بی آر ٹی منصوبہ ساتویں ڈیڈ لائن پر بھی مکمل نہ ہو سکا

ناقص منصوبہ بندی اور تعمیراتی کام کے انجینئرنگ ڈیزائن کی تیاری کے بغیر 2017 میں شروع ہونے والا پشاور بس رپیڈ ٹرانزٹ منصوبہ مزید لٹک گیا ہے اور اسکی تکمیل کی ساتویں ڈیڈ لائن بھی گزر گئی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق بی آر ٹی کی تعمیر شدہ سڑک پرایک بار پھر جگہ جگہ توڑ پھوڑ کرکے اس میں تبدیلیاں لانا شروع کر دی گئی ہیں۔ بی آر ٹی منصوبے میں حکومتی نا اہلی، ناقص پلاننگ، بے ضابطہ ادائیگیوں اور نگرانی کے فقدان سے اب تک قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے اور 3 سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ تاحال نا مکمل ہے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے بی آر ٹی منصوبہ شروع کرنے کے بعد تیار کئے گئے پلوں کی توڑ پھوڑ، انڈر گراؤنڈ پاسز میں تبدیلی اور سڑکوں کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے یہ منصوبہ ماضی میں بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ تاہم اب تعمیر شدہ سڑکوں کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے تبدیلی سرکار کا شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوتا ہوا نامکمل پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ بی آر ٹی منصوبہ ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہے۔ شہریوں نے تازہ ترین توڑ پھوڑ کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کردی ہیں اور منصوبے پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک نئی ویڈیو میں بس منصوبے کی سڑک پر ایک جگہ دیواروں کو دونوں جانب سے توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس سے لگتا ہے کہ منصوبے میں تبدیلیاں کرکے غلطیاں درست کی جا رہی ہیں۔ نئی توڑ پھوڑ پر تنقید کا شور اٹھا تو بعض لوگوں نے یہ خیال بھی ظاہرکیا کہ ہو سکتا ہے یہ ویڈیو پرانی ہو لیکن پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ظفر علی شاہ سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچ ہے لیکن یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ، جس کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جانے والی ویڈیو حیات آباد فیز فائیو کی ایک جگہ کی ہے جہاں نہایت معمولی سا کام تھا۔ ایک دیوار کو صرف چھ انچ پیچھے کرنا تھا۔ خدانخواستہ کوئی ایسی بڑی غلطی نہیں ہوئی جس کو اس انداز میں سوشل میڈیا پر پیش کیا جارہا ہے کہ جیسے ہم کوئی پل توڑ رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا: ‘ڈرائیور حضرات کو ایک جگہ پر تھوڑی سی مشکل پیش آرہی تھی، اس لیے ہم نے سوچا کہ دیوار کو چند انچ پیچھے لے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔بعد میں مسئلہ ہونے سے بہتر ہے کہ ابھی تمام نقائص دور کرکے عوام کو بہترین اور آرام دہ سروس فراہم کی جائے۔
ظفر علی شاہ نے ایک بار پھر دعوی کیا کہ لوگ یہ خیال کر رہے ہیں کہ شاید منصوبہ آپریشنل ہونے میں تاخیر ہو جائے گی لیکن منصوبے پر کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔
یاد رہے کہ بی آر ٹی کا منصوبہ تین بنیادی وجوہات کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے جن میں اس منصوبے کی اصل لاگت، تکمیل کی کوئی حتمی ڈیڈلائن نہ ہونا اور کرپشن کے الزامات شامل ہیں۔ منصوبے کی اصل لاگت کے بارے میں سابق صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی مختلف انٹرویو ز میں کہہ چکے ہیں کہ اس کی لاگت 32ارب روپے ہے جب کہ خود اس پراجیکٹ کے خالق اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے مطابق اس پر 66 ارب روپے لگیں گے۔ اسی طرح اس منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے بھی کئی ڈیڈلائنز دی جا چکی ہیں۔ بی آرٹی کی تکمیل کے حوالے سے مختلف دعوؤں پر اپوزیشن بھی تبدیلی سرکار کو خوب تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے۔
واضح رہے کہ کئی برسوں سے زیر تعمیر پشاور کے نواحی علاقے چمکنی سے حیات آباد تک 26 کلومیٹر پر مشتمل پی ٹی آئی حکومت کا بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ خیبر پختونخواہ حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ اکتوبر 2017 میں لگ بھگ 49 ارب روپے کے ابتدائی تخمینے سے شروع کیے گئے منصوبے کو سابق وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے چھ ماہ میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن مبینہ بد انتظامی اور ٹھیکیداروں کی ناکامی کے باعث تاحال اس منصوبے پر کام مکمل نہیں ہو سکا۔موجودہ وزیراعلیٰ محمود خان نے فروری 2019 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 23 مارچ کو ہر صورت اس منصوبے کا افتتاح کریں گے لیکن حکومت اس دعوے میں بھی ناکام رہی۔ اب تک 6 دفعہ منصوبے کی تاریخ تکمیل میں تبدیلی کی جا چکی ہے اورساتویں دفعہ مارچ 2020 میں منصوبہ مکمل ہونے کی نوید سنائی گئی جس پر بھی عملدرآمد کرنے میں حکومت ناکام رہی۔
