موٹروے ریپ کیس پر شیریں مزاری اور انکی بیٹی کا جھگڑا وائرل

https://youtu.be/1QOHLQaMIys
لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایک نہتی خاتون کے گینگ ریپ کے بعد وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری اور ان کی بیٹی ایمان زینب مزاری اس وقت ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئیں جب ایمان نے عوامی غیض و غضب کی ترجمانی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر اسد عمر کا رگڑا نکالا اور اس واقعہ پر انکے بیہودہ مؤقف کی مذمت کرتے ہوئے ان پر لعن طعن کی۔
ایمان زینب مزاری نے ٹویٹر پرعثمان بزدار، اسد عمر اور شہزاد اکبر کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے انہیں گینگ ریپ کرنے والوں کا سہولت کار قرار دے دیا اور یہ لکھا کہ "ان مرد حضرات کے چہرے نہ بھولیں۔ یہ وہ نام نہاد لیڈرز ہیں جنہوں نے ایک مظلوم عورت کی بجائے ایک کرپٹ اور زن بیزار پولیس آفیسر کا دفاع کرنے کو ترجیح دی حالانکہ انہیں ریپ وکٹم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ زینب کی اس ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ، دونوں حکومتی وزرا اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف لعن طعن میں تیزی آ گئی جس کا پریشر لیتے ہوئے شیریں مزاری میدان میں آ گیئں اور اسد عمر اور شہزاد اکبر کی بھرپور طرفداری شروع کر دی۔ چنانچہ یہ معاملہ اور بھی گرم ہو گیا اور سوشل میڈیا صارفین نے ایمان زینب کے موقف کی بھرپور حمایت اور ان کی والدہ کی مذمت کا سلسلہ تیز کر دیا۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کی بے اختیار وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان زینب مزاری سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی و سماجی معاملات پر اپنی رائے دینے سے نہیں چوکتیں خواہ وہ ان کی والدہ کی پارٹی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ فیض آباد دھرنے پر جب زینب کا ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا تھا تو اس وقت پی ٹی آئی کے ہمدرد سوشل میڈیا صارفین نے نہ صرف انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ شیریں مزاری سے بھی معاملے پر وضاحت مانگی جس پر انہوں نے اپنی بیٹی کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ان کی بیٹی بالغ ہے اور اس کو اپنا نقطہ نظر رکھنے کی آزادی ہے۔ اب ایک بار پھر ایمان زینب مزاری کی ٹویٹ نے شیریں مزاری کو وضاحت دینے پر مجبور کر دیا ہے جب کہ ریپ کا یہ واقعہ براہ راست شیریں مزاری کی وزارت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے شیریں مزاری نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے اس بیان کی شدید مذمت کی تھی جس میں انہوں نے ریپ ہونے والی خاتون کہ رات کو موٹروے پر سفر کرنے کے فیصلے کو اس واقعے کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ شیریں مزاری نے جب سے یہ وزارت سنبھالی ہے انہوں نے ایسے واقعات پر بیان بازی کے علاوہ کوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔
اب جب ان کی بیٹی زینب نے وفاقی وزیر اسد عمر، عثمان بزدار اور شہزاد اکبر کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے انہیں ایک کرپٹ پولیس افسر کا سہولت کار قرار دیا تو انکی والدہ شیریں مزاری نے اسے ‘بالکل غلط’ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ‘اسد عمر نے میرے بیان کا دفاع کیا ہے اور سی سی پی او پر تنقید کی ہے۔ شہزاد اکبر نے بھی واضح طور پر سی سی پی او کے بیان پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں سے کسی نے بھی سی سی پی او کے بیان کا دفاع نہیں کیا۔ آئی جی نے بھی ان کے بیان کے خلاف ایکشن لیا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ‘اس معاملے پر خصوصاً خواتین میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جو بالکل درست ہے لیکن ان وزرا کو مورود الزام ٹھہرا کر اپنا غصہ نکالنا جنہوں نے سی سی پی او کے بیان پر تنقید کی، زیادتی کے اس سنجیدہ جرم پر سیاست کرنے کے مترادف ہے۔
تاہم سچ تو یہ ہے کہ عمر شیخ کو سنٹرل سلیکشن بورڈ کی جانب سے ایک داغدار کیریئر کا حامل افسر قرار دیے جانے کے باوجود لاہور کا سی سی پی او لگوانے میں وزیراعظم کے مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور اسی لئے ریپ کے واقعے کے بعد انہوں نے لاہور پہنچ کر عمر شیخ کے ساتھ کھڑے ہوکر کر میڈیا کے سامنے ان کے بھونڈے بیان کا دفاع کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ میڈیا اس بیان کو غلط رنگ دے رہا ہے۔ اسد عمر نے بھی کیپٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے یہی موقف اختیار کیا تھا کہ سی سی پی او کا بیان تو مناسب نہیں لیکن اس کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔یعنی شیریں مزاری نے بھی دیگر حکومتی وزراء کی طرح کوے کو سفید قرار دیا اور غلط کو صحیح بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔
ماں بیٹی کے درمیان اس معاملے پر اختلافی ٹویٹس کا تبادلہ دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین بھی تبصرے کیے بغیر نہ رہ سکے۔ باجی پلیز کے نام سے ٹوئٹر ہیینڈل نے لکھا کہ ‘ آپ دونوں اپنے مسئلے گھر میں حل کریں۔’ جس پر ایمان زینب مزاری نے جواب دیا کہ ‘ہمارا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ عورتیں جب ایک دوسرے سے سیاسی، قانونی یا اور کوئی اختلاف کرتی ہیں اسے گھریلو معاملہ دکھانا خود ہی ایک تعصب پر مبنی تبصرہ ہے جو صرف اس لیے دیا جاتا ہے کہ عورت کی آواز کو دبایا جا سکے۔ پبلک ایشو پر پبلک بحث۔
ڈاکٹر ملک ضیا نامی صارف نے لکھا کہ ‘یہ کوئی وکھری ٹائپ کی ماں بیٹی ہیں. بیٹی کو حقوق خواتین کا چورن بیچنا ہے اور ماں بے چاری کو سونے سے ہی فرصت نہیں۔ لیکن ذیادہ تر صارفین نے زینب مزاری کی ٹویٹ سے اتفاق کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر اور شہزاد اکبر پر شدید تنقید کے نشتر چلائے اور لکھا کہ وہ ایک نااہل، کرپٹ اور داغدار پولیس آفیسر کو بچانے کی خاطر اس کا جھوٹا اور بھونڈا دفاع کر رہے ہیں۔ کچھ صارفین نے تو یہ بھی پوچھا کہ اگر ریپ ہونے والی خاتون انکے گھر کی فرد ہوتی تو اسد عمر اور شہزاد اکبر کا کیا موقف ہوتا؟
رومی نامی صارف نے اسد عمر کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ‘اسد واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ ہم سی سی پی او کے گھٹیا بیان پر کوئی ایکشن نہیں لے سکتے۔ انہیں سی سی پی او سے مستعفی ہونے کا کہنا چاہیے تھا۔ یہ ان کا کام ہے کہ شہریوں کی حفاظت کریں، انہیں محفوظ محسوس کرائیں اور متاثرہ فریق کو الزام نہ دیں۔ یہ شرمناک ہے۔ ایک اور صارف عمران علی نے لکھا کہ ‘شہزاد اکبر نے واضح طور پر عمر شیخ کی سائیڈ لی اور میڈیا کو لتاڑا۔ اسنے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کی اس داغدار اور بدزبان سی سی پی او کے ساتھ ساتھ شہزاد اکبر اور اسد عمر سے بھی چھٹکارہ پائیں۔ آپ کی حکومت کو اس سے فائدہ ملے گا۔
لاہور سیالکوٹ واقعے پر شیریں مزاری نے اسد عمر اور شہزاد اکبر کی طرفداری کرکے شاید پارٹی میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کی ہے تاہم سوشل میڈیا پر زیادہ تر صارفین شیریں مزاری کی بجائے ان کی بیٹی ایمان زینب کے موقف کو زیادہ سراہتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے عوامی جذبات کی ترجمانی کی ہے۔
