جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف بولنے والے اب معافی کے طلبگار کیوں؟

جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں قائم ایک خصوصی عدالت کی جانب سے جنرل مشرف کو آئین شکنی کے جرم پر غدار وطن قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنانے کے فیصلے پر کڑی تنقید کرنے والے وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اب جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ادا کیے گے توہین آمیز الفاظ پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ سے معافی طلب کی ہے۔ یاد رہے کہ توہین عدالت کے اس کیس میں فروغ نسیم کے علاوہ وزیراعظم عمران خان, فواد چوہدری, شہزاد اکبر اور فردوس عاشق اعوان بھی نامزد ہیں. یہ کیس جسٹس وقار احمد سیٹھ کی زندگی میں شروع کیا گیا تھا لیکن انکی اچانک وفات کے بعد اب اس کی سماعت شروع ہوئی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ توہین عدالت کے مرتکب تمام افراد اب معافی تلافی کر کے اپنی جان چھڑائیں گے.
خیال رہے کہ مشرف کو سزائے موت سنانے کے فورا بعد بیرسٹر فروغ نسیم نے فردوس عاشق اعوان اور شہزاد اکبر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے خصوصی عدالت کے فیصلے کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ چونکہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کی ذہنی حالت درست نہیں ہے لہذا ان کے خلاف نااہلی کا ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیا جائے گا۔ کچھ اسی طرح کے ردعمل کا اظہار افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ کوئی فوجی جرنیل کبھی غدار وطن نہیں ہو سکتا تاہم ایسا کہتے ہوئے شاید وہ یہ بھول گئے کہ ہر ایسا شخص جو آئین پاکستان سے کھلواڑ کرتا ہے، آرٹیکل چھ کے تحت غدار وطن اور سزائے موت کا حقدار قرار پاتا ہے۔
توہین عدالت کیس کی کارروائی شروع ہونے پر وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے 13 جنوری کے روز پشاور ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ تمام عدالتوں کا بہت احترام کرتے ہیں اور سنگین غداری کے مقدمے میں سابق فوجی حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو 2019 میں موت کی سزا سنانے والی خصوصی عدالت کے سربراہ پر تلخ تنقید کرنے پر نادم ہیں۔ اس جواب کے بعد جسٹس روح الامین خان چمکانی اور جسٹس محمد ناصر محفوظ پر مشتمل بینچ نے وزیر کو مزید حکم تک ذاتی حیثیت میں پیش ہونے سے استثنی دے دیا۔ یہاں واضح رہے کہ سابق آرمی چیف کے خلاف فیصلے کے بعد توہین عدالت کرنے پر فروغ نسیم کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کے موجودہ معاون خصوصی مرزا شہزاد اکبر اور سابق معاون فردوس عاشق اعوان کو دو یکساں درخواستوں میں نامزد کر کے طلب کیا گیا تھا۔چونکہ شہزاد اکبر اور فردوس اعوان حاضر نہیں ہوئے، تو بینچ نے انہیں تازہ نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فردوس اور شہزاد اکبر نے بھی ندامت کا اظہار کرکے غیر مشروط معافی مانگ لی تو ان کی جان بخشی ہوسکتی ہے ورنہ ان کے لئے مسائل کھڑے ہونے کا امکان ہے۔ اس کیس میں وزیراعظم عمران خان اور آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ جنرل آصف غفور پر بھی الزام ہے تاہم ابھی تک عدالت نے انہیں طلب نہیں کیا۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جسٹس وقار سیٹھ کی وفات کے بعد کیس میں وہ دم خم نہیں رہا اور ممکنہ طور پر معافی مانگ کر سب حکومتی لوگوں کو بچا لیا جائے گا۔
فروغ نسیم نے مشرف کیس فیصلے کے بعد اپنے سابقہ موقف پر ندامت کا ظہار کرتے ہوئے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں تھا کیونکہ خصوصی عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد انہوں نے اپنی ٹیم کو کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا تھا۔ فروغ نسیم نے کہا کہ وہ تمام عدالتوں اور ججوں کا احترام کرتے ہیں اور انہیں بدنام کرنے کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ اپنی باتوں پر انہیں افسوس ہے اور اب چونکہ خصوصی عدالت کے صدر جسٹس وقار احمد سیٹھ اب اس دنیا میں نہیں رہے لہذا وہ ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ بینچ آئین کے آرٹیکل 204 کے ساتھ پڑھے جانے والے توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت وکلا ملک اجمل خان اور سید عزیز الدین کاکا خیل کی دو ایک جیسی درخواستوں کی سماعت کررہا تھا۔ دونوں درخواست گزار ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ بیرسٹر فروغ کے ہمراہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاضی بابر ارشاد بھی موجود تھے۔ اگرچہ وزیر اعظم عمران خان بھی ان درخواستوں میں جوابدہ ہیں لیکن ہائی کورٹ نے ابھی تک اس معاملے میں ان کا جواب نہیں مانگا ہے۔ ملک اجمل کی درخواست میں جواب دہندگان میں فروغ نسیم، شہزاد اکبر اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان شامل ہیں جبکہ ان تینوں کے علاوہ سید عزیزالدین کی درخواست میں وفاقی وزیر فواد چوہدری اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور بطور مدعا علیہ شامل ہیں۔ درخواست گزار عزیزالدین نے مبینہ پر توہین عدالت کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے علاوہ عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ وزیر اعظم اور دیگر جواب دہندگان کو توہین عدالت کے جرم میں کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے کے لیے نااہل قرار دیں۔
درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف شکایت درج کرنے کے بعد خصوصی عدالت تشکیل دی تھی اور یہ الزام 18 فروری 2014 کو پرویز مشرف کے خلاف لگایا گیا تھا تاہم مقدمے سے بچنے کے لیے مشرف بعد میں ملک چھوڑ گئے تھے۔درخواست گزاروں نے کہا کہ پرویز مشرف کو سماعت کے لیے پیش کرنے کے لیے دیے گئے بہت سارے مواقع سے فائدہ نہ اٹھانے کے بعد انہیں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی کے بعد سابق فوجی حکمران کی سزا اور سزائے موت پر 17 دسمبر 2019 کو کارروائی ہوئی ۔درخواست گزاروں نے کہا کہ وزیر اعظم کے علاوہ دیگر جواب دہندگان نے خصوصی عدالت کے صدر مرحوم جسٹس وقار احمد سیٹھ پر مختلف الزامات لگائے تھے جو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی تھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ افراد وزیر اعظم کے ماتحت تھے اور رولز آف بزنس کے تحت وہ انہیں جوابدہ تھے لیکن انہوں نے نہ تو ان کے خلاف کوئی کارروائی کی اور نہ ہی انہوں نے اس سلسلے میں کوئی وضاحت جاری کی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ توہین عدالت میں شامل ہیں۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ اس مضمون کو پڑھنا مجرم لوگوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے لیے کافی ہے۔
