بچت اسکیموں کےلیے بھی بائیومیٹرک اسکریننگ ہوگی

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط پر عمل درآمد کےلیے حکومت نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معالی معاونت کی روک تھام کیلئے صارفین پر بچت اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کےلیے بائیو میٹرک تصدیق اور اسکریننگ کو لازمی قرار دے دیا ۔
ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل درآمد کےلیے حکومت کی جانب سے نئی حکومت عملی اپنائی گئی ہے۔ قومی بچت اسکيموں کے ذريعے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات کے باعث حکومت نے صارفين کی بائيو ميٹرک تصديق اور اسکريننگ کرانے کا فيصلہ کيا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اقوام متحدہ کی فہرست کے تحت ممنوعہ افراد کی نشاندہی ہے۔
ایشیا پیسیفک گروپ نے حال ہی میں شائع ہونے والی باہمی تشخیصی رپورٹ میں سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگس (سی ڈی این ایس) میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی جس کی وجہ سے مجموعی درجہ بندی متاثر ہوئی تھی۔ ایف اے ٹی ایف چاہتا ہے کہ پاکستان قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کا سراغ لگائے اور ان کی شناخت کرے۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو سفارشات عمل در آمد کی فہرست فراہم کرتے ہوئے فروری 2020 تک گرے لسٹ میں رہنے کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔
فنانس ڈویژن نے نیشنل سیونگز اسکیم (اے ایم ایل-سی ایف ٹی) قواعد 2019 کے نفاذ کے بعد سے اے ایم ایل-سی ایف ٹی پر عمل در آمد کرنے والے بینکوں سے نیلامی کے ذریعے سی ڈی این ایس کی تمام ضروری تربیت اپنے ملازمین کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مشاورت کے تحت دلچسپی رکھنے والے بینک سے کے وائی سی (اپنے صارف کو جانیں) کی مہم پر عمل کرنے اور اور سی ڈی این ایس کے نئے و موجودہ صارفین کی دیگر ضروریات بھی طلب کرلی گئی ہیں۔ اس میں بائیو میٹرک تصدیق اور اقوام متحدہ کے ممنوعہ افراد کی فہرست میں آنے والے صارفین کی جانچ پڑتال شامل ہے۔
اس وقت سی ڈی این ایس 70 لاکھ سرمایہ کاروں کے 40 کھرب 38 ارب روپے سنبھال رہا ہے۔ نیشنل سیونگز اسکیم معاشرے کے تمام افراد بالخصوص ضعیف العمر شہری، پینشن لینے والوں، بیواؤں، معذور افراد اور شہیدوں کے اہل خانہ کو خدشات سے پاک سرمایہ کاری کا موقع فراہم کررہا ہے۔
تاہم ، یہ مجموعی مالی خسارے کو دور کرنے کےلیے حکومت پاکستان کو ایک مہنگائی سے پاک اور لاگت سے متعلق مؤثر قرض فراہم کرتا ہے جو بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرتا ہے، مقامی قرضوں میں سے 19 فیصد قومی بچت اسکیموں پر مشتمل ہے جبکہ یہ ذخائر شیڈول بینک کی کل جمع رقم کے 28 فیصد کے برابر ہیں۔
اس کے علاوہ سی ڈی این ایس کے تقریباً 33 فیصد کے ذخائر فلاحی اسکیموں میں ہیں جو دیگر عام بچت اسکیموں سے زیادہ کے منافع سے 2 فیصد اضافی شرح پر منافع فراہم کرتے ہیں۔
فی الوقت سی ڈی این ایس کے سامنے ایک اہم چیلنج اس کے ہاتھ سے کیے گئے آپریشنز اور قومی بچت مراکز (این ایس سی) میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمی ہے جس کےلیے 2013 کے بعد سے اب تک آٹومیشن کے 2 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں۔
ان منصوبوں کے ذریعے 223 این ایس سی ، جو کل 376 مراکز میں سے 60 فیصد ہیں کو کامیابی کے ساتھ خودکار بنایا جاچکا ہے جب کہ دیگر 153 کا آٹومیشن کا کام برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ برائے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (ڈی ایف آئی ڈی) کے تعاون سے جاری ہے۔
