دنیا کے صحت یاب کرونا مریضوں میں گلگت دوسرے نمبر پر

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح کے اعتبار سے گلگت چین کے بعد دوسرے نمبر پر آ گیا ہے جہاں متاثرہ افراد کی صحت یابی کی شرح 66 فیصد ہے جبکہ چین میں کرونا سے متاثرہ افراد کی صحت یابی کی شرح 94 فیصد ہے۔
کرونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک 18 لاکھ 66 ہزار سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ دنیا میں کرونا سے متاثرہ افراد کے 23 فیصد مریض یعنی چار لاکھ 34 ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ صحت مند ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد کا تعلق چین سے ہے جو وہاں کے کل مریضوں کا 94 فیصد ہیں۔ کرونا سے متاثرہ مریضوں کی صحت یابی کی سب سے کم شرح 5 اعشاریہ 82 فیصد امریکہ کی ہے۔ پاکستان میں صحت یاب ہونے افراد کا تناسب 20 فیصد سے زائد ہے جبکہ گلگت بلتستان میں صحت یاب ہونے والوں کی شرح 66 فیصد ہے۔
یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں کورونا کا پہلا کیس 17 مارچ کو رپورٹ ہوا تھا جبکہ اب تک وہاں 1488 ٹیسٹ ہوچکے ہیں جن میں سے 224 مریضوں میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ متاثرہ افراد میں سے 149 صحت یاب ہوکر گھروں کو جا چکے ہیں اور صرف 75 مریض آئسولیشن وارڈز میں ہیں جبکہ کچھ مریضوں کے ٹیسٹوں کی رپورٹس کا انتظار ہے۔
گلگت میں کرونا وائرس کے باعث ڈاکٹر اسامہ اور ایک پیرامیڈیکل سٹاف کورونا کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار چکے لیکن اس کے باوجود صحت یابی کی شرح توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹری محمد علی رندھاوا کے مطابق مریضوں کی صحت یابی کی شرح بہتر ہونے کی بڑی وجہ گلگت بلتستان کے زائرین کی واپسی پر ان کے لیے کیے گئے اقدامات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زائرین کے لیے ہوٹلوں میں 1133 کمرے بک کیے گئے۔ جہاں ان کو گھر سے بہتر ماحول یعنی ایک فرد کے لیے ایک کمرہ ،وائی فائی، اٹیچ باتھ روم، نیوٹریشنز سے منظور شدہ معیاری خوراک فراہم کی گئی۔ زائرین کے بچوں کے لیے کھلونے، ان کے ذوق کے مطابق کتابوں سمیت ان کی ذہنی و جسمانی آسائش کا خاص خیال رکھا۔ ان اقدامات کی وجہ سے ان کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوا اور وہ کرونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ محمد علی رندھاوا کے مطابق ‘لاک ڈاون میں بھی سختی کی گئی، بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ بند اور سماجی فاصلے کی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا۔ اس حوالے سے مقامی آبادی نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
تاہم گلگت سے تعلق رکھنے والے معروف طبی ماہر ڈاکٹر شریف استوری عوام کے ذمہ دارانہ طرز عمل اور رہن سہن کو مریضوں کی صحت یابی کی شرح میں اضافے کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔ گلگت بلتستان آبادی کے تناسب سے ریکوری کرنے والوں میں بے شک پہلے نمبر ہے اور مریضوں کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر لیکن زائرین، تبلیغی جماعت اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں موجود مقامی لوگوں کی آمد کے باعث وہاں کے لوگ کرونا کی زد میں آئے۔ گلگت بلتستان میں ابتدا میں ٹیسٹوں کی سہولت بھی میسر نہیں تھی جبکہ آئسولیشن کے لیے ہوٹلوں وغیرہ کا انتظام بہت بعد میں کیا گیا۔ تاہم مقامی لوگوں کے طرز زندگی اور رہن سہن کی وجہ سے ان کے اندر پروان چڑھنے والی قوت مدافعت کی وجہ سے کرونا وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی شرح زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘جس طرح زائرین، تبلیغی، طلبا اور مزدور گلگت پہنچے اگر اس طرح کسی اور صوبے یا علاقے کے لوگ کورونا کی وبا پھیلنے کے دوران ایسا کرتے تو صورت حال اس کے برعکس ہوتی۔اس کے علاوہ جن عوامل کو اہم قرار دیا جا رہا ہے ان میں گلگت بلتستان کی جغرافیائی حیثیت، وہاں کی پھیلی ہوئی آبادی، معاشرے میں تعلیم و آگاہی اور مذہبی و معاشرتی ہم آہنگی شامل ہیں۔گلگت بلتستان کی چین، افغانستان کے ساتھ سرحدیں مکمل طور پر غیر فعال ہیں جبکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے بھی وہاں کوئی آمدو رفت ممکن نہیں۔
دوسری طرف ایک وجہ یہ بھی یے کہ ووہان میں کرونا وائرس سامنے آنے کے فوری بعد چین کی سرحد بند کر دی گئی تھی۔ چین اور افغانستان سے سرحد بند ہونے کا بھی فائدہ ہوا۔ مقامی آبادی میں تعلیم و آگاہی، مقامی تنظیموں کے فعال کردار، مذہبی رواداری نے بھی کرونا کو پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وفاق کی جانب سے نامناسب رویے کے باوجود گلگت بلتستان حکومت کی لاک ڈاون کی پالیسی بھی کامیاب رہی تاہم نماز جمعہ کے اجتماعات کے حوالے سے ابھی تک حکومت کو چیلنج کا سامنا ہے۔ اگر اس حوالے سے اقدامات نہ لیے گئے تو کامیابی ناکامی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button