سردیوں کی سوغات کینو اور اس کی پیداوار

موسم سرما شروع ہوتے ہی جہاں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں وہیں اللہ اپنی قدرت کے خزانے سے بے شمار پھل، سبزیاں اورمیوے سردیوں کی سوغات کی شکل میں مہیا فرماتا ہے۔ تاکہ ہم ان سے بھرپور طریقے سے استفادہ کرسکیں۔ کینو کا شمار بھی موسم سرما کے ایسے ہی پھلوں میں ہوتا ہے، جس کا جوس ہو یا پھانکیں، حتیٰ کہ چھلکا بھی صحت کےلیے بہت مفید و موثر ثابت ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کا سب سے بہترین کینو پاکستان میں ملتا ہے اور یہ ایسا غلط بھی نہیں اور پاکستان میں سب سے زیادہ کینو ضلع سرگودھا کا مشہور ہے۔
سرگودھا میں محکمہ زراعت کے شعبہ توسیع باغبانی کے سربراہ ڈاکٹر بشارت علی سلیم کے مطابق ترش پھلوں کو قدرتی سرد موسم کے مناسب دورانیے اور شدت کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر یہ دورانیہ اور شدت کم ہو تو اسے نقصان پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دو سال سے سرگودھا سمیت پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں اچھی خاصی سردی پڑ رہی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے پرانا موسم لوٹ آیا ہو اور اس کے کینو اور مالٹے کی پیداوار پر بہت اچھے اثرات پڑے ہیں۔
ڈاکٹر بشارت کے مطابق تین سال پہلے سٹرس کی ملک میں مجموعی پیداوار 22 لاکھ ٹن تھی جب کہ اس سال توقع ہے کہ اس میں دو سے تین لاکھ ٹن تک اضافہ ہو گا۔
پاکستان میں مختلف قسم کے ترش پھل کاشت ہوتے ہیں مگر اس میں سب سے بڑا حصہ کینو کا ہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر پانچ لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر ترش پھل اگائے جاتے ہیں اور اس میں سے چار لاکھ ایکڑ پر صرف کینو کی ہی کاشت ہوتی ہے۔ ترش پھلوں کی مختلف اقسام پورے ملک میں لگائی جاتی ہیں مگر صوبہ پنجاب کا حصہ اس میں سب سے زیادہ یعنی 70 فیصد کے قریب ہے اور پنجاب کے ضلع سرگودھا کو کینو کا گھر سمجھا جاتا ہے۔
ترش پھلوں کے ماہر ڈاکٹر بشارت علی سلیم کے مطابق پاکستان میں پائے جانے والے ایسے پھلوں کی تقریباً تمام ہی اقسام برصغیر کی مقامی ہیں ماسوائے کینو کے جو گزشتہ صدی میں تیس کی دہائی میں امریکہ سے آیا تھا۔
ان کے مطابق امریکہ سے آنے والے پھل کی ترش پھلوں کی مختلف اقسام کے ساتھ بریڈنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں جو نئے پودے تیار ہوئے وہ کینو کہلاتے ہیں۔ کینو کے علاوہ پنجاب میں فروٹر کی کاشت بھی کی جاتی ہے۔
نرم چھلکے والے کینو اور فروٹر کے برعکس مالٹا یا سویٹ اورنج سخت جلد والا پھل ہے۔ پاکستان میں اس کی مقبول اقسام میں موسمی، ریڈ بلڈ، ویلنشیا، مورو بلڈ وغیرہ شامل ہیں۔
ڈاکٹر بشارت کے مطابق ترش پھلوں میں مالٹے کےلیے زیادہ سرد موسم کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ زیادہ تر خیبر پختونخوا کے علاقوں سوات، ہزارہ، نوشہرہ اور مردان میں پایا جاتا ہے جب کہ کینو، فروٹر، لیموں کو مناسب سرد موسم کی ضرورت ہوتی ہے جس وجہ سے وہ پنجاب میں لگایا جاتا ہے اور پنجاب میں سرگودھا کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور منڈی بہاؤالدین اس کی کاشت کے علاقے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں لیہ اور خیبرپختونخوا کے کچھ علاقوں میں سنگترہ بھی کاشت کیا جاتا ہے جب کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں چکوترے کی کاشت کو بھی فروغ ملا ہے۔
پاکستان بھر میں جہاں جہاں ’سٹرس‘ یا ترش پھل کاشت کیے جاتے ہیں وہاں اس سال مجموعی طور پر بہتر پیداوار کی اطلاعات ہیں۔
ڈاکٹر بشارت کے مطابق پاکستان بھر میں پانچ لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر ترش پھلوں کی کاشت کی جاتی ہے اور اس میں ضلع سرگودھا کا حصہ سوا دو لاکھ ایکڑ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار اور کینو کے کاروبار سے منسلک افراد کے مطابق سرگودھا میں کینو کے باغات کی وجہ سے ضلع بھر میں اس پھل کو ’پراسس‘ کرنے والے 250 سے 300 چھوٹے بڑے کارخانے کام کر رہے ہیں۔ ان کارخانوں میں کینو کی درجہ بندی کے علاوہ، اسے پالش اور مناسب طریقے سے پیک کیا جاتا ہے جس سے اس کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ پھل کے سیزن میں ہر کارخانے میں اوسطاً 500 کے قریب کارکنان کام کرتے ہیں جب کہ مستقل بنیادوں پر یہاں اوسطاً 100 لوگوں کو روزگار حاصل ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ ہر سال کینو کے دس سے پندرہ لاکھ نئے درختوں کی ضرورت کو پورا کرنے کےلیے علاقے میں 250 سے زیادہ نرسریاں بھی کام کر رہی ہیں جب کہ ہر سال صرف سرگودھا کا محکمۂ زراعت تقریباً 30 ہزار نئے درخت اپنی نرسری سے تیار کر کے فراہم کر رہا ہے۔یہی نہیں بلکہ پھل کو درختوں سے اتارنے، اس کی ٹرانسپورٹ، تجارت اور دیگر مراحل سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار حاصل ہوتا ہے۔
سرگودھا میں کینو پراسس اور برآمد کرنے والی ایک کمپنی کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہے کہ اس وقت ہمارے زمینداروں کی اکثریت جدید ٹیکنالوجی سے کم آشنا ہے اور اکثر اوقات بڑی تعداد میں پھل ضائع کردیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا سمیت دیگر مقامات پر کینو اور دیگر پھلوں کی پراسسنگ کا مخصوص سیزن ہوتا ہے۔ جس کے لیے کارکنوں کو مخصوص وقت کے لیے ملازم رکھا جاتا ہے۔ یہ کارکنان عموماً ملتان، بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے آتے ہیں اور ہر سال تبدیل ہوتے رہتے ہیں نتیجہ یہ کہ ان کی اکثریت پیکنگ، پراسسینگ وغیرہ سے آشنا نہیں ہوتی اور اکثر اوقات کارخانوں میں بھی نقصان کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کارکنان کو پراسسنگ، پیکنگ کے جدید کورس کروائے تاکہ فیکٹریاں جب ان لوگوں کو کام پر رکھیں تو ان کے پاس مناسب تربیت موجود ہو۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پھلوں کی نقل و حمل اور ان کی برآمد سے قبل تشخیصی ٹیسٹ کے سلسلے میں بھی برآمدکنندگان کو مشکلات درپیش ہیں جن کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔
