بشریٰ انصاری کا بدزبانی پر اظہار شرمندگی، معافی مانگ لی


30 جون 2020 کے روز اپنی زندگی کی کہانی پر بنائی گئی ڈرامہ سیریل زیبائش پر تنقید کرنے والوں کو معاشرے کا کرونا اور پینڈو قرار دینے پر شدید عوامی تنقید کا سامنا کرنے کے بعد بشریٰ انصاری نے بالآخر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے۔ تاہم اداکارہ نے معافی نامے میں نہ تو اپنی ناقد لبنیٰ فریاد کا ذکر کیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ وہ کس سے معافی مانگ رہی ہیں۔
یاد رہے کہ معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے ڈرامہ سیریل زیبائش کی کہانی اور کاسٹ کو ہدف تنقید بنانے پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ایک پوسٹ میں ناقدین کیلئے ’چیپ‘، ’شیلو‘ اور ’لو کلاس‘ جیسے انگریزی الفاظ استعمال کرتے ہوئے ناقدین کو پنجابی میں ’پینڈو‘ بھی کہا اور لکھا کہ اب کیا ’یہ لوگ ہمارے ڈراموں پر تنقید کریں گے؟
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی ڈراموں پر تنقید کرنے والوں کو ’کرونا‘ کہنے پر صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا جبکہ اداکارہ مشی خان نے بشریٰ انصاری کو ایسے تبصرے پر جاہل قرار دے دیا تھا۔ بشریٰ کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار لبنی فریاد نامی خاتون کی ویڈیو پر کیا گیا تھا۔ انسٹاگرام پر لبنی فریاد نے اپنے وی لاگ میں پاکستانی ڈراموں پر سخت لہجے میں تنقید کی اور ڈرامہ سیریل زیبائش کا رگڑا نکالا جس کے پروڈیوسر بشریٰ کے دوسرے خاوند اقبال حسین ہیں۔ بشریٰ انصاری نے اپنی تنقید کا جواب دیتے ہوئے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ڈراموں پر کیا برا وقت آ گیا ہے کہ یہ لوگ جو بھی دل میں آئے گا بول دیں گے، یہ ہمارے فنکاروں کے کری ایٹو کام کے خلاف یونہی بولتے رہیں گے؟ ان کا اس فیلڈ میں معیار کیا ہے؟ مجھے سمجھ نہیں آتی، لوگ ان کا کھوکھلا پینڈو سٹائل دیکھتے ہی کیوں ہیں؟ انھوں نے مزید لکھا کہ لوگوں کی عزت پامال کرنا ایک گناہ ہے، یہ سستے تبصرے بالکل غیر معیاری ہیں۔ کسی کو کوئی ڈرامہ پسند نہیں تو وہ نہ دیکھے لیکن اس پر ’گٹر لیول‘ کے تبصروں سے باز رہے۔
بشریٰ انصاری نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا: ’اللہ انہیں عقل دے اور عزت کی روٹی نصیب کرے۔ لوگوں کے مستقبل کو تباہ کرکے آمدنی کمانا حرام ہے انھوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ ہماری زندگیوں میں کرونا ہیں، انشاللہ خدا انہیں بھی ختم کر دے گا۔ بشریٰ انصاری نے لکھا کہ ’جب لوگوں کے پاس کرنے کو کچھ نہ ہو تو وہ ان لوگوں سے حسد کرنا اور اپنے جاہل ہونے کا ثبوت دینا شروع کر دیتے ہیں جو اپنی فیلڈ میں کچھ کررہے ہوں۔‘ واضح رہے کہ ‘اماں ٹی وی اور میں‘ نامی آن لائن شو میں ڈراما سیریل ‘زیبائش’ کے ریویو میں بشریٰ انصاری کے ڈرامے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مومن علی منشی اور ان کی والدہ لبنیٰ فریاد کی جانب سے مختلف ڈراموں کے ریویوز میں اداکاروں کے کام کی ستائش یا تنقید کی جاتی ہے۔ حال ہی میں اس آن لائن شو میں ڈراما زیبائش میں زارا نور عباس اور اسما عباس کی اداکاری کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
بشریٰ انصاری نے اپنے تحریر کردہ ڈرامے پر ہونے والی تنقید پرشدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر سخت کمنٹس پوسٹ کیا، جسے بعد ازاں ڈیلیٹ کردیا گیا۔ تاہم جب انہوں نے یہ پوسٹ ڈیلیٹ کی تب تک اس کے سکرین شاٹس پھیل چکے تھے۔ بشریٰ انصاری کے ریمارکس پر سوشل میڈیا صارفین نے اداکارہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے معافی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
تاہم اب بشریٰ انساری نے اپنے جملوں پر معافی مانگ لی ہے لیکن انہوں نے براہ راست لبنیٰ سے معذرت نہیں کی۔ بشریٰ نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں معافی نامہ لکھتے ہوئے اسے کرونا کی وبا سے جوڑتے ہوئے دنیا اور پاکستان میں پھیلی ہوئی وبا پر بات کی اور کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہر کوئی محنت سے کام کر رہا ہے اور اگر ایسی مشکل گھڑی میں محنت سے ہونے والے کام پر تنقید ہوگی تو ہر کسی کو برا لگے گا۔ انہوں نے لکھا کہ آرٹسٹ کے لیے کوئی بھی منصوبہ اس کے بچےکی طرح ہوتا ہے، جس پر وہ بڑی محنت سے دن رات کام کرتا ہے اور اگر اس آرٹسٹ کے اسی منصوبے پر تنقید کی جائے تو اسے دکھ ضرور ہوگا۔ بشریٰ انصاری نے لکھا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ ہر کسی کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، تاہم اس حوالے سے زبان کی بہت بڑی اہمیت ہے اور ہم اپنے ہر لفظ کے ذمہ دار خود ہیں۔ اپنی حالیہ پوسٹ میں انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ ہفتے انہوں نے انسٹاگرام پر انتہائی سخت زبان کا استعمال کیا اور انہیں موقع پر ہی اس کا حساس ہوگیا تھا، جس وجہ سے انہوں نے اپنے کمنٹس ڈیلیٹ کردیے۔ بشریٰ انصاری نے لکھا کہ تاہم یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، اس وجہ سے ان کی کہی گئی بات تماشا بن گئی اور وہ جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ تاہم وہ اپنے کہے گئے الفاظ پر معذرت خواہ ہیں۔
واضح رہے کہ ڈرامہ سیریل ’زیبائش‘ میں بشریٰ انصاری سمیت ان کی بھانجی زارا نور، داماد اسد صدیقی اور ان کی بہن اسما عباسی اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں جس کو ناظرین پہلے ہی بشری انصاری کا ’فیملی ڈرامہ‘ قرار دے چکے ہیں۔ حال ہی میں اس ڈرامے کی ایک قسط میں والد کے انتقال کے سین میں زارا عباسی نے ایسی چیخیں ماری جس پر سوشل میڈیا پر متعدد میمز بنے۔ یہ سین وائرل ہونے کے بعد لبنی فریاد نے ایک وی لاگ میں زارا عباسی کے چیخیں مارنے والے انداز کی نقل اتاری اور حال میں چلنے والے پاکستانی ڈراموں پر بھی تنقید کی تھی۔ اس پر بشری انصاری سیخ پا ہوگئیں تھیں اور کمنٹ میں سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چند نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے تھے جس پر اب انھوں نے معافی مانگ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button