حلیم عادل پر حملہ، سندھ میں بڑی تبدیلی کا امکان

وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ کی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ کے معاملے کے بعد آئی جی سندھ کی تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ کی تبدیلی پر غور شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزراء سمیت پی ٹی آئی ارکان اسمبلی سے بھی مشاورت جاری ہے۔
سندھ میں اکیس گریڈ کا افسر آئی جی لگانے اور کے پی، پنجاب کے افسر کو آئی جی سندھ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت سے نہ ڈرنے والے کو آئی جی لگانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی چیف سیکرٹری اور آئی جی کے کردار سے مایوس ہے۔ وفاقی حکومت کے ایم ایز اور ایم پی ایز کے تحفظات پہنچائے جائیں گے۔ اگلے کچھ عرصے میں سندھ میں بڑی تبدیلی کا امکان ہے۔ وزیراعظم نے مطالبے پر غور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملیر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے اپوزیشن لیڈر سندھ کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے عدالتی حکم پر حلیم عادل شیخ کو ایس آئی یو منتقل کیا جہاں اُن سے تفتیش کی گئی جب کہ اپوزیشن لیڈر سندھ کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ کے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ تین روز قبل عدالتی پیشی کے موقع پر حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کے کمرے سے زہریلا سانپ برآمد ہوا، جسے انہوں نے خود ہی مار دیا تھا۔عدالتی حکم پر سینٹرل جیل منتقل کیے جانے والے تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ کو گزشتہ رات سینے میں درد کی شکایت بھی ہوئی تھی جس پر انہیں قومی ادارہ برائے امراض قلب منتقل کیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ حلیم عادل شیخ کے کندھے، گردن، ہاتھ اور دیگر حصوں پر تشدد کیا گیا جبکہ پیر میں بھی تشدد کی وجہ سے سوجن ہے۔ حلیم عادل شیخ کے ترجمان نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سینٹرل جیل میں حلیم عادل شیخ کی ٹانگ میں راڈ لگی اور ان کے جسم کے دیگر اعضاء پر بھی چوٹیں آئیں۔ اس حوالے سے حلیم عادل نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جیل میں داخل ہوتے ہی متعدد گینگ وار عناصر نے حملہ کردیا، شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے دوران جیل انتظامیہ نے بچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے داعش سے تعلق رکھنے والے ملزمان کی کھولی میں رکھا گیا۔
