ٹوئٹر نے آن لائن بدتمیزی روکنے کا فیصلہ کر لیا

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹوئٹر’ نے اعلان کیا ہے کہ آن لائن بدتمیزی روکنے کے لیے وہ صارفین کو ہی کنٹرول دینے جا رہے ہیں تاکہ بدتمیزی کا سدباب کیا جاسکے۔
کمپنی نے اپنے اکاؤنٹ پر ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ‘ہم ٹوئٹر پر ہونے والی گفتگو کو محفوظ بنانے کے لیے صارفین کو کنٹرول دینے جا رہے ہیں’۔ مزید کہا گیا کہ ‘2020 کے اوائل میں تجربات کے ذریعے مختلف آپشنز کا جائزہ لیں گے کہ کون ٹوئٹس کا جواب دے سکتا ہے اور اسکے بعد یہ قدم اٹھا لیا جائے گا’۔
اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ‘جو سب سے سخت ایکشن ہوگا وہ یہ کہ ٹوئٹر صارف کسی شخص کو بھی پیغام بھیجنے یا اس پر ردعمل دینے سے روک سکتا ہے’۔ ٹوئٹر کے مطابق صرف صارف کے پاس کنٹرول ہوگا جس کے تحت وہ اپنی مرضی سے دیگر صارفین کو پیغام بھیجنے یا ردعمل کے اظہار کا موقع دیں گے۔’
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ٹوئیٹ کے جواب میں لوگ گندی گالیاں تک لکھنے سے پرہیز نہیں کرتے۔ جس کے بعد سے ٹوئٹر پر صارفین کا یہ مطالبہ تھا کہ کوئی ایسا طریقہ کار متعارف کروایا جائے کہ جس کے ذریعے بدتمیزی اور بدتہذیبی کے مرتکب افراد کو کو روکا جاسکے۔
ٹویٹر کے ایک عہدے دار نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘ آن لائن بدسلوکی ٹوئٹر سمیت بہت سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے اس وقت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں بھی آن لائن بدسلوکی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دسمبر 2018 کے انتخابات کی نگرانی سے متعلق ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ڈیجیٹل انتخابی مہم کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق نہ ہونے کے باعث انٹرنیٹ پر عام انتخابات 2018 کو غلط معلومات اور جعلی خبروں سے متاثر کیا گیا، خاص طور پر خواتین سے آن لائن بدسلوکی کی شکایات موصول ہوئی۔‘
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے ’پاکستان کے عام انتخابات 2018 میں ‘خواتین سیاستدانوں کی نمائندگی‘ کے عنوان سے رپورٹ جاری کی گئی۔ ڈی آر ایف رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ خواتین سیاستدانوں کو زیادہ تر ایسے تبصرے پرھنے کو ملے جو گندے اور ذاتی نوعیت کے تھے جبکہ مرد سیاستدانوں کو جس بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا وہ سیاسی نظریات کے گرد مرکوز تھی۔
