حکومتی مخالفین کو شمالی علاقہ جات کی فری سیر کروانے کا پلان تیار


کپتان حکومت نے سیاحت کو فروغ دینے کے اپنے وعدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان بھر سے باغی اور انقلابی ذہن کے حامل صحافیوں، وکلا، اساتذہ، سماجی کارکنان اور بیوروکریٹ حضرات کو فردا فردا قدرتی نظاروں سے بھر پور شمالی علاقہ جات کی فری سیر کروائی جائے تاکہ ان کی بھٹکی ہوئی سوچ بہتر بنائی جا سکے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کو جہاں بھی موقع ملے وہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کی بات کرتے ہیں۔ خصوصا بیرون ممالک کے دوروں پر، اکنامک فورمز کے اجلاسوں میں عمران خان نے ہمیشہ ہی سیاحت کی ترویج کی بات کی ہے۔ وہ اکثر اپنی گفتگو میں ملک کے شمالی علاقہ جات کے قدرتی حسن کی تعریف کرتے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان صرف باتیں ہی بناتے ہیں وہ اب کسی مغالطے میں نہ رہیں۔ کپتان نے اپنے وعدے پر یو ٹرن لینے کے بجائے اس پر عمل کرنے کا ایک مربوط پلان تیار کرلیا ہے جس کے مطابق عوام کو فرداً فرداً شمالی علاقہ جات کے دلکش نظاروں کی سیر کروائی جا سکتی ہے۔ گمان یہ ہے کہ ہر شخص کی سہولت کے مطابق ان دشوار گزار علاقوں کی سیر کا پروگرام مرتب کیا جائے گا۔ پنجاب ہو یا سندھ ، بلوچستان ہو یا کے پی کے یہ سہولت ہر علاقے کے عوام کے لئے مفت دستیاب ہے۔ نہ اب علاقے کی کوئی قید ہے نہ ذات پات کا کوئی مسئلہ ہے۔ نہ زبان اس تفریح میں آڑے آتی ہے نہ رنگ و نسل کی تخصیص برتی جاتی ہے۔ نہ عمر دیکھی جاتی ہے نہ عہدہ ۔ یہ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے۔
پرانے زمانے میں ان علاقوں میں مدت سے کام کرنے والے ٹور آپریٹر اس طرح کی سیر کے لیے کسی گروپ کی تشکیل کے منتطر رہتے ہیں۔ مگر اب حسن انتظام یہ ہے کہ یہ سیر فرداً فرداً بھی کروائی جا سکتی ہے۔ ٹور آپریٹر کا دعویٰ ہے کہ ہماری کروائی گئی سیر آپ کو تمام عمر یاد رہے گی۔ بلکہ آپ کے قلب و جاں پر اس یاد کے نشان بھی چھوڑ جائے گی۔ ایک دفعہ آپ یہ سیر کر لیں پھر خواب میں بھی آپ کو یہ مناظر بار بار نظر آئیں گے۔ دن بھر آپ کو اسی سیر کا خیال ستائے گا۔ سمجھیں اس سیر کے بعد آپ کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہو جائے گا۔ آپ کو نئی زندگی اور نئی سوچ ملے گی۔ آپ کو زندگی کی قیمت کا پتہ چل جائے گا۔ آپکی سوچ کا زاویہ بدل جائے گا۔ شمالی علاقہ جات کے حسن کی پاکیزگی ایک دفعہ دیکھنے کے بعد آپ کے ذہن سے فاسد خیالات دور ہو جائیں گے، اختلاف رائے مفقود ہو جائے گا اور ہمہ وقت آپ کا قومی مفاد اور خوشحالی کے گیت گانے کو من کرے گا۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس سیر کے لیے آپ کو کسی قسم کے سفری انتظامات یا اخراجات ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ نہ بستر بند درکار ہے نہ کھانے کا ٹفن ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ نہ سفر کے لیے کپڑے رکھنے کی ضرورت ہے نہ ٹکٹ خریدنے کے لیے کسی لائن میں لگنے کی حاجت ہے۔ یہ انتظامات آپکے لیے حکومت کی جانب سے بالکل مفت کیے جاتے ہیں۔ آپ کا رہنا سہنا، کھانا پینا، آمد ورفت کے لیے گاڑی کا انتظام ہر چیز بالکل فری مہیا کی جاتی ہے۔ مسافروں کے آرام کے لیے حکومت کی جانب سے ’پک اینڈ ڈراپ‘ سروس بھی فراہم کی جاتی ہے۔ لیکن حکومت میں بھِی انسان ہیں کام کرتے ہیں، بھول چوک ان سے بھی ہو جاتی ہے۔ ایسی شکایات سنی گئی ہیں کہ ’پک‘ کہیں سے کیا جاتا ہے اور ’ڈراپ‘ کہیں اور کر دیا جاتا ہے۔ اب فری کے ٹرپ میں یہ تو ہو گا۔ اس پر زیادہ ہا ہا کار مچانے کی ضرورت نہیں۔ مفت کے کام میں اتنی تھوڑی تکلیف تو اٹھانی پڑتی ہے۔
مزید یہ کہ اس موقعے پر آپ کو کار پارکنگ کی جگہ تلاش کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ آپ کو جہاں سے ’پک‘ کیا جائے گا کار وہیں پارک رہے گی۔ حتی کے اس میں چابی بھی لگی رہے گی۔ آپ کی کار کی حفاظت کی ذمہ داری بھی حکومت کی ہے۔ کسی کے باپ کی مجال ہے کہ آپ کی عین سڑک کے بیچ پارک کار کی طرف بری نگاہ بھی ڈال دے۔ آپ کی طرح آپ کی کار کی حفاظت بھی حکومت کے ذمے ہے۔ جو مسافر شمالی علاقہ جات کی مفت سیر کی سہولت سے فائدہ آٹھا چکے ہیں وہ سب محکمہ سیر وسیاحت کے بہت ممنون ہیں۔ مطیع اللہ جان اور ساجد گوندل جیسے کئی مسافر تو یہ بھی کہتے پائے گئے ہیں کہ اس سیر کے بعد انہیں نئی زندگی ملی ہے۔ یہ سب ہی ان کے حسن سلوک اور صلہ رحمی کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔ سفر سے واپس آنے والے خوش قسمت مسافروں نے بتایا کہ شمالی علاقہ جات کے مناظر اتنے سحر انگیز ہیں کہ شدت حسن سے آنکھیں پھٹ جاتی ہیں۔ اسی کو مدنظر رکھ کر بعض اوقات مسافروں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے کہ مبادا ان کی آنکھیں پتھرا ہی نہ جائیں۔ اس طرح جب یہ مسافر قدرتی مناظر کو پہلے پہل دیکھ کر اچھل کود کرتے ہیں تو ایک نرم مہین زنجیر سے ان کے ہاتھ پاوں باندھ دیے جاتے ہیں جس سے سفر کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ مسافروں کے چہروں پر اس سفر کے دوارن عین نیند میں بھی بارش کی بوندوں کی پھوار جاری رہتی ہے۔ کچھ مسافر فرط مسرت سے چیخنے چلانے بھی لگتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ ٹور آپریٹرز کی مسلسل توجہ سے یہ مسائل بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ خوشی کے مارے آواز بند ہو جاتی ہے چونکہ سفر طویل اور دشوارگذار ہے اس لئے بعض اوقات اسکے نشانات جسم پر رہ جاتے ہیں۔ جس کے لئے ادارہ معذرت ضرور کر لیتا ہے۔
تجربے نے یہی بتایا ہے کہ اس سفر کے لیے صحافیوں، وکلا، اساتذہ ، سماجی کارکنوں اور بیوروکریٹس کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ نے شمالی علاقہ جات کی سیر کرنی ہے تو آپ کو کیا کرنا پڑَے گا؟ اگر آپ صحافی ہیں تو ارباب بست و کشاد کے خلاف ایک دو خبریں فائل کر دیں، اگر آپ وکیل ہیں تو کسی مجمعے میں مشرف کے خلاف ایک دو نعرے لگا دیں۔ استاد ہیں تو طلبہ کو آیئن کی سر بلندی کا درس دے دیں اور اگر آپ سماجی کارکن ہیں تو "مسنگ پرسنز” کے لئے آواز اٹھا دیں۔ آپ کا ٹکٹ پکا۔ پھر کسی وقت بھی آپ کی سواری آ سکتی ہے۔
کپتان حکومت کی اعلی ظرفی دیکھیں شمالی علاقہ جات کی سیر کے بعد بھی مسافروں کا خیال رکھتی ہے۔ سیر کی تکان دور کرنے کے لئے انہیں طویل رخصت پر ان کے اپنے ہی گاوں بھیج دیتی ہے۔ تاکہ آپ سنگلاخ پہاڑوں کے سفر سے بعد اب گاوں کے ماحول کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں۔ وہاں آپ ٹیوب ویل کے پانی میں نہائیں، درختوں کی چھاوں میں بیٹھیں، حقے کا کش لگائیں، غرض جو جی میں آئے کریں بس ہری بھری فصلوں سے دور رہیں کیونکہ یہاں سے محکمہ سیر و سیاحت کی حد ختم اور محکمہ زراعت کی حد شروع ہو جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button