بھارتی فوج کو افسران کی کمی کا سامنا

بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل منوج موکند نرونے کا کہنا ہے کہ انڈین فوج میں افسران کی کمی اب بھی برقرار ہے۔ تاہم بھارتی آرمی چیف کے مطابق افسران کی کمی اس لیے نہیں ہے کہ بھرتیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ فوج نے افسران کے انتخاب کے اپنے معیار کو نیچے نہیں کیا ہے۔
انڈین فوجبھارتی فوج کے سربراہ نے کہا کہ وہ انڈین فوج میں تعداد پر معیار کو ترجیح دیں گے۔تاہم سوشل میڈیا پر جنرل منوج کے اس بیان پر بہت بات ہو رہی ہے۔ کئی سابق فوجی افسران نے ان کے اس بیان کو سراہا ہے۔ اگست 2018میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا تھا کہ انڈین وزارت دفاع کے مطابق یکم جنوری 2018 تک انڈین فوج کے پاس 42ہزار سے زیادہ افسران تھے جبکہ 7298 افسران کی کمی تھی۔ اس کے ایک سال بعد خبر سامنے آئی کہ یہ تعداد بڑھ کر 7399 ہو گئی۔ یعنی بھارتی فوج میں لیفٹیننٹ یا اس سے اوپر کے عہدوں کے لیے جتنے افسران کی ضرورت ہے ان میں 100 افسران کی مزید کمی ہوگئی۔بھارت کی بحری اور فضائی افواج میں بھی افسران کی کمی ہے۔ تاہم بّری فوج میں افسران کی کمی اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔

بی بی سیبھارتی فوج میں افسر بننے کے لیے دیے جانے والے امتحان میں ناکام رہے افراد بتاتے ہیں کہ جب ایس ایس بی یعنی سروس سلیکشن بورڈ کی جانب سے نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے تو درخواست گزاروں کا حوصلہ قائم رکھنے کے لیے بورڈ کے افراد انھیں بتاتے ہیں کہ امیتابھ بچن، راہل ڈراوڈ اور انڈیا کے سابق صدر عبدالکلام نے بھی یہ امتحان دیا تھا، لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکے تھے، اس لیے دل چھوٹا نہ کریں۔
ایس ایس بی امتحان دینے والے ہر شخص کے اکیڈیمک ریکارڈ کے علاوہ اس کی لکھنے کی صلاحیت، بحث کے طریقے، ٹیم میں کام کرنے کی لیاقت، دلائل کے استعمال اور فیصلہ کرنے کی اہلیت کو بھی پرکھا جاتا ہے۔

انڈین فوجبھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسر اور اپنے ملک میں کارگل کی جنگ کے ’ہیرو‘ کے طور پر مشہور میجر ڈی پی سنگھ نے فوجی سربراہ کے بیان کے بعد ٹویٹ کیا کہ ’ایس ایس بی میں بیشتر افراد اس لیے فیل ہو جاتے ہیں کہ ان میں احساسِ ذمہ داری کی کمی ہوتی ہے۔تو کیا یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ بھارتی فوج کے لیے قابل افراد کی انڈیا میں کمی ہو گئی ہے یا وجہ کوئی اور ہے؟ جبکہ سوال یہ بھی ہے کہ فوج میں افسران کی کمی کے باعث زمین پر تعینات اہلکاروں پر کام کا بوجھ کتنا بڑھ جاتا ہے؟ کیا فوج کی کارکردگی پر اس کا کوئی اثر پڑتا ہے؟ اور کن وجوہات کے باعث انڈین فوج میں افسران کی کمی کو پورا نہیں کیا جا سکا ہے؟
ان سوالات کے بارے میں 1971 سے 1990 کی دہائی تک بھارتی فوج کی متعدد اہم کارروائیوں کی قیادت کرنے والے سابق لیفٹیننٹ جنرل شنکر پرساد، اور فوجی حکمت عملی کے ماہر اور سینئر صحافی اجے شکلا نے کہا کہ زمینی، فضائی اور بحری افواج کو ملاکر بھارت کے پاس کل چودہ لاکھ فوجی ہیں جن میں بیشتر فوجی شمال مغرب میں پاکستان اور شمال مشرق میں چین کے ساتھ بارڈر پر تعینات ہیں۔فوج میں افسران کی کمی کی جو بات ہے اس پر ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بحث ہو رہی ہے۔افسران کی کمی جونیئر سطح پر ہے، جیسے لیفٹیننٹ، کیپٹن اور میجر۔ یہ وہ عہدے ہیں جو بھارتی فوج میں فرنٹ لائن کی طاقت کہے جاتے ہیں اور کسی بھی جنگ کے دوران مورچہ سنبھالتے ہیں۔یہ وہ افسران ہوتے ہیں جو میدان جنگ میں پلاٹون یا کمپنی کی قیادت کرتے ہیں۔ یہ نہ ہوں تو اعلی فوجی حکام کو جی سی او رینک کے اہلکاروں کو ذمہ داری سونپنا پڑتی ہے جس کے نتائج اچھے نہیں نکلتے۔تصور کیجیے کہ بٹالین میں بیس افسروں کی جگہ ہے لیکن سروس میں صرف 13 یا 15 افسر ہی رہ جاتے ہیں، تو انھیں ہی بیس افسران کا کام کرنا پڑتا ہے۔
مثال کے طور پر کشمیر، سیاچن اور شمال مشرقی انڈیا کے علاقوں میں افسر کے بغیر رات کا گشت نہیں ہوتا کیونکہ قاعدے کے مطابق گشت کرنے والی پارٹی کی قیادت ایک افسر ہی کر سکتا ہے۔ یعنی اب اسے ان افسران کی ڈیوٹی بھی کرنا ہے جو اس کی بٹالین میں کم ہے۔اس مزید کام کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایک افسر جو تیس دن میں پندرہ دن اپنے بستر پر سو سکتا تھا، وہ صرف سات یا دس دن ہی سو پاتا ہے۔ اس سے ان پر ذہنی اور جسمانی دباؤ پڑتا ہے۔فوجی سربراہ نے یہ بالکل صحیح کہا کہ افسران کے انتخاب کا معیار کم نہیں کیا جا سکتا۔
فوج سے متعلق کوئی بھی شخص اس بات پر متفق ہوگا کہ اگر انتخاب کا معیار گرایا گیا تو جونیئر سطح پر فوج کی سربراہی کمزور پڑ جائے گی اور اس کے کمزور فیصلوں سے فوج اور ملک کی بدنامی ہو سکتی ہے۔اس لیے بہترین افراد کے انتخاب کے لیے اگر یہ کمی برقرار رہے تو بھی فکر کی بات نہیں ہے ۔ ملک میں بڑے ذہین نوجوان ہیں جو فوج کے لیے زبردست ثابت ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button