جج ویڈیواسکینڈل کیس انسداد دہشت گردی عدالت منتقل

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کو انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں منتقل کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے انسداد دہشت گردی ونگ نے احتساب عدالت کے سابق جج محمد ارشد ملک کی ’غیر اخلاقی‘ ویڈیو کا کیس اے ٹی سی منتقل کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔
یاد رہے کہ ارشد ملک وہی جج ہیں جنہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔
قبل ازیں 21 اکتوبر کو سائبر کرائم عدالت نے جج ویڈیو اسکینڈل اے ٹی سی کو منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی۔
کیس کے ابتدا میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم سرکل نے کیس کی تحقیقات کی اور تین ملزمان، ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور مہر گیلانی کو گرفتار کیا تھا تاہم ایف آئی سے نے انہیں ابتدائی تفتیش کے بعد بری کردیا تھا۔
بعدازاں جج ارشد ملک کی درخواست پر ایف آئی نے مذکورہ کیس کی تحقیقات انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈبلیو) ونگ کو منتقل کی تھی جس کے بعد سی ٹی ڈبلیو نے 2 ملزمان کو گرفتار کیا تھا جس میں برطانیہ میں موجود مسلم لیگی رہنما ناصر جنجوعہ کے بھتیجے بھی شامل تھے جنہوں نے خفیہ طور پر سابق جج کی اعترافی ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔جج ارشد ملک نے سائبر کرائم ونگ پر الزام عائد کیا تھا کہ ایف آئی اے نے ایک ’دوستانہ تفتیش‘ کے بعد تینوں ملزمان کو بری کردیا۔
اس سے قبل بھی ایف آئی اے نے انسداد دہشت گردی ونگ کے زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے سائبر کرائم عدالت میں کیس کو اے ٹی سی منتقل کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔تاہم پیکا کے سابق جج نے ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رکھتے ہوئے ان پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں فرد جرم عائد کرنے سے روکتے ہوئے معاملہ دوبارہ پیکا بھیج دیا تھا۔
چنانچہ جمعرات کو برقی جرائم کے روک تھام ایکٹ کی عدالت (پیپکا)کے قائم مقام جج نے ایف آئی اے کی درخواست قبول کرتے ہوئے کیس انسداد دہشت گردی عدالت بھیج دیا۔ علاوہ ازیں جج نے ویڈیو کیس سے ملزمان کی بریت کی درخواست بھی اے ٹی سی کو بھجوادی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button