حکومت چین سے طلبہ کوواپس نہ لانے کے فیصلے پر نظرثانی کرے

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان چین سے اپنے شہریوں کو واپس نہ لانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ عدالت چاہتی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کی ذمہ داری لے. انہوں نے اسفسار کیا کہ اگر کسی ایک پاکستانی کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
عدالت عالیہ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چین میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق میاں فیصل ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت میں وزارت خارجہ اور وزارت صحت کے نمائندے پیش ہوئے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے کورونا وائرس کے بعد کیے جانے والے اقدامات کی رپورٹ پیش کی گئی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ پاکستان اپنے شہریوں کو چین سے واپس کیوں نہیں لارہا؟ بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک اپنے شہریوں کو وہاں سے نکال رہے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ بنگلہ دیش اپنے شہریوں کو نکال سکتا ہے تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کرسکتا، اس پر وزارت صحت کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کو الگ کیا جائے۔ دوران سماعت چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان چین سے اپنے شہریوں کو واپس نہ لانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے’ہم کوئی حکم جاری نہیں کر رہے لیکن اس حوالے سے حکومت ایک بار نظرثانی کر لے، ہم آپ کو دو ہفتوں کا وقت دے دیتے ہیں۔‘
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک اپنے شہریوں کو چین سے نکال رہے ہیں ہم اپنے شہریوں کو کیوں نہیں نکال رہے؟‘ وزارت خارجہ کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ 194 ممالک میں سے صرف 23 ممالک نے اپنے شہریوں کو چین سے نکالا ہے جبکہ بنگلہ دیش نے چین سے اپنے شہریوں کو نکالنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’23 ممالک اپنے شہریوں کو محفوظ بنانے کے انتظامات کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ پاکستانی طلبا اس وقت چین میں محصور ہیں۔ آسٹریلیا نے چین سے واپس آئے شہریوں کو کسی جزیرے پر رکھا ہے آپ گوادر کے پاس رکھ لیں۔‘ وزارت خارجہ کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ چین سے مسافروں کی آمدورفت پر کوئی پابندی نہیں، ایئرپورٹس پر سکریننگ کی جا رہی ہے۔ چین نے اپنے شہر ووہان کو مکمل لاک ڈاؤن کر رکھا ہے اور وہاں ایک ہزار پاکستانی موجود ہیں۔
وزارت خارجہ کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ چینی وزیر خارجہ نے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ ووہان میں پاکستانیوں کا خیال رکھا جائے گا۔ ’چین کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں انہوں نے یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ پاکستانی ہمارے اپنے لوگوں کی طرح ہیں۔‘ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ’کیا ہم اپنے شہریوں کو نکالیں گے تو چین سے ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے؟ کیا ریاست بیان حلفی دے گی کہ اگر ایک بھی شہری کو کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟‘ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ حکومت شہریوں کو تحفظ میں سنجیدہ نہیں، حکومت پوری کوشش کر رہی ہے اور یہ ایمرجنسی صورتحال ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’ہم اس کے ماہر نہیں ، یہ وزارت خارجہ کا کام ہے اور آپ نے ملک میں موجود 20 کروڑ افراد کو ذہن میں رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔‘ وزارت خارجہ کے نمائندے نے کہا کہ تمام صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پاکستان اور چین میں موجود پاکستانیوں کے مفاد میں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سفیر کو ووہان شہر جانے کی اجازت چین سے مانگی گئی تھی لیکن چینی حکومت نے کہا کہ وہ خطرہ مول نہیں لے سکتے۔
چف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ ’عدالت چاہتی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کی ذمہ داری لے، آپ دو ہفتوں کا وقت لے لیں، چین میں پھنسے پاکستانیوں کو نہ نکالنے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ ہم کوئی حکم جاری نہیں کر رہے ہمارے فیصلے کے اثرات ہوں گے۔‘
خیال رہے کہ چین میں مہلک کورونا وائرس کے وار سے اب تک 900 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 40 ہزار کے قریب اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چین کے صوبے ہوبے کے شہروں کا لاک ڈاؤن اور ملک سے زمینی و فضائی روابط منقطع کردئیے گئے تھے جبکہ لاکھوں افراد کی نقل و حرکت بھی روک دی گئی. اس کے علاوہ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے اقدامات کیے تھے تاہم پاکستان نے وہاں سے پاکستانیوں کو واپس نہ لانے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم گزشتہ دنوں حکومت پر پڑنے والے دباؤ کے باعث معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا تھا کہ اس حوالے سے تمام آپشنز زیر غور ہیں اور جلد فیصلہ کرلیا جائے گا۔
