تھیٹر بند ہونے سے فاقہ کشی پر مجبور فنکاروں کی دہائی


کرونا وائرس اور لاک ڈاون کے باعث جہاں دیگر کاروبار زندگی متاثر ہوئے وہیں سٹیج کامیڈی سے وابستہ فنکار بھی شدید مالی مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں، ٹی وی ڈراموں کی ریکارڈنگ تو ایس او پیز کے تحت شروع ہوچکی تاہم تھیٹر کی سرگرمیاں دوبارہ شروع نہ ہوسکیں۔ تھیٹر کی مسلسل بندش کی وجہ سے فنکار برادری فاقہ کشی پر مجبور ہوگئی ہے۔
معروف تھیٹر اداکار و ہدایت کار نسیم وکی کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ 5 ماہ سے ملک کے مختلف شہروں میں سٹیج ڈرامے اور تھیٹرز نہیں ہو رہے، جس کے باعث اس شعبے سے وابستہ فنکار اور دیگر عملہ بے روزگار ہے اور مالی مشکلات کا شکار ہوکر فاقہ کشی پر مجبور ہے۔ نسیم وکی نے بتایا کہ تھیٹر بند ہونے کی وجہ سے معروف اداکارہ عالیہ چوہدری بھی کرایہ دار کے ہاتھوں گھر سے نکالے جانے کے بعد جھگیوں میں رہنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ نسیم وکی کے مطابق تھیٹر بند ہونے کی وجہ سے فنکار برادری حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہے، جس سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ فنکار پاکستان تحریک انصاف حکومت کے خلاف ہیں۔ انہوں نے فنکار برادری کے حکومت مخالف ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں لوگوں کی مالی مدد کرنے والے متمول فنکار اب خود بھوک سے مر رہے ہیں۔
نسیم وکی کا کہنا تھا کہ بھوک کا مارا شخص بعض اوقات ایسی باتیں بھی کر جاتا ہے جو گناہ کے زمرے میں آتی ہیں۔ لیکن خدا کی مخلوق کو بیروزگار کرکے بھوکا مارنے سے بڑا گناہ بھی کوئی نہیں۔ انہوں نے تھیٹر اور پاکستانی ڈرامے میں موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ تھیٹر پر بے بنیاد تنقید کی جارہی ہے کیوںکہ اس وقت پاکستان کا کوئی بھی شعبہ پہلے جیسا نہیں رہا۔نسیم وکی کا کہنا تھا کہ تھیٹر کھلوانے کےلیے انہوں نے گورنر پنجاب سے بھی ملاقات کی تھی جنہوں نے انہیں یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں گے لیکن آج تک کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے فنکاروں پر تنقید کرنے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان پر نالاں ہونے کے بجائے ان کے مسائل کو سمجھے، فنکار حکومت کے خلاف نہیں بلکہ وہ اپنی بہتری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ حال ہی میں ایک انٹرویو میں نواز شریف کی تعریف کرنے پر انہیں غلط سمجھا گیا اور یہ خیال کیا گیا کہ وہ پی ٹی آئی مخالف ہیں جب کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم کا قصہ صرف یہ سمجھانے کے لیے بیان کیا تھا کہ سابقہ حکومت فنکاروں کے ساتھ تعاون کرتی تھی اور ان کا خیال رکھتی تھی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تھیٹر کو کام کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ فاقہ کشی کا سامنا کرنے والے فنکار عزت کی روٹی کما سکیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں مارچ سے تھیٹر سمیت سینما ہالز بھی بند ہیں جب کہ ڈراموں اور فلموں کی شوٹنگ بھی منسوخ کردی گئی تھی۔ علاوہ ازیں شادی ہالز، تعلیمی اداروں اور تفریحی مراکز سمیت متعدد شعبہ جات تاحال بند ہیں اور حکومت مزید چند ہفتوں تک ان تمام شعبوں کو بند رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button