موٹروے ریپ کے ملزمان کی شناخت ،گرفتاری نہ ہو سکی

https://youtu.be/282TeOdHmrI
معلوم ہوا ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر حوا کی بیٹی کے ساتھ اس کے معصوم بچوں کی موجودگی میں گینگ ریپ کرنے والے ملزمان کی شناخت ہوگئی ہے اور ملزمان میں سے ایک کا ڈی این اے سامپل اس خون سے میچ کرگیا ہے جو کہ گاڑی کے شیشے توڑتے وقت زخم لگنے سے نکلا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق جس شخص کا ڈی این اے سامپل جائے وقوعہ پر پائے جانے والے خون سے میچ کیا ہے اس کا نام عابد ہے جو کہ ایک عادی مجرم اور سیریل ریپسٹ ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کا تعلق موٹروے کے قریب واقع کرول گاؤں سے ہے اور وہ ماضی میں بہاولنگر میں ایک ماں اور بیٹی کے ریپ میں 2013 سے مطلوب تھا۔ پولیس کے مطابق کرول گاؤں سے تعلق رکھنے والا عابد ایک سیریل ریپسٹ ہے اور اس کا ڈی این اے بہاولنگر میں ماں اور بیٹی کے ساتھ ریپ کرنے والے ملزم کے سامپل سے بھی میچ کرگیا ہے۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے اور پولیس حکام کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ ملزم عابد کی نشاندہی ڈی این اے پروفائل کے ذریعے اس خون سے ہوئی جو متاثرہ خاتون کی گاڑی کا شیشہ توڑتے وقت زخم لگنے سے نکلا اور ریپ ہونے والی خاتون کے کپڑوں پر بھی پایا گیا۔
دوسری طرف لاہور سیالکوٹ موٹروے پر زیادتی کا شکار ہونے والی حوا کی بیٹی کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ یہ اندوہناک واقعہ پیش نہ آتا اگر کار کا پٹرول ختم ہونے کے بعد انکی جانب سے ہیلپ لاہن پر کی گئی کال کے نتیجے میں پولیس موقع پر پہنچنے میں ڈیڈھ گھنٹہ ضائع نہ کرتی۔ خاتون کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہیلپ لائن پر کی گئی کال کے فورا بعد پولیس کی بجائے ملزمان وہاں پہنچ گئے جن کو گاڑی میں اکیلی خاتون اور بچوں کی موجودگی کا پہلے سے اندازہ تھا حالانکہ ان کی کار کے شیشے کالے تھے اور باہر سے نہیں پتہ چل سکتا تھا کہ اندر کون موجود ہے۔ لیکن ان کی ہیلپ لائن پر کال کے فورا بعد ہی ملزمان آ گئے اور آتے ہی ڈنڈوں اور اینٹوں سے گاڑی کا شیشہ توڑنا شروع کر دیا جس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ انہیں مخبری تھی کہ ایک اکیلی اور نہتی خاتون بچوں کے ساتھ اس میں موجود ہے۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ مخبری ہیلپ لائن پر ہونے والی کال سے ہوئی؟ تاہم پولیس ذرائع اس مفروضے کو رد کرتے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ رات کے اس پہر صرف جرائم پیشہ افراد ہی ایسی بھیانک واردات کر سکتے ہیں جیسا کہ اب ثابت بھی ہو رہا یے۔
دوسری طرف سینیئر صحافی اور ٹی وی اینکر فریحہ ادریس نے سیالکوٹ لاہور موٹروے پر  زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون سے بات چیت کی ہے اور پھر اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ٹویٹس کے ذریعے اس کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ فریحہ ادریس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون اس رُوٹ کے ذریعے ماضی میں بھی کئی بار سفر کر چکی ہیں۔ وہ گوجرانوالہ سے ڈیفنس اپنے فیملی فرینڈز کے یہاں دعوت پر آئی تھیں جنہوں نے انہیں اس راستے پر سفر کرنے سے منع بھی کیا لیکن خاتون کا کہنا تھا کہ ’وہ پہلے بھی یہاں سے سفر کر چکی ہیں اور یہ راستہ محفوظ ہے۔‘ تاہم اس مرتبہ ان کے ساتھ بدقسمتی یہ ہوئی کہ ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا۔ متاثرہ خاتون نے فریحہ ادریس کو بتایا کہ ’جب گاڑی رُک گئی تو اس نے فوراً موٹروے پولیس کے ایمرجنسی نمبر 130 پر کال کی اور انہیں اپنا مسئلہ بتانے کے بعد اپنی لوکیشن سے آگاہ کیا۔ موٹروے پولیس نے مجھے ایک لوکل نمبر دیا اور کہا کہ میں اس نمبر سے مدد لے سکتی ہوں۔ میں نے اس نمبر پر کال کی اور انہیں بھی اپنی لوکیشن سے آگاہ کیا۔ تاہم پولیس کی مدد تو نہ پہنچی لیکن دو شیطان وہاں ضرور پہنچ گئے۔
فریحہ ادریس کا کہنا ہے کہ ہیلپ لائن پر کال کرنے کے بعد متاثرہ خاتون کے بقول وہ اپنی گاڑی میں بچوں کے ساتھ مدد کا انتظار کر رہی تھیں اور گاڑی کو اندر سے لاک کر رکھا تھا۔ خاتون کے مطابق اس دوران دو افراد اچانک سیدھے ان کی گاڑی کی طرف آتے دکھائی دئیے۔ ان کے ہاتھ میں بندوق بھی تھی اور انہوں نے آکر مجھے دھمکانا شروع کر دیا۔
وہ جانتے تھے کہ گاڑی کے اندر ایک اکیلی خاتون اپنے بچوں کے ساتھ موجود ہے۔ ان کے ہاتھ میں ڈنڈے اور پتھر بھی تھے، میں خوف زدہ ہو گئی لیکن گاڑی وہاں سے نکال بھی نہیں سکتی تھی۔ انہوں نے زور زور سے گاڑی کے شیشے پر مکے مارے اور دروازہ کھولنے کو کہا تاہم میں نے ایسا نہیں کیا۔ تب انہوں نے ڈنڈوں اور اینٹوں سے گاڑی کے شیشے توڑ کر دروازہ کھول دیا اور مجھے باہر نکال لیا۔ پھر انہوں نے مُکوں سے مجھے مارنا شروع کر دیا اور ساتھ میرے بچوں کو بھی مارا پیٹا۔‘
متاثرہ خاتون کے مطابق ان میں سے ایک شخص نے میری دو سالہ بیٹی کو پکڑ کر نکال لیا اور اپنے ساتھ گھسیٹنا شروع کر دیا۔ میں نے بچی کو بچانے کے لیے اس کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا۔ اس دوران وہاں سے گزرنے والی ایک گاڑی کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا، مجھے یقین تھا کہ وہ گاڑی رُک جائے گی اور ان کی مدد کی جائے گی۔ لیکن افسوس کہ اس گاڑی سے مجھے مدد نہیں ملی۔ اس دوران میں صرف اپنے بچوں کے بارے میں فکرمند تھی اور انہیں بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔ انہوں نے میرے بچوں کو بُری طرح پیٹا۔ متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ ’میرے بچوں اور خود ان کا بھی خون بہہ رہا تھا۔ بچوں کے جوتے روڈ پر پڑے ہوئے تھے۔ ان کے عزائم واضح تھے، مجھے حیرانی نہیں ہوئی کہ انہیں کسی نے میرے بارے میں اطلاع دی ہے۔ انہوں نے جو منصوبہ بنایا تھا وہ اس پر عمل کرنے کے لیے مکمل تیار نظر آرہے تھے۔
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس دوران میرا موبائل فون نیچے گر گیا جو کہ بعد میں گاڑی کی سیٹ کے نیچے سے ملا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ میرے بچوں کی جان بخشی کے عوض مجھے ویرانے میں لے جا رہے تھے تو اس دوران بھی میں نے اپنے بچوں کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ گھبرانا نہیں میں ٹھیک ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران ان میں سے ایک شخص نے میرے سر پر بندوق ماری۔ میں اس دوران دعا پڑھ رہی تھی اور اپنے بچوں سے کہا کہ وہ بھی ایسا ہی کریں۔ بچوں نے بھی دعا پڑھنا شروع کر دی۔
فریحہ ادریس کے مطابق متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ’وہ دونوں افراد انہیں اور ان کے بچوں کو جانوروں کی طرح گھسیٹ رہے تھے، اس دوران میرا چھینا گیا بیگ ان سے گر گیا جس میں پانچ لاکھ روپے کا سونے کا کڑا، ایک لاکھ روپے نقد اور دیگر قیمتی اشیا موجود تھیں۔ بیگ کی تلاش کے لیے انہوں نے مجھے گن پوائنٹ پر رکھا اور پھر بیگ تلاش کیا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق بیگ مل جانے کے بعد دونوں درندے مطمئن ہو گئے اورپھرانھوں نے مجھے باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا۔ وہ کسی دباؤ کا شکار نظر آرہے تھے نہ ہی انہیں پولیس کے آنے کا کوئی خوف تھا۔ اس دوران پولیس کو کی گئی پہلی کال کے بعد ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا تھا۔ واقعے کے بعد موٹروے پولیس وہاں پہنچی۔ پولیس اہلکاروں نے گاڑی میں خون اور ٹوٹے ہوئے شیشے دیکھے اور مقامی پولیس کو فون کر کے اطلاع دی۔ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ’وہ بُری طرح زخمی ہو چکی تھیں، ان کے پیر سُوجھے ہوئے تھے اور سر سے خون بہہ رہا تھا۔ بچوں کا بھی یہی حال تھا۔ جو فیملی متاثرہ خاتون اور ان کے بچوں کو لینے تھانے گئی اس کا کہنا تھا کہ وہ سب کیچڑ میں لتھڑے ہوئے تھے اور انتہائی خوفزدہ تھے۔ اس فیملی کے مطابق بچوں نے کئی گھنٹے تک کسی سے کوئی بات نہیں کی۔ ’متاثرہ خاتون کی فیملی کا کہنا ہے کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔
فریحہ ادریس کا کہنا ہے کہ ذیادتی کا شکار ہونے والی بد قسمت خاتون سخت صدمے کی حالت میں تھیں۔ متاثرہ خاتون کے مطابق انکی گاڑی کی شیشے مخصوص قسم کے تھے اور یہ تقریباً ناممکن ہے کہ کوئی باہر سے دیکھ کر یہ بتا دے کر میں گاڑی میں اکیلی ہوں۔ جب خاتون نے اس فیملی کو کال کی جن کے گھر وہ ڈنر پر گئی تھیں تو اس وقت وہ بہت غمگین اور دکھی تھیں، جب ان کے قریبی دوست انہیں لینے آئے تو پولیس نے خاتون کو گھیر لیا۔ وہ انہیں طبی معائنے کے بغیر جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ فریحہ کہتی ہیں کہ سخت دباؤ کا شکار فیملی نے پولیس سے گزارش کی کہ خاتون کو جانے دیا جائے۔ ان کے دوست کے مطابق ’ان کی آنکھیں باہر نکل رہی تھیں اور وہ کانپ رہی تھیں۔‘  ’حتیٰ کہ انہوں نے اپنے دوست اور فیملی کو پہچاننے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ بات زیادہ غمگین اور دل دہلا دینے والی تھی۔‘
فریحہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ کرانے پر زور دیا جو کہ یقیناً ایک پیشہ وارانہ ضرورت تھی۔ متاثرہ خاتون کے مطابق پولیس نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اس بات کو خفیہ رکھا جائے گا لیکن ان کی ذاتی تفصیلات بھی افشا کر دی گئیں۔ فریحہ نے بتایا کہ واقعے کے بعد گھر پہنچ کر متاثرہ خاتون زور زور سے چلاتی رہیں کی مجھے مار دو، مجھے ختم کر دو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button