لوگ اداکار یاسر حسین کے متعلق غلط فہمی کا شکار کیوں ہیں؟

معروف اداکار و ہدایتکار یاسر حسین نے انکشاف کیا ہے کہ لوگوں نے ان سے متعلق غلط رائے قائم کر رکھی ہے کہ میں بہت بدتمیز، غصے والا اور مغرور شخص ہوں حالانکہ میں بالکل نارمل انسان ہوں۔یاسر حسین نے حال ہی میں کامیڈی پروگرام گپ شپ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے شوبز سمیت دیگر معاملات پر بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ انہیں کسی بھی موضوع پر بات کرتے وقت رکھ رکھاؤ کرنا نہیں آتا، ان کے دل میں جس سے متعلق جو بات ہوتی ہے، وہ سامنے کر دیتے ہیں، اس وجہ سے بعض لوگ ان سے ناراض بھی ہوتے ہیں۔انہوں نے تسلیم کیا کہ شوبز شخصیات کی جانب سے غصہ کیے جانے کے بعد اب وہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر کھل کر باتیں کرنے سے گریز کرتے ہیں، وہ سیاست دان نہیں ہیں کہ ڈپلومیسی سے کام لیں، وہ ایک عام شخص ہیں، اس لیے وہ ہر بات کھل کر کرتے ہیں، انہیں ٹی وی پر کام کرنے کا بلکل شوق نہیں جب کہ بدقسمتی سے پاکستان میں فلمیں کم بنتی ہیں اور تھیٹرز بھی نہیں ہوتے۔یاسر حسین کا کہنا تھا کہ انہیں میزبان بننے کا بھی شوق ہے اور وہ اب بھی اچھی پیش کش پر کسی بھی جگہ میزبانی کرنے کو تیار ہیں، ترکش اداکاروں سے نفرت یا اختلافات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت یہ بات عجیب لگتی ہے جب پاکستان کے بڑے اور معروف اداکار تیار ہوکر ترکش اداکاروں کے ساتھ سیلفی کھچوانے کے لیے بھیڑ کی طرح جمع ہو جاتے ہیں۔انہوں نے دلیل دی کہ ترکش اداکاروں کے ساتھ سیلفیاں کھچوانے والے پاکستانی آرٹسٹ خود بھی سلیبرٹی ہیں اور ان کے بھی مداح ہیں، اس لیے انہیں لگتا ہے کہ پاکستانی اداکاروں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے، ہالی وڈ یا بالی وڈ سے کام کی پیش کش کے وقت پاکستانی اداکاروں کے پاس آپشنز نہیں ہوتے، انہیں بس کام کرنا ہوتا ہے لیکن اگر ان کے پاس ہولی وڈ میں کام کرنے کا آپشن پوچھا جائے تو وہ اینجلینا جولی جب کہ بولی وڈ میں دپیکا پڈوکوں کے ساتھ کام کرنا چاہیں گے۔انہوں نے مثال دی کہ انہیں کچھ عرصہ قبل بھارتی اداکار آنجھانی اوم پوری کے ساتھ کا کی پیش کش ہوئی اور وہ شوٹنگ کے لیے دو ہفتوں تک بھارت میں بھی رہے لیکن ان کے پاس آپشن نہیں تھا کہ وہ فلم میں کسی اور اداکارہ یا اداکار کو بھی حصہ بناتے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ مغرور ہیں نہ انہوں نے کسی کے ساتھ کبھی کوئی بدتمیزی کی اور یہ کہ انہیں غصہ بھی نہیں آتا لیکن سماج میں نارمل انسان کا ہونا شاید ابنارمل بن گیا ہے، اس لیے لوگ ان سے متعلق غلط سوچتے ہیں۔

Back to top button