حمزہ شہبازعثمان بزدار کو الٹانے کے لیے سرگرم ہو گئے


حمزہ شہباز نے 20 ماہ کی قید کاٹنے کے بعد جیل سے باہر آتے ہی اپنی سیاسی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ حاصل کرنے کے لئے حکومتی ممبران پنجاب اسمبلی سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد نے عثمان بزدار کو وزارت اعلی سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ تجویز آئی تھی کہ چوہدری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کا امیدوار بناکر بزدار کو آسانی سے فارغ کیا جا سکتا ہے لیکن اب مسلم لیگ نے یہ واضح کیا ہے کہ اگر بزدار کو نکالنا ہے تو صوبے کا اگلا وزیراعلیٰ اکثریتی جماعت یعنی نواز لیگ سے ہوگا۔ لہذا قرعہ فال پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے نام نکلا ہے جنہوں نے بلاول بھٹو کے ساتھ ایک حالیہ ملاقات کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور ان حکومتی اراکین اسمبلی سے رابطے کر رہے ہیں جو کہ بزدار کی حکومت سے نالاں ہیں۔
پنجاب میں بزدار سرکار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اپنے پارٹی راہنماؤں کے ساتھ حمزہ شہباز کے ساتھ ایک طویل ملاقات بھی کر چکے ہیں جس میں انہیں پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے 7 اراکین اسمبلی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا گیا۔ اس حوالے سے مریم نواز بھی حمزہ شہباز کا بھرپور ساتھ دے رہی ہیں جس سے وزیراعظم عمران خان کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران اپنے وسیم اکرم پلس عرف بزدار کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں یا پرویز الہی کو نیا وزیر اعلی بنا کر پنجاب میں اپنی حکومت بچانے کی کوشش کرتے ہیں؟
دوسری جانب پنجاب میں ضمنی الیکشن کا سیاسی بخار ابھی کسی طور اترنے میں نہیں آرہا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فروری کے وسط میں ہونے والے ڈسکہ کے حلقہ این اے 75 کے انتخاب کو الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے الزامات اور کمیشن کے عملے کے کئی گھنٹے غائب رہنے کے بعد کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اب دوبارہ 18 مارچ کو اس ضمنی الیکشن کی تاریخ رکھی گئی ہے جس کے لیے بھرپور تیاریاں جاری ہیں اور امی تاثر یہی ہے کہ نواز لیگ کی نوشین افتخار آسانی سے میدان مار لیں گی۔ ایک ہی مہینے بعد دوبارہ ہونے والے اس ضمنی انتخاب میں اب سیاسی منظر نامے پر کافی تبدیلیاں وقوع پزیر ہوچکی ہیں۔ پنجاب کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز 20 ماہ جیل کاٹنے کے بعد ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں اور وفاقی سطح پر حکومت سینیٹ کی اسلام آباد کی سیٹ پر یوسف رضا گیلانی کی صورت میں ایک بڑا اپ سیٹ دیکھ چکی ہے جس نے وزیراعظم عمران خان کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے بھی مجبور کر دیا۔ یاد ریے چونکہ حمزہ شہباز بیس مہینے سے جیل میں تھے لہذا انکی غیر موجودگی میں مسلم لیگ ن کی سیاسی جدوجہد مریم نواز ہی دیکھ رہی تھیں۔ لیکن اب صورت حال مختلف دکھائی دے رہی ہے، حمزہ شہباز نے جیل سے باہر نکلتے ہی اپنی سیاسی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اپنے والد اور ملک کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی طرح حمزہ شہباز بھی مفاہمت کی سیاست کے قائل ہیں جبکہ مریم نواز نے اپنے والد نواز شریف کے بیانیے کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہے جسے قدرے سخت گیر سیاسی موقف سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حمزہ شہباز کی رہائی کے بعد ن لیگ کی سیاسی حکمت عملی اب کیا ہوگی؟ اس سوال کا جواب حمزہ شہباز نے تب خود دے دیا جب انہوں نے بلاول بھٹو کے ہمراہ لاہور میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ پاکستان کو بچانے کے لیے پنجاب میں سیاسی تبدیلی ضروری ہے۔ دوسری جانب حمزہ نے ڈسکہ ضمنی الیکشن کا محاذ بھی سنبھال لیا ہے۔
حمزہ شہباز کے ترجمان عمران گورایا کے مطابق ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کی مہم اب حمزہ شہباز ہی دیکھیں گے اور انہوں نے انتخابی مہم کو ٹیک اوور کر لیا ہے۔ اس حوالے سے سیالکوٹ کے لیگی رہنماؤں، مقامی ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی کو بلا کر ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ لاہور سے ڈسکہ کی انتخابی مہم میں کون کیا رول ادا کرے گا اس بات کا فیصلہ بھی اب حمزہ شہباز ہی کریں گے۔‘ خیال رہے کہ اس سے پہلے ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں مریم نواز نے انتخابی مہم چلائی تھی اور الیکشن سے قبل اور بعد میں خود بھی وہ ڈسکہ گئیں تھیں۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا حمزہ شہباز کے واپس سیاسی میدان میں آنے سے مریم نواز کا رول اب محدود ہو جائے گا؟ مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے مطابق ہماری جماعت کی لیڈرشپ جیلوں میں ہے اور مرکزی لیڈر کا ایک رول ہوتا ہے مریم نواز اصل میں اپنے والد، پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف کی نمائندگی کرتی ہیں۔ حمزہ شہباز اور شہباز شریف کے جیل میں ہونے کی وجہ سے ان پر کام کا بوجھ زیادہ تھا۔ اور ویسے بھی پنجاب میں حمزہ نے 2018 کے انتخابات میں بہت کام کیا ہے ان کی پنجاب کی انتخابی سیاست میں گرفت بھی ہے۔ تو ایسے میں اس سے تاثر لینا کہ یہ کوئی جماعت کے اندر سیاسی کشمکش کی صورت حال ہے ایسا کچھ نہیں۔‘
رانا ثنا نے مزید کہا کہ وہ خود پنجاب مسلم لیگ کے صدر رہ چکے ہیں اور ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کو دیکھیں گے جیسے وہ پہلے وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈسکہ میں چوروں کو الیکشن چوری نہیں کرنے دیا تھا۔ مرکز میں ابھی چیئرمین سینیٹ کا الیکشن ہو رہا ہے تو مریم نواز پی ڈی ایم اور مرکز کی سیاست کو دیکھ رہی ہیں لہذا حمزہ دسکہ ضمنی انتخاب کے معاملے کو دیکھیں گے۔ یہ ایک سادہ سی بات ہے اس کو خواہ مخواہ پیچیدہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک نواز لیگ کے بیانیے کا تعلق ہے تو وہ اب سب پر واضح ہو چکا ہے کہ بیانیہ نواز شریف کا ہی چلے گا کسی کو اس میں شک نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے میں یہ جان بوجھ کر دراڑ کی خبریں چلائی جاتی ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مریم اور حمزہ میں مثالی تعلقات ہیں جس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ احتساب عدالت جا کر بھی گعفتار حمزہ کو ملتی رہین۔
مسلم لیگ ن کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہ گرم سرد کی سیاست مسلم لیگ ن کا اب لازمی جزو ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے نواز شریف اور شہباز شریف کی سیاست دیکھیں تو وہ بھی ہمیشہ ایسی ہی رہی ہے۔ ان کا اپنا اپنا طریقہ ہے لیکن نواز شریف اور شہباز شریف ہمیشہ اکھٹے ہی چلے ہیں چاہے کسی بات پر انکا کتنا بھی اختلاف کیوں نہ ہو۔ اور یہی پالیسی حمزہ شہباز اور مریم نواز بھی لے کر چلیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button