حکومت کا کام خطرے کی وارننگ دینا ہے یا خطرے سے نمٹنا؟

وزیراعظم عمران خان گزشتہ دنوں قوم سے خطاب کے دوران عوام کو سردیوں میں گیس کا سخت ترین بحران آنے کی بری خبر سنا کر بظاہر اپنی ذمہ داری سے مبرا ہو گئے، بجائے کہ اس بحران سے نمٹنے کی کوئی تدبیر کرتے۔ چنانچہ اب ہر حکومتی وزیر اپنے وزیر اعظم کی تقلید میں عوام کو سردیوں میں شدید ترین گیس بحران کی وارننگ دیتا نظرآتا ہے۔ ایسے میں عوام سوال کر رہے ہیں کہ کیا حکومت کی ذمہ داری صرف عوام کے لیے بحران پیدا کرنا ہے یا پھر ان سے نمٹنے کی کوئی تدبیر کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے۔
وزیر توانائی حماد اظہر کی جانب سے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے مطابق سردیوں کے دوران گیس دن میں تین دفعہ فراہم ہو گی۔ ان کے مطابق صارفین کو پورے دن میں ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے دوران گیس فراہم کی جائے گی۔ یہ بیان دینے کے بعد وزیر موصوف بھی اپنی ذمہ داریوں سے مبرا ہو گئے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں گذشتہ کئی برسوں سے گھریلو اور تجارتی صارفین کو موسم سرما میں گیس کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی میں کمی کر دی جاتی ہے تو دوسری جانب صنعت و تجارت کو گیس کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی کے ساتھ قومی معیشت اپنی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے گیس پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہے جن میں گیس سے بجلی بنانے والے کارخانے، صنعتوں میں پیداواری عمل کے لیے گیس کی کھپت سے لے کر گاڑیوں میں بطور ایندھن استعمال کرنے کے لیے سی این جی سٹیشنز پر گیس کی فراہمی شامل ہے۔ ملک میں سردیوں کی آمد کے ساتھ گیس کی کھپت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جس میں زیادہ اضافہ ملک کے شمالی حصے میں گیس پر چلنے والے ہیٹرز اور گیزر کا استعمال بھی ہے جو گھریلو صارفین کی جانب سے گیس استمال کرنے کی شرح کو بڑھا دیتے ہیں۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے سردیوں میں گیس کی بجائے بجلی استعمال کرنے کے مراعاتی پیکج بھی دیا گیا ہے جس میں یکم نومبر سے لے کر فروری کے اختتام تک بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود ملک میں آئندہ دنوں میں گیس کی شدید کمی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ گیس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جہاں مقامی طور پر گیس کی پیداوار ہوتی ہے تو اس کے ساتھ درآمدی گیس بھی سسٹم میں شامل کی جاتی ہے کیونکہ پاکستان میں گیس کی مقامی پیداوار ملکی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہے اور ملکی گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی بھی دیکھنے میں آرہی ہے۔ جبکہ درآمدی گیس تنازع کا شکار رہی ہے اور بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی گیس پر کرپشن اور بدانتظامی کے الزامات بھی تسلسل سے سُننے میں آتے ہیں۔
پاکستان میں گیس کے شعبے کے ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سردیوں میں گیس کا بحران شدید تر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق گیس کے شعبے میں بحران کی وجہ اگر کئی برسوں میں اس شعبے میں منظر عام پر آنے والے تنازعات ہیں تو اس کے ساتھ فوری نوعیت کے فیصلوں کے تاخیر نے بھی اس گیس بحران کو شدید بنایا ہے۔ موجودہ سردی کے سیزن میں گیس کی زیادہ قلت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ جو اب تک سامنے آئی ہے وہ گیس کی عالمی قیمتیں ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو کچھ درآمدی گیس کے ٹینڈر منسوخ کرنا پڑے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں گیس بحران کی وجہ طویل مدتی منصوبہ بندی نہ ہونے کے ساتھ فوری نوعیت کی فیصلہ سازی کا بھی فقدان ہے۔ انکا کہنا یے کہ پاکستان میں گیس کا ایک بہترین انفراسٹرکچر موجود ہے جس میں معیاری ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام ہے۔ معیشت میں گیس کا ایک بہت بڑا کردار ہے۔ ملک میں اس وقت 13315 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن، 149715 کلومیٹر ڈسٹری بیوشن اور 39612 کلو میٹرسروس گیس پائپ لائن کا نیٹ ورک ہے جو ملک میں ایک کروڑ سے زیادہ صارفین کو گیس فراہمی کے کام آتا ہے۔ گیس سیکٹر کے مطابق گذشتہ تیس برسوں میں ملک میں گیس کی طلب اس کی رسد سے بڑھ گئی جس کی وجہ مقامی طور پر گیس کی پیداوار میں کمی ہے اور پاکستان کو 2015 میں گیس درآمد کرنا پڑی۔ پاکستان میں اس وقت درآمدی گیس کے دو ٹرمینل پورٹ قاسم کراچی پر کام رہے ہیں جو اینگرو اور پاکستان گیس پورٹ کی جانب سے لگائے گئے ہیں جن میں درآمدی ایل این جی لائی جاتی ہے اور پھر اسے ملک بھر میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اگر مقامی طور پر گیس کی پیداوار کا جائزہ لیا جائے تو ادارہ شماریات کے مطابق 18-2017 میں ملک میں گیس کی مقامی پیداوار 1458935 ایم ایم سی ایف ٹی تھی جس میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے اور یہ گذشتہ مالی سال تک 962397 ایم ایم سی ایف ٹی تک گر چکی ہے۔ مقامی پیداوار میں کمی کی وجہ سے گیس درآمد کی جار ہی ہے جو اس وقت تک ملکی ضرورت کا 23 فیصد پورا کرتی ہے۔ پاکستان میں یومیہ چار بلین کیوبک فیٹ کی ضرورت ہے جس میں سے 2.8 بلین کیوبک فیٹ مقامی ذرائع سے پیدا ہوتی ہے جبکہ 1.2 بلین کیوبک فیٹ درآمد کی جاتی ہے لیکن سردیوں میں گیس کی طلب اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ اب کے برس صبح، دوپہر اور شام کے اوقات میں دوائی کی طرح گھریلو صارفین کو گیس تین وقت فراہم کی جائے گی۔
