بھارتی سوشل میڈیا پر مغل اعظم کے چرچے کیوں ہونے لگے؟

بھارت میں ان دنوں ایک میم گردش کر رہی ہے جس میں ایک شخص بتاتا ہے کہ وہ 4 ہی اعظم کو جانتا ہے، سکندراعظم، اکبراعظم، مغل اعظم اور بابراعظم، یہ چاروں نام اپنے آپ میں جانے پہچانے ہیں۔آج سے کوئی چار سوا چار سو سال قبل یعنی 27 اکتوبر 1605 کو مغل بادشاہ اکبر کی 63 سال کی عمر میں وفات ہو گئی تھی، سکندر کو ان کے دنیا کو فتح کرنے کے خواب کی وجہ سے اعظم کہا جاتا ہے تاہم اکبر نے ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا لیکن پھر بھی انہیں تاریخ ’اکبر دی گریٹ‘ یا ’اکبر اعظم‘ کے نام سے جانتی ہے۔انڈیا میں ان دنوں جہاں تمام مغل بادشاہ اور دوسرے مسلم سلاطین کے ناموں کو بدلا جا رہا ہے وہیں اکبر کے نام سے منسوب مقامات کے ناموں کو نہیں چھیڑا جا رہا۔ یہاں تک کہ گذشتہ ماہ ستمبر میں 20 بڑی معیشت والے ممالک جی20 کا جو سربراہی اجلاس دہلی میں ہوا اس موقع پر ایک کتابچہ جاری کیا گیا اور اس میں اکبر کا بطور خاص ذکر تھا۔اکبر کی زندگی نے ہندوستان کے سیاسی سماجی شعور کو ایک نیا آہنگ دیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی موت کے چار سو سال بعد بھی ان کی زندگی پر فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ ان کی زندگی پر بنی فلم ’مغل اعظم‘ انڈین سنیما میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں تو اکیسویں صدی میں آنے والی فلم ’جودھا اکبر‘ ان کی مذہبی رواداری کو پیش کرنے والی ایک اہم فلم ہے تاہم اکبر کا جو کردار فلم مغل اعظم میں اداکار پرتھوی راج کپور نے ادا کیا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ ان کا حقیقی پرتو بن گیا ہے۔ابوالفتح جلال الدین محمد اکبر بادشاہ ہمایوں کے ہندوستان سے راہِ فرار کے دوران 15 اکتوبر 1542 کو عمرکوٹ یا امرکوٹ میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ اب پاکستان کے سندھ صوبے میں آتا ہے۔ بادشاہ ہمایوں کو چوسا اور قنوج کی جنگ میں شیر شاہ سوری کے ہاتھوں شکست کے بعد سندھ کا رُخ کرنا پڑا تھا جہاں انہوں نے حمیدہ بانو بیگم کو دیکھا اور بہت ساری کوششوں کے بعد ان سے شادی ہوئی۔ شادی کے بعد دوران سفر ہی حمیدہ بانو درد زہ میں مبتلا ہوئیں اور انہیں عمرکوٹ لے جایا گیا جہاں اکبر کی ولادت ہوئی۔بعض جگہ ان کی پیدائش 25 اکتوبر بمطابق پانچ رجب 949 ہجری بتائی گئی ہے چونکہ ہمایوں کو وطن سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور ان کے بھائیوں کامران مرزا اور عسکری مرزا نے ان کا ساتھ نہیں دیا، اس لیے انہیں شاہ ایران کی پناہ لینا پڑی لیکن شہزادہ اکبر کی پرورش کامران اور عسکری کی بیگمات نے کی بطور خاص کامران مرزا کی بیگم نے کی۔انہوں نے اپنا بچپن شکار کرنے، دوڑنے بھاگنے اور لڑنے میں گزارا اور رسمی تعلیم کی طرف بالکل توجہ نہیں دی اور جب شام کو تھک ہار کر آتے تو کوئی انہیں کتابیں پڑھ کر سناتا تھا۔عالمی شہرت کی حامل انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں ان کے بارے میں لکھا گيا ہے کہ ’اس نے 1556 سے 1605 تک حکومت کی اور برصغیر پاک و ہند کے بیشتر حصوں پر مغل اقتدار کو قائم کیا۔ اپنی سلطنت کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے، اکبر نے ایسے پروگراموں کو اپنایا جس سے انہیں اپنی سلطنت میں آنے والی غیر مسلم آبادیوں کی وفاداریاں حاصل ہوئیں۔اکبر نے تخت سنبھالنے کے بعد آگرے کو اپنا دارالحکومت بنایا اور پانچ سال بعد انہوں نے حکومت کی توسیع کی جو مہم شروع کی وہ آخری عمر تک جاری رہی۔ انہوں نے 1561 میں پہلے مالوا کو پھر چنار کو اپنے دائرہ اختیار میں لیا۔ اس کے بعد گونوانا اور میوار ان کے زیر نگیں آیا اور پھر مہارانا پرتاپ سنگھ کے خلاف ہلدی گھاٹی کی معروف جنگ لڑی جس نے انہیں شمالی ہندوستان میں بے شمار اختیار دیا۔انہوں نے 1591 میں مشرق کا رخ کیا اور اُڑیسہ کے ساتھ خان دیش بھی حاصل کر لیا پھر مغرب کی طرف بلوچستان اور قندھار کو حاصل کر لیا اور سلطنت میں ملا لیا، اکبر نے اپنی حکومت اور اپنی فوج کا بہتر ڈھنگ سے استعمال کیا تھا۔اگرچہ اکبر سے زیادہ بڑے خطے اور عرصے تک اورنگزیب نے ہندوستان پر حکومت کی اور ان کے دور حکومت میں مغل سلطنت کی دولت دنیا کی کل دولت کا ایک چوتھائی تھی، تاہم اورنگزیب عالمگیر کے نام کے ساتھ اعظم کا لاحقہ نہیں جوڑا جاتا ہے اور اس کی وجوہات تاریخ میں پنہاں ہیں جو کہ اپنے آپ میں ایک تحقیق کا موضوع ہے۔

Back to top button