اے لیول کے امتحانات ضروری ہیں یا طلبہ کی جانیں بچانا؟

پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا کے آغاز سے ہی پاکستانی طلبہ اور وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کے مابین رشتے میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے۔ ایک موقع تو ایسا بھی آیا جب پاکستانی طلبہ انھیں بار بار چھٹیاں دینے کی وجہ سے خوش ہو کر وزیِر اعظم کے عہدے پر فائز دیکھنا چاہتے تھے، لیکن اب یہ تعلق خرابی کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ بری طرح پھیلتی ہوئی کرونا وبا کے باوجود وزیر تعلیم او لیول کے امتحانات کروانے پر مصر ہیں اور بچوں کو چھٹیاں دینے پر آمادہ نہیں۔
ملک میں جہاں ایک طرف کرونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران نئے مریضوں اور اموات میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے وہیں دوسری جانب ملک میں اے لیولز کے امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق 26 اپریل سے شروع ہوگے ہیں۔ ان امتحانات کو ملتوی کروانے کے لیے حالیہ کچھ مہینوں کے دوران طلبہ کی جانب سے احتجاج، عدالتوں میں درخواستوں سے لے کر سوشل میڈیا پر آئے دن بحث چلتی آئی ہے، تاہم وزیرِ تعلیم شفقت محمود مصر رہے کہ یہ امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے اور اب ایسا ہی ہو رہا ہے۔ تاہم طلبا کو خدشہ ہے کہ کرونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران بنائے گئے امتحانات کے ہالز میں ایس او پیز پر عمل درآمد صرف دکھاوے کی حد تک ہے اور ہزاروں طلبا کو ایک ایک ساتھ بیٹھ کر امتحان دینے ہر مجبور کیا جا رہا ہے جو ان کی صحت کے لیے خطرات کے ساتھ ذہنی اذیت کا باعث بھی ہے۔
رواں برس اپریل کے آغاز میں حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ میٹرک اور ایف اے ایف ایس سی سے لے کر کیمبرج تک، کسی بھی طالبِ علم کو امتحانات دیے بغیر اگلی جماعت میں پروموٹ نہیں کیا جائِے گا۔ اُس وقت وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا تھا کہ امتحانات سے متعلق فیصلے حتمی ہیں اور اس فیصلے کو تبدیل نہیں کیا جائے گا لہٰذا کسی کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے بعد پاکستان میں کرونا وبا کی صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی اور حالیہ ہفتوں میں اس موذی وائرس سے ریکارڈ متاثرین اور اموات ہوئیں۔ صورتحال اتنی بگڑ گئی ہے کہ حکومت کی جانب سے ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے فوج بلانے سے لے کر مکمل لاک ڈاؤن لگانے کا عندیہ بھی دیا گیا۔ یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ اسی دوران خطے کے دیگر ممالک میں، جن میں انڈیا کے علاوہ نیپال اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں، کرونا کی صورتحال کے مدِنظر امتحانات کو منسوخ یا ملتوی کرنے اور طلبا کو اساتذہ کی جانب سے گریڈ دینے کا فیصلہ کیا۔ لہازا توقع کی جا رہی تھی کہ اس موذی وائرس کی موجودہ صورت حال میں دیگر ممالک کی طرح پاکستانی طلبا کے امتحان بھی موخر یا ملتوی کر دیے جائیں گے۔ تاہم ایسا نہیں ہوا۔
اس دوران طلبہ کی جانب سے احتجاج، عدالتوں میں درخواستوں سے لے کر سوشل میڈیا پر آئے دن بحث چلتی رہی اور شوبز سے لے کر سماجی کارکنان اور صحافیوں کے علاوہ کئی حکومتی وزرا و وزیرِ اعلیٰ بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا، تاہم حکومت وقت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور اے لیول کے امتحانات مقررہ شیڈول پر ہو گے۔ یاد رہے اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے بھی او اور اے لیول کے امتحانات ملتوی کرانے سے متعلق دائر درخواستیں مسترد کردیں تھیں۔ اے لیول کی طالبہ عرشیہ حسین کا کہنا ہے کہ اگرچہ طلبا کی اکثریت کرونا وائرس اور بڑھتی ہوئی یومیہ اموات کے ڈر سے امتحان میں نہیں بیٹھنا چاہتے تھے لیکن حکمرانوں نے امتحانات کو طلباء کی جانوں سے زیادہ ضروری سمجھا۔ انکا کہنا ہے کہ ویسے بھی یہ سال پڑھائی کے حساب سے ہمارے لیے اچھا نہیں رہا۔ کرونا اور دیگر وجوہات کے باعث کبھی کلاسیں آن لائن ہوئی تو کبھی سکول میں۔ ہم سلیبس تک مکمل نہیں کر پائے اور مکمل دلجوئی سے تعلیم ہر توجہ مرکوز نہیں کر سکے۔ میری طرح میرے باقی ساتھی بھی کرونا سے ڈرے ہوئے ہیں اور اپنی صحت کو لے کر پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ ہمیں امتحان دینے سے ڈر لگتا ہے، ہم بچپن سے آج تک ہر سال امتحان ہی دیتے آئے ہیں نا۔۔ لیکن میں کرونا وائرس سے واقعی ڈرتی ہوں۔‘ عرشیہ نے بتایا کہ انھوں نے گذشتہ برس اکتوبر کے امتحانات بھی دیے تھے اور انھیں اچھی طرح یاد ہے کہ اس کمرہ امتحان میں سینکڑوں طلبا ایک ساتھ تھے اور ایس او پیز پر کتنا عمل درآمد ہو رہا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ انکے درجنوں طالب علم ساتھیوں کو امتحان کے دوران اور بعد میں کرونا وائرس نے قابو کر لیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ اب تو صورتحال بہت ہی خراب ہو گئی ہے اور پاکستان میں بھی انڈیا کی طرح ہسپتال میں بستروں کی کمی سے لے کر آکسیجن سپلائی کے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ کیمبرج کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایس او پیز کا خیال رکھا جائے گا لیکن 400-500 طلبا والے میرج ہالز میں وہ کس حد تک ایس او پیز پر عمل درآمد کروا سکتے ہیں جن میں آخری حد تک طلبا بھرے ہوئے ہیں؟ ہمارا کرونا وائرس سے کسی نہ کسی صورت تو رابطہ ہو گا نا؟‘
ایک اور طالبعلم بلال بخش کا کہنا تھا کہ ان حالات میں امتحان دینا بہت خطرناک ہے اور خاص کر اس صورت میں جب آپ کے گھر میں بڑی عمر کے افراد موجود ہوں جنھیں کرونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہے۔ بلال کو یہ بھی خدشہ ہے کہ جس وقت ساری دنیا کے طلبا کو ان کے اساتذہ کی جانب سے گریڈنگ دی جائے گی اور اس سلسلے میں نرمی کا مظاہرہ کیا گا تب پاکستانی طلبا کو امتحانات میں بٹھایا جا رہا ہے، اس عمل کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جب ہم سب کالجوں میں اپلائی کر رہے ہوں گے تب پاکستانی طلبا، بنگلہ دیش اور انڈیا کے طلبا سے پیچھے رہ جائیں گے۔
موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ان امتحانات کو ملتوی یا کینسل کیوں نہیں کیا جا سکا، اس بارے میں وفاقی وزیِر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک کا تعلق تعلیم سے ہے اور دوسری کا صحت سے۔ تعلیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’سارے پاکستان کے وزرائے تعلیم نے محسوس کیا کہ گذشتہ برس جب ہم نے اساتذہ کی جانب سے دے جانے والا گریڈنگ کا نظام اپنایا تھا تو اس میں بہت سی شکایات ملیں اور ایسی گریڈنگ کی گئی کہ کچھ جگہ سب کو بہت اعلیٰ گریڈ دیے گئے جبکہ کچھ جگہ نارمل گریڈنگ کی گئی جس کے بعد کیمرج نے انھیں اور کم کر دیا جس کے بعد ایک نیا تماشہ کھڑا ہو گیا۔۔۔ لہٰذا سارے وزرائے تعلیم کا خیال تھا کہ ایک ساتھ دو برس تک یہ گریڈنگ کا یہ نظام نہیں اپنانا چاہیے۔‘ صحت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم صحت کے ماہرین نہیں ہیں، ہمیں جب محکمہ صحت کی جانب سے سکول بند کرنے کا کہا جاتا ہے تو ہمارے دل چاہے نہ چاہے، ہم انہیں بند کر دیتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا ’ہمیں محکمہ صحت کی جانب سے ایڈوائس دی گئی تھی کہ کیمرج کا امتحان لو والیوم یعنی کم طلبا والا ہے، اس لیے یہ امتحان منعقد ہو سکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہمیں برٹش کونسل نے بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ کرونا ایس اور پیز پر عمل درآمد کیا جائے گا اسی لیے ہم نے امتحان لینے کہ اجازت دی ہے۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر امتحانات کے مراکز کے جو تصاویر شئیر کی جا رہی ہیں وہ سب فیک ہیں۔
شفقت محمود نے بتایا کہ کرونا وائرس کے باعث ان کی والدہ وفات پا گئیں، اور ان کا سارا خاندان کرونا کا شکار ہوا۔۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ مجھے فکر نہیں ہے۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ’میرا کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے، میرے اپنے پوتے پوتیاں اے لیول کا امتحان دے رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف میرا فیصلہ نہیں، پاکستان کے تمام وزارئے تعلیم کا متفقہ فیصلہ ہے۔۔ میں نے ہمیشہ سارے فیصلے بچوں کے مستقبل کو مدِنظر رکھ کر کیے ہیں۔ کبھی ان فیصلوں کی وجہ سے میں مقبول ہو جاتا ہوں اور کبھی طلبا ناراض ہو جاتے ہیں۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں اے اور لیول کے طبا کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان پر بڑا افسوس ہے۔‘
شفقت کا کہنا تھا جو بچے صحت کے حوالے سے زیادہ پریشان ہیں وہ اگلے سائیکل میں امتحان دے سکتے ہیں جو ستمبر اکتوبر میں منعقد ہوں گے اور ان سے کوئی اضافی فیس نہیں لی جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس پالیسی کا اطلاق کیمرج کے بقیہ امتحانات پر بھی ہو گا؟ اس کے جواب میں شفقت محمود کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار محمکہ صحت پر ہے۔ ’اگرکسی بھی محلے پر ہمیں محمکمہ صحت کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے کرونا وائرس پھیل رہا ہے اور خطرے کے باعث امتحانات روکنے کا کہنا جاتا ہے تو ہم امتحانات کے مراکز بند کر دیں گے۔‘
