیب نے چودھری برادران کے خلاف پچھلے بیس برسوں سے جاری انکوائریاں اور کیسز فوری طور پر بند کر دیے ہیں۔ اس سے پہلے چوہدری برادران کے وکیل نے موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ نیب ایک سیاسی انجینئرنگ کا حکومتی ادارہ ہے جسکے کردار، ساکھ اور تحقیقات کے غلط طریقہ کار پر اعلی ترین عدالتیں بھی فیصلے دے چکی ہیں، اسکا کہنا تھا کہ چوہدری خاندان کئی دھائیوں سے سیاست میں ہے۔ اسے ہمیشہ سے مخالفین کے انتقام کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، اور قومی احتساب بیورو میں چوہدری برادران کے خلاف دائر کردہ تمام انکوائریاں اور کیسز بھی سیاسی انتقام پر مبنی ہیں لہذا انہیں فوری طور پر بند کیا جائے۔ وکیل چودھری برادران نے کہا کہ چودھری پرویز الہی کے خلاف بطور وزیر بلدیات کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے مگر کوئی ٹھوس شواہد نہ ملے لیکن اس کے اس کو بند کرنے کی بجائے ان کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کا کیس دائر کر دیا گیا۔

اس موقع نیب کے پراسیکیوٹر اور ڈی جی نیب پنجاب سلیم شہزاد، دونوں نے چودھری برادران کے وکیل کی جانب سے اپنی ادارے پر لگائے گئے سنگین الزامات کو جھٹلانے یا ان کا دفاع کرنے کی بجائے اچھے بچے کا کردار ادا کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ نیب نے چوہدری پرویز الہی اور شجاعت حسین کے خلاف تمام کیسز اور انکوائریاں بند کرنے کا فیصلہ کیا یے۔ چنانچہ عدالت نے نیب کی جانب سے انکوائری بند کرنے کے اعلان پر چودھری برادران کی دائر کردہ درخواست نمٹا دی۔ یاد رہے کہ عدالت عالیہ میں درخواست گزار چوہدری برادران نے مؤقف اپنایا تھا کہ نیب ایک سیاسی انجینیئرنگ کرنے والا ادارہ ہے، جسکے چیئرمین نے اب ایک 20 سال پرانے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جسے کہ بند کیا جا چکا تھا۔ انکا موقف تھا کہ نیب نے 20 سال قبل انکے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کی مکمل تحقیقات کیں مگر ناکام ہوا اور کیس بند کر دیا، انہوں نے درخواست میں کہا تھا کہ حالانکہ چیئرمین نیب کو 20 سال پرانی بند کی جانے والی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں تھا، لیکن اس نے پھر بھی ایسا کیا کیونکہ وہ چوہدری برادران کو دباؤ میں لانا چاہتا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ نیب نے اس کے علاوہ بھی ان کے خاندان کے خلاف کئی انکوائریاں کیں لیکن انہیں کسی بھی ادارے سے کرپشن کے کوئی ثبوت نہ مل سکے لیکن نہ تو انکوائریاں بند کی گئیں اور نہ ہی کیسز کو بند کیا گیا۔

عدالت میں دائر درخواست کے مطابق چوہدری برادران کے خلاف انکوائری کو انویسٹی گیشن میں اپ گریڈ کرنا غیر قانونی عمل تھا، مزید یہ کہ نیب تفتیش نامعلوم افراد کی درخواست پر شروع کی گئی۔
درخواست کے مطابق شواہد کے حصول کے لیے درخواست گزاروں کے گھروں کی بھی تلاشی لی گئی مگر کچھ بھی نہیں ملا، لہٰذا نیب کا 20 برس پرانے آمدن سے زائد اثاثہ جات معاملے کی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اقدام غیرقانونی قرار دیا جائے۔ خیال رہے کہ 6 مئی 2020 کو چوہدری برادران نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کے اختیارات کے غلط استعمال اور اپنے خلاف 20 سالہ پرانی 3 تحقیقات کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ میں اپنے وکیل امجد پرویز کے توسط سے دائر کی گئیں 3 ایک جیسی درخواستوں میں مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں نے مؤقف اپنایا تھا کہ سال 2000 میں مذکورہ بیورو کے چیئرمین نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت درخواست گزاروں کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال، آمدن سے زائد اثاثے سے متعلق انکوائریز کی منظوری دی کیونکہ اسے ایسا کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔

اب سے کچھ عرصہ پہلے تک چوہدری برادران آف دی ریکارڈ یہ الزام لگایا کرتے تھے کہ نیب کے ادارے کو وزیراعظم عمران خان خود چلا رہے ہیں اور جسٹس جاوید اقبال ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں اور اسی لیے نی صرف انکے خلاف کرپشن کے نئے کیسز بنائے جا رہے ہیں بلکہ پرانے کیسز کو بھی کھولا جا رہا ہے۔ تاہم اب بدلے ہوئے حالات میں وزیراعظم عمران خان نے چوہدری برادران کا اعتماد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے خلاف تمام کیسز اور انکوائریاں بند کروانے کے علاوہ انہیں سینیٹ کی ایک سیٹ بھی عطا کردی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چودھری اور کپتان کی یہ ضرورت کی محبت کتنا عرصہ قائم رہتی ہے؟ا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button