کیا کپتان اپوزیشن کو ریاستی اداروں سے لڑوا رہے ہیں؟

اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے بظاہر اپنی حکومت بچانے کے لئے ریاستی اداروں کو اپوزیشن سے لڑوا کر تماشہ دیکھنے کی پالیسی اپنا لی ہے۔ عوام کی ڈھال بننے کی بجائے ریاستی اداروں کو اپنے لئے ڈھال بنانے والے وزیراعظم نے اپنی حکومت بچانے کے لیے ریاست کے اداروں کو متنازعہ بنا کر کمزور کرنے کی پالیسی اپنا لی ہے اور جب حکومت وقت کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ریاستی اداروں کی کمزوری اور عوام کے نمائندوں سے ان کی لڑائی میں ہی اسکی بقا ہے تو پھر اس ریاست کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے اپنے تازہ ترین تجزیے میں کیا ہے۔ صافی کہتے ہیں کہ حکومت کی پہلی ترجیح ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا، اُن کی قدر و منزلت میں اضافہ کروانا، عوام اور اُن کے مابین اعتماد کی فضا بحال کرنا اور اُن کے کردار کو آئین میں مقررکردہ رول کے اندر لانا ہوا کرتا ہے۔ جینوئن حکومتیں ریاستی اداروں کو اپنے لئے ڈھال نہیں بناتیں بلکہ خود اُن کے لئے ڈھال بنتی ہیں لیکن بدقسمتی سے اِس وقت پاکستان میں ایک ایسی حکومت برسراقتدار ہے جو ڈھال بننے کی بجائے ریاستی اداروں کو اپنے لئے ڈھال بنارہی ہے۔ وہ اداروں اور عوام کی ترجمان اپوزیشن کے مابین رابطہ کار کا کردار ادا کرنے کی بجائے اُن کو لڑانے میں لگی ہوئی ہے جس کا ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ سلیم صافی لکھتے ہیں کہ ادارے سب کے لئے قابلِ احترام ہوتے ہیں اور ہر شہری اُن پر یکساں دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ تاریخ کی انوکھی حکومت آئی ہے جو اداروں کی آڑ لے کر باقی تمام پاکستانیوں کو اُن کا دشمن بنا رہی ہے۔
گذشتہ اڑھائی سال کا سیاسی منظر نامہ بتاتا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے متنازعہ ترین انتخابات کے باوجود سسٹم کو چلانے کی کوشش کی جبکہ اداروں کی بھی یہ کوشش رہی کہ اُن کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا جائے لیکن عمران خان مفاہمت کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرتے رہے اور اپوزیشن لیڈرشپ کی پکڑ دھکڑ کو ترجیح دی۔ اِس سے اپوزیشن کو اشتعال دلانے کے ساتھ ساتھ معیشت کا بھی ستیاناس ہو گیا اور فواد حسن فواد یا احد چیمہ جیسے افسران کا انجام دیکھ کر بیوروکریسی نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا۔ یوں معیشت تباہ ہونے لگی تو اداروں نے اُس کو مزید تباہی سے بچانے کی خاطر اور اِس سوچ کی خاطر کہ سونامی سرکار پوری توجہ گورننس پر دے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) سے تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ سب کچھ عمران خان کی بھلائی میں کیا جارہا تھا کیونکہ مقتدر ادارے اُن کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور اُن کی ناکامی کو اپنی ناکامی سمجھ رہے تھے۔
عمران خان نہیں چاہتے تھے کہ میاں شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بنیں لیکن اُن کو دبائو پر چیئرمین بنا دیا گیا۔ اِسی طرح اداروں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی گئی لیکن جب نیب کا کنٹرول، چیئرمین نیب سے متعلق قابل اعتراض مواد ہاتھ میں لینے کے بعد عمران خان کے پاس آگیا تو اُس کے ذریعے اُنہوں نے بےدریغ اپوزیشن رہنمائوں کی پکڑ دھکڑ شروع کرا دی۔ اب نیب کو بلیک میلنگ کے ذریعے چلانے میں عمران خان بھی حصہ دار بن گئے لیکن اپوزیشن کا یہ موقف ہے کہ نیب کو حسبِ سابق صرف ادارے ہی اُن کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔
دوسری طرف عمران خان اپنے وزرا اور ترجمانوں کو اپوزیشن کے ساتھ بدتمیزی کے لئے ابھارتے رہے تاکہ اُن کی حکومت کی ناکامی کی طرف دھیان نہ جائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ سوچ عام ہو گئی کہ شاید تبدیلی لانے والے تبدیلی میں تبدیلی کا سوچ رہے ہیں۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت اپنی کارکردگی کو بہتر بناتی لیکن ایسا کرنے کی بجائے اپنی روایتی حکمتِ عملی کو اپنایا گیا کہ اپوزیشن اور ریاستی اداروں کو لڑایا جائے تاکہ اُن کے سوا کوئی آپشن ہی نہ رہے۔ پہلے وزیراعظم اور اُن کے قریب ترین سرکاری افسر نے جان بوجھ کر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفیکیشن کو متنازعہ بنایا۔ پھر سپریم کورٹ اور فوج کو لڑانے کی شعوری کوشش کی گئی اور جب معاملہ قانون سازی تک آیا تو یہ سوچا گیا کہ اِس معاملے پر فوج اور اپوزیشن دست و گریبان ہو جائیں گے۔ چھوٹی جماعتوں کے بر عکس پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے خلافِ توقع اِس عمل کو ووٹ دے کر سپورٹ کیا۔ پھر حکومت کو یہ احساس ہونے لگا کہ اپوزیشن اور اداروں کے مابین کشیدگی کے خاتمے کا یہ سلسلہ آگے نہ بڑھے۔ چنانچہ ایک وزیر کو کہا گیا کہ وہ بوٹ لے جاکر ٹی وی شو میں رکھ دیں تاکہ اپوزیشن کو اشتعال دلایا جائے۔ اِس کے بعد سے آج تک تمام وزیروں اور ترجمانوں کی ایک ہی ڈیوٹی ہے کہ وہ ریاستی اداروں اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کے خلاف اشتعال دلائیں۔ دوسری طرف اپوزیشن کے خلاف قانونی اور نیب کی سطح پر اقدامات فروغ نسیم اور بیرسٹر شہزاد اکبر کے سپرد کئے گئے۔ یہ حکومت نے ایک اور چالاکی کی ہے کیونکہ اُن دونوں اشخاص کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ دونوں عمران خان کے نہیں کسی اور کے بندے ہیں۔ چنانچہ اُن کے اقدامات کا غصہ حکومت کی بجائے کسی اور جگہ نکلتا ہے۔ ریاستی اداروں اور اپوزیشن کی اِس لڑائی کو حکومتی ترجمان اپنے بیانات سے گرماتے اور عمران خان اُس سے لطف اٹھاتے ہیں۔
بدقسمتی سے عمران کے سازشی ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ جتنی یہ لڑائی گرم ہوگی، اُتنی اُن کی حکومت کا دوام مجبوری بنے گا لیکن افسوس یہ کہ اِس صورتِ حال کی وجہ سے ریاستی ادارے متنازعہ بنتے جارہے ہیں اور یہ مظہر ریاست کے لئے تباہ کن نتائج کا موجب بن سکتا ہے۔ سلیم صافی کا ماننا ہے کہ آج بدقسمتی سے اِس ملک میں حکومت بچانے کے لئے ریاست کے اداروں کو متنازعہ بنا کر کمزور کرنے کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ جب حکومتِ وقت کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ریاستی اداروں کی کمزوری اور عوام کے نمائندوں سے اُن کی لڑائی میں ہی اُس کی بقا ہے تو پھر اِس ریاست کا اللہ ہی حافظ۔
