جسٹس فائز کیس کے فیصلے نے حکومت اور ریاست کو اڑا کے رکھ دیا


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج کیے جانے کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر جسٹس فائز عیسیٰ کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے اور صارفین وزیراعظم عمران خان اور صدر عارف علوی سمیت فروغ نسیم اور شہزاد اکبر کے استعفوں کا بھی مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ صدر مملکت عارف علوی وزیر اعظم کی ایدوائس پر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل ناکام رہے اور جسٹس فائز۔کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا تمام عمل قانون و آئین کے خلاف تھا۔ کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 209 (5) کے تحت صدر عارف علوی غور شدہ رائے نہیں بنا پائے لہٰذا جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ’مختلف نقائص‘ موجود تھے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے خود تحریر کردہ 174 صفحات پر مشتمل اکثریتی فیصلے میں کہا کہ چونکہ جج کے خلاف تحقیقات کے لیے کسی بھی طرح کی اجازت نہیں لی گئی تھی لہٰذا جسٹس عیسیٰ کے ٹیکس ریکارڈز تک غیرقانونی رسائی حاصل کی گئی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے والی متعدد درخواستوں کی سماعت کرنے والے 10 رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ بھی قرار دیا کہ صدر اور وزیراعظم کے ذریعے جسٹس عیسیٰ کے امور کی چھان بین کا کسی کو کوئی قانونی اختیار نہیں تھا، لہذا اس۔معاملے میں وزیر قانون فروغ نسیم اور مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے اپنی قانونی حد سے تجاوز کیا۔ خیال رہے کہ 19 جون 2020 کو اپنے مختصر حکم میں سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا اور ان پر اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام پر 3 آف شور جائیدادیں ظاہر نہ کرنے پر لگائے گئے مس کنڈکٹ کے داغ کو صاف کردیا تھا۔ اب عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ سرینا عیسیٰ کی ملکیت میں غیرظاہر شدہ لندن پراپرٹیز کی معلومات طلب کرنے کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری شوکاز نوٹس اور ریفرنس کا دیگر مواد بغیر کسی بنیاد کے تھا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے اس بات پر افسوس کا اظہار کہا کہ سابق وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بذریعہ پریس کانفرنس عوام میں جسٹس عیسیٰ سے متعلق غلط فہمی پیدا کی اور ان کے حوالے سے توہین آمیز ریمارکس لیے جس کی بنا پر فردوس عاشق کے خلاف علیحدہ سے توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے۔ عدالتی فیصلے میں جسٹس عمر عطا بندیال نے آبزرو کیا کہ جج کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام کی حمایت میں ریفرنس میں نہ تو کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی کوئی پریڈیکیٹ جرم کی نامزدگی کی گئی، مزید یہ کہ اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ درخواست گزار نے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت رجیم کی خلاف ورزی کی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے لکھا کہ صدر مملکت نے ریفرنس کے چیف آرکیٹیکس اس وقت کے اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کی جانب سے ریفرنس کی طاقت اور کمزوریوں پر ناقابل قبول مشورہ لیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ صدر مملکت ریفرنس میں قانون کے سوالات پر کسی تیسرے فریق کے مناسب، منصفانہ اور معقول مشورے پر غور نہیں کیا اور ریفرنس میں کئی قانونی اور طریقہ کار کے نقائص کو بھی دیکھنے میں بھی ناکام رہے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس عمر نے لکھا کہ حکومت کے ان غیرقانونی اقدامات نے قانون کو نظرانداز کرنے کو ظاہر کیا کیونکہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر ہونے والے ریفرنس جس میں صدر مملکت کے دستخط ہوں اور جو جج کے خلاف چارج شیخ کے طور پر پیش کیا گیا ہو اس میں اس کے تشکیل کرنے والوں کی طرف سے انتہائی ہوشیاری اور احتیاط کی ضرورت تھی. تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ کیس میں فریقین کے اقدامات نے نہ صرف آئین کی واضح دفعات، رولز آف بزنس 1973، آئی ٹی او اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کی تھی بلکہ اس میں 2010 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کیس میں وضع کردہ قانون کو بھی نظر انداز کیا گیا، جس میں خاص طور پر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے لیے ایگزیکٹو کے من مانی اقدامات سے تحفظ کا تعین کیا گیا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ لہٰذا فریقین نے صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے متعلقہ گورننگ قوانین کے مینڈیٹ پر بہت کم توجہ دی تھی، اس صورتحال میں ریفرنس کی تیاری اور فریمنگ میں ان کی جانب سے کی گئی غلطیوں کو محض غیرقانونی قرار نہیں دیا جائے، اس کے برعکس آئین کے آرٹیکل 209 کے تناظر میں ان کی غلطیاں ’قانون کو نظرانداز کرنے کے مترادف‘ ہیں۔
جسٹس فائز عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر جسٹس فائز عیسیٰ کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے اور سینیئر صحافیوں اور سیاستدانوں سمیت کئی صارفین اس فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر پاکستان اور وزیر قانون سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سینیئر صحافی محمد ضیاالدین نے لکھا: ’اب یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے وزیر قانون اور نائب وزیر داخلہ ہمارے آئین سے لاعلم ہیں کیونکہ انھوں نے جسٹس قاضی عیسیٰ کے خلاف جو مقدمہ بنایا وہ نہ صرف جعلی تھا بلکہ انھیں اسے وزیراعظم کے علم میں لائے بغیر آگے بڑھانے کا بھی حق نہیں تھا۔‘
سینیئر صحافی حامد میر نے لکھا: ’یہ صدر اور وزیراعظم کے لیے بڑی شرمندگی ہے جو ایک ایماندار جج کو بدنام کر کے اعلی عدلیہ کے ساتھ جنگ ​​شروع کرنے کے ذمہ دار تھے۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس مسترد کر دیا اب وقت آ گیا ہے کہ وزیر قانون فوری استعفیٰ دیں۔‘ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا کے سابق وزیر صحت عنایت اللہ خان نے لکھا: ’یہ خبر ان لوگوں کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے جو آئین پر یقین رکھتے ہیں اور اس فیصلے کے آزاد عدلیہ اور قانون کی بالادستی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔‘
عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے لکھا: ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا خارج ہونا تمام جمہوری قوتوں کی جیت ہے جہاں ایک جج کو جرات مندانہ مؤقف پر سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا۔‘ انھوں نے مزید لکھا: ’تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد صدر عارف علوی، وزیر قانون اور مسٹر اکبر کو اپنے عہدے چھوڑ دینے چاہیے کیونکہ انھوں نے آئین کی خلاف ورزی کی۔‘ زویا سیٹھی نامی ایک صارف نے لکھا: ’ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔‘ ایک اور صارف نے جسٹس فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’آپ جیت گئے کیونکہ سچ ہمیشہ جیت جاتا ہے۔‘ اسد فخر الدین نامی ایک صارف نے لکھا: ’آج جمہوریت اور نظام عدل کی جیت ہے۔ مبارک ہو۔‘ واضح رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے رواں سال 19جون کو اس ریفرنس کے بارے میں مختصر فیصلہ سنایا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button