بلوچستان: بارشوں ، سیلاب سے 10 ڈیموں میں شگاف پڑ گیا

بلوچستان میں موسلا دھار بارشوں اور اس سے پیدا ہونیوالی سیلابی صورتحال کے سبب کم ازکم 10 ڈیموں میں شگاف پڑ گئے ہیں جبکہ صوبائی حکام نے عوام کو ڈیموں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق شمالی بلوچستان کے کئی اضلاع میں صورت حال ابتر ہوتی جا رہی ہے جہاں مختلف پہاڑی علاقوں سے آنے والے پانی کے طوفان کی وجہ سے ڈیموں پر شدید دباؤ آ گیا ہے، ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب میں تال ڈیم میں ہفتہ کے روز شدید بارش کے بعد سیلاب آ گیا، پانی بستیوں میں داخل ہوگیا جبکہ گھروں اور کھجور کے باغات کو نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق مقامی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کردیا، حکام کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم ہوشاب میں ایک وسیع زمین زیرآب آگئی ہے، دیگر اضلاع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قلعہ سیف اللہ، ٹوبہ اچکزئی، قلعہ عبداللہ، چمن، مسلم باغ، پشین اور ہرنائی کے اضلاع میں ڈیموں نے راستہ بنا لیا یا بند میں شگاف ڈال دیا۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ افغان سرحد کے قریب صرف ٹوبہ اچکزئی کے علاقے میں چار ڈیم گر گئے، پشین میں خوشدل خان ڈیم بھی خطرے میں ہے کیونکہ کیچمنٹ کے علاقوں سے مسلسل سیلابی پانی وہاں آرہا ہے، نوآبادیاتی دور میں تعمیر کیے گئے ڈیم کے اسپل ویز کو پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے کھول دیا گیا تھا، تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ڈیم میں اب تک کوئی شگاف نہیں پڑا ہے اور اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔

رپورٹ کے میں بتایا گیا ہے کہ تربت میں میرانی ڈیم، گوادر میں انکرہ ڈیم اور پسنی میں شادی کُر ڈیم بھی موسمی راستوں سے نیچے کی طرف جانے والے سیلابی پانی کو جمع کر کے بھر گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نےصورتحال کے پیش نظر محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ حکام کو ڈیموں کی صورتحال پر نظر رکھنے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے مشینری اور عملہ تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے چیف سیکریٹری کو بہہ جانے یا خراب ہو جانے والے ڈیموں کی تعمیر میں ناقص میٹریل کے استعمال کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔

دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے ایک نئی وارننگ میں خبردار کیا ہے کہ شمالی، وسطی اور جنوبی بلوچستان میں مون سون بارشوں کا سلسلہ مزید چند روز تک جاری رہے گا جس سے موسمی ندیوں اور ندی نالوں میں طغیانی آئے گی، ہفتہ کو جاری ہونے والی پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران بارش سے متعلقہ حادثات میں اب تک خواتین اور بچوں سمیت 45 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں،ایک اہلکار نے بتایا کہ 700 سے زائد مکانات تباہ ہو گئے ہیں جبکہ کئی پل اور رابطہ سڑکیں سیلاب میں بہہ گئی ہیں۔

حکام کی جانب سے جمعہ کو لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہونے والے کوئٹہ قندھار روڈ پتھر اور مٹی ہٹانے کے بعد ہفتے کو ہر قسم کی ٹریفک بحال کر دی گئی۔

کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے ہفتہ کو کوئٹہ میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہیں صوبے میں سیلاب کی صورتحال اور مختلف اداروں کی جانب سے جاری امدادی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

Back to top button