باپ نے ریپ کرنے والے بیٹے کو گولی مارنے کا مطالبہ کر دیا

https://youtu.be/MiY3FrJQ-hs
موٹروے گینگ ریپ کیس کے ایک ملزم عابد علی کے والد اکبر علی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے بیٹے کو ریپ کے جرم میں سرعام گولی مار دینی چاہیے۔
ملزم عابد علی کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ عادی مجرم ہے اور 2013 میں بہاولنگر میں ایک ماں اور بیٹی کو ریپ کرنے کے بعد سے اپنے خاندان سے الگ شیخوپورہ میں مقیم ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ 2013 میں بہاولنگر میں ایک ماں بیٹی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ بعد ازاں خاندانی جرگے کے فیصلے کے مطابق اس کو معافی مل گئی اور سزا کے طور پر اسے علاقے سے بے دخل کر دیا گیا۔ تاہم ابھی تک پولیس کے سفاک درندے کو قابو کرنے میں ناکام ہے اور اس بات کی تردید کر رہی ہے کہ ملزم گرفتار ہوچکا ہے۔ سی ٹی ڈی کی ٹیمیں لاہور کے آس پاس مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہیں تا کہ دونوں ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔
موٹروے اجتماعی زیادتی کیس کے ملزم عابد کے بہاولنگر ریپ کیس کی تفصیلات کے مطابق اس نے 2013 ء میں اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ یہ گھناؤنی واردات کی تھی۔ چھے ماہ تک کیس زیر سماعت رہنے کے بعد ملزموں نے ڈرا دھمکا کر مدعی سے بذریعہ جرگہ صلح کر لی تھی۔ 27 سالہ ملزم عابد علی ضلع بہاولنگر کی تحصیل فورٹ عباس کا رہائشی ہے اور صرف تین جماعتیں پاس ہے۔ 2013 کے وقوعے کے بعد بدنامی کے ڈر سے متاثرہ ماں بیٹی کا خاندان بھی وہ علاقہ چھوڑ گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مبینہ ملزم عابد اور اس کا خاندان 5 سال قبل فورٹ عباس سے شیخوپورہ کے قریب چھانگا مانگا منتقل ہو گیا تھا۔ موٹروے زیادتی کیس کے مبینہ مرکزی ملزم کے والد اکبر علی نے اپنے ایک بیان میں پولیس کو کہا ہے کہ کافی عرصے عابد علی شیخوپورہ روڈ پر قلعہ ستار شاہ میں رہائش پذیر تھا۔ والد کے مطابق عابد علی شادی شدہ ہے اور ایک بیٹی کا باپ بھی ہے۔ عابد کے بارے میں اس کے باپ کا کہناتھا کہ وہ ایک فیکٹری میں محنت مزدوری کرتا تھا۔ والد نے تصدیق کی ہے کہ عابد علی دو روز قبل شام 6 بجے میرے گھر چھانگا مانگا آیا اور رات یہاں گزاری کر دوسرے دن سہ پہر روانہ ہو گیا۔ باپ کے بیان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ عابد ریپ کی واردات کرنے کے بعد باپ کے گھر پہنچا تھا۔ ملزم کے والد کا کہنا ہے کہ اگر اسکا بیٹا اس واردات میں ملوث ہے تو میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اسے سر عام گولی مار دینی چاہیے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کا خاندان جرائم میں ملوث ہے کیونکہ وہ اپنی بہن کو بھی قتل کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ ملزم عابد علی کی شناخت ڈی این اے میچ ہونے کی بنا پر ممکن ہوئی، خاتون کے لباس اور گاڑی سے ملنے والے خون کے نمونوں سے ڈی این اے میچ ہونے والے ملزم کا پہلے بھی کریمنل ریکارڈ ہے۔ ملزم کا ڈی این اے 2013ء کے ڈیٹا بیس سے بھی میچ ہو گیا ہے۔ تاہم عابد علی کو تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا اس مقصد کیلئے سی ٹی ڈی کی طرف سے کارروائی کی جارہی ہے ۔

دوسری طرف اطلاعات کے مطابق ملزم عابد علی کے دوسرے ساتھی کی بھی شناخت ہو گئی ہے۔ دوسرے ملزم کا نام وقارالحسن شاہ بتایا جا رہاہے، جو کہ چھانگا مانگا کا رہائشی ہے ، ذرائع کے مطابق ملزم وقار عابدعلی کا دوست ہے اور دونوں اکٹھے رہتے ہیں۔ اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں ملزمان کے خلاف ڈکیتی کے دوران زیادتی کے مختلف مقدمات درج ہیں اور وہ کافی عرصے سے پولیس کو مطلوب ہیں۔
