ملک ریاض نے سپریم کورٹ سے اپنی رقم پر سود مانگ لیا

مالی بحران کو بنیاد بنا کر اپنا ٹی وی چینل بند کرنے والے پراپرٹی ٹائیکون اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے کراچی بحریہ ٹاؤن کے معاملات کے تصفیے کے لیے واجب الادا 460 ارب روپے کی قسطوں کی ادائیگی کے لیے سپریم کورٹ سے اپنی طرف سے جمع کروائی گئی رقم پر سود ادا کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر درخواست میں بحریہ ٹاؤن کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاون ستمبر 2020 تک کی ایڈوانس قسطیں ادا کرچکا ہے۔ 460 ارب کی مجموعی رقم سے 57 ارب، 34 کروڑ روپے سے زائد ابتک جمع کرائے جا چکے ہیں۔ درخواست میں بحریہ ٹاؤن نے بقیہ ادائیگی مؤخر کرنے کی استدعا کے ساتھ پیشگی ادا کی گئی 24 ارب، 84 کروڑ کی رقم پر عدالت سے سود بھی مانگ لیا اور کہا ہے کہ ایڈوانس رقم پر 10.53 فیصد کے حساب سے مارک اپ کو آئندہ اقساط میں ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے ساتھ بحریہ ٹاون کی جانب سے ابتک جمع کرائے جانی والی رقم کے برابر ضبط شدہ پراپرٹی ریلیز کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث معاشی بحران پوری دنیا کو لپیٹ گیا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے پاکستان میں بھی لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی یے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں عوام بحریہ ٹاؤن کی اقساط جمع نہیں کروا رہے۔ لہذا، دو سال کے لیے ادائیگی مؤخر کرنے کی اجازت دی جائے۔ملک ریاض کا کہنا ہے کہ اس وقت نہ صرف کرونا بلکہ ملک کی اقتصادی صورتحال کی وجہ سے بھی ان کا کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایف بی آر کی طرف سے پراپرٹی کے ٹیکسز میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا، جبکہ ان کے اور ان کے ڈائریکٹرز اور دیگر انتظامی افسران کے خلاف نیب اب بھی کیسز اور ریفرنسز بنا رہے ہیں۔ ملک ریاض نے رقم کی ادائیگی کے لیے ستمبر 2022 تک ریلیف دینے کی استدعا کی ہے۔
یاد رہے کہ بحریہ ٹاؤن کی طرف سے سپریم کورٹ سے جس رقم پر مارک اپ یعنی سود اور ریلیف کی استدعا کی جا ہے یہ وہی رقم ہے جو برطانیہ میں نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ سیٹل منٹ کے بعد پاکستان آئی تھی اور 190 ملین پاؤنڈ عدالت میں جمع ہوئے تھے، پاکستانی روپوں میں یہ رقم تقریباً 57 ارب روپے بنتی ہے۔ 5 دسمبر 2019 کے روزاسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے شہزاد اکبر نے بتایا تھا کہ برطانیہ میں تصفیے کے ذریعے حاصل ہونے والے 190 ملین پاؤنڈ میں سے 140 ملین پاؤنڈ پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئے ہیں جب کہ 50 ملین پاؤنڈ کی پراپرٹی بعد میں آئے گی۔اس وقت اس رقم کے بارے میں بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کا کہنا تھا کہ یہ ایک سول معاملہ تھا جس میں کوئی جرم رونما نہیں ہوا۔ ملک ریاض نے یہ رقم سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی اور اب اس پر ریلیف مانگ لیا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ روز قبل ملک ریاض نے اچانک آپ نیوز کی نشریات معطل کر کے 700 سے زائد افراد کو نوکریوں سے برخاست کر دیا تھا۔
