حکومت اب تک کس کس سیاستدان کا رگڑا نکال چکی

سیاستدانوں کے احتساب کا ایجنڈا لے کر اقتدار میں آنے والی تحریک انصاف کی حکومت پچھلے ڈیڑھ برس میں نیب کے ذریعے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے درجنوں نامور سیاستدانوں کا رگڑا نکال چکی ہے۔ تاہم کسی ایک بھی سیاستدان کو سزا نہ ہوسکی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کا احتساب ہوا تو وہ بھی اقامہ رکھنے کے جرم میں۔ اور پھر جب حکومت کو بدلتی ہوئی ہواؤں کا اشارہ ملا تو فوری طور پر ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قومی احتساب بیورو کے اختیارات میں کمی کر دی۔
پچھلے ڈیڈھ برس میں حکومت کے ایما پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز، سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسمٰعیل کیخلاف نیب ریفرنس دائر ہوئے۔ پیپلزپارٹی بھی محفوظ نہ رہ سکی۔ سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو، خورشید شاہ، آغا سراج درانی و دیگر کے گرد بھی قانون کا گھیرا تنگ کیا گیا۔ کہاں کسی ایک بھی سیاستدان کے خلاف نہ تو کوئی جرم ثابت ہوا اور نہ ہی اسے سزا ہوسکی۔
24 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ لیکن پھر 6 جولائی 2019 کو مریم نواز جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائیں اور 12 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ، 10 اکتوبر کو نیب کی جانب سے چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔ سابق وزیراعلی شہباز شریف نے 24 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی استدعا کی۔ 25 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک کروڑ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔
16 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔عدالت عالیہ سے اجازت ملنے کے بعد نواز شریف 19 نومبر کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے لندن روانہ ہو گئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 ستمبر 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی بھی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔
چوہدری شوگر مل کیس میں نیب نے 8 اگست کو مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے بعد واپسی پر جیل کے باہر سے گرفتار کیا۔ 25 ستمبر 2019 کو احتساب عدالت نے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ اکتوبر کے اواخر میں ان کے والد نواز شریف کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی جس کے باعث انہوں نے 24 اکتوبر کو بنیادی حقوق اور انسانی بنیادوں پر فوری رہائی کے لیے متفرق درخواست دائر کی۔عدالت عالیہ نے مریم نواز کی درخواست ضمانت کو منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
کیپٹن (ر) صفدر کو 21 اکتوبر 2019 کو اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے پنجاب پولیس نے گرفتار کیا ۔تھانہ اسلام پورہ میں ان کے خلاف درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق کیپٹن (ر) صفدر کو عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔30 اکتوبر کو لاہور کی سیشن عدالت نے پاکستانی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور دھمکیاں دینے کے کیس میں کیپٹن (ر) صفدر کی درخواست ضمانت 2 لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کی تھی۔
شہباز شریف کو 5 اکتوبر 2018 کو نیب لاہور نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں حراست میں لیا تھا۔ 14 فروری 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔
11جون 2019 کورمضان شوگر ملز، آمدن سے زائد اثاثہ جات اور صاف پانی کیس میں عدالت عالیہ کی طرف سے ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے پر نیب نے حمزہ شہباز کومبینہ منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمات میں گرفتار کیا اور تاحال وہ نیب کی حراست میں ہیں۔ ۔
انسداد منشیات فورس اے این ایف نے یکم جولائی 2019 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد-لاہور موٹروے سے گرفتار کیا۔24 دسمبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے مبینہ منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مائع قدرتی گیس کیس میں گرفتار کیا تھا، اس کے علاوہ 7 اگست کو ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے پر مفتاح اسمٰعیل کو بھی عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔ 23 دسمبر کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما مفتاح اسمٰعیل کی درخواست ضمانت منظور ہوئی تھی اور انہیں 26 دسمبر 2019 کو رہا کر دیا گیا جبکہ شاہد خاقان عباسی تاحال نیب کی حراست میں ہیں۔
نیب نے 11 دسمبر 2018 کو پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں خواجہ برادران، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو ضمانت مسترد ہونے پر لاہور ہائی کورٹ سے حراست میں لیا۔ تاحال دونوں بھائی نیب کی حراست میں ہیں۔
23دسمبر 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو نارووال کے اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ بدعنوانیوں سے متعلق کیس میں گرفتار کیا۔
8فروری 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ کامران مائیکل کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ 8نومبر 2019 کو سندھ ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے کامران مائیکل کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
10 جون 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر پاکستان، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی، جس کے بعد نیب کی ٹیم نے آصف علی زرداری کو زرداری ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کرلیا
11دسمبر 2019 کو عدالت عالیہ نے پی پی پی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کی تھی، جس کے دوسرے ہی روز احتساب عدالت سے ان کی رہائی کی روبکار جاری ہونے کے بعد سابق صدر کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) سے رہا کردیا تھا جبکہ 17 دسمبر 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس کے ذریعے میگا منی لانڈرنگ کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن اسمبلی اور سابق صدر آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کی ضمانت منظور کرکے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
18 ستمبر 2019 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے قومی اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا تھا۔ 17دسمبر کو سکھر کی احتساب عدالت نے رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت منظور کی جبکہ 23 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ کے سکھر بینچ نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی رہائی کا حکم 16 جنوری تک کے لیے معطل کردیا تھا۔
سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں 20 فروری 2019 کو اسلام آباد میں گرفتارکیا۔ 13 دسمبر 2019 کو سندھ ہائیکورٹ نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔
6 فروری 2019 کو آمدن سے زائد اثاثوں اور آف شور کمپنی سے متعلق تحقیقات میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے طلب کرنے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان، نیب لاہور کے آفس میں پیش ہوئے تھے، جہاں انہیں تفتیش کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا۔ 15 مئی 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے سابق صوبائی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی ضمانت منظورکی۔
14جون 2019 کو نیب لاہور نے وزیر جنگلات پنجاب اور پی ٹی آئی کے رہنما سبطین خان کو بد عنوانی کے الزام کی انکوائری کے دوران گرفتار کیا تھا۔ جبکہ 18 ستمبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button