جنسی درندے سے ستارہ امتیاز واپس لینے کا مطالبہ

معروف ادارے ‘دی ریسورس گروپ’ یا ٹی آر جی کے پاکستانی نژاد امریکی چئیرمین ضیا چشتی پر ایک خاتون ساتھی کی جانب سے جنسی ہراسانی اور تشدد کے سنگین الزامات لگنے کے بعد حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ چشتی نامی جنسی حیوان کو دیا جانے والا ستارہ امتیاز واپس لیا جائے۔
آئی ٹی انڈسٹری سے منسلک ضیا چشتی ٹی آر جی کے چئیرمین ہونے کے علاوہ ایک اور بین الاقوامی کمپنی ’افینیٹی‘ کے فاؤنڈر اور سی ای او بھی ہیں۔ آئی ٹی کے شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر حکومت پاکستان نے انہیں 2018 میں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔ تاہم تب تک انکی جنسی ہراسانی کے شعبے میں کارکردگی سامنے نہیں آئی تھی۔ لہذا ضیا کا ہراسانی اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ملک بھر سے یہ مطالبہ سامنے آرہا ہے کہ ان سے ستارہ امتیاز فوری واپس لیا جائے۔ ضیا چشتی کی ’لنکڈ اِن‘ پروفائل کے مطابق وہ تاحال ’افینیٹی‘ چیئرمین اور سی ای او ہیں اور وہ پچھلے 20 سال سے ٹی آر جی کے چیئرمین بھی ہیں۔ ٹی آر جی کے ایک شاخ پاکستان میں بھی موجود ہے جسے ’ٹی آر جی پاکستان‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کمپنی بطور ’پبلک لمیٹڈ کمپنی‘ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی رجسٹرڈ ہے۔ چشتی کی دوسری کمپنی افینیٹی کو ’اپلائیڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چشتی اس سے قبل مشہور امریکی کمپنیوں ’مارگن سٹیلنے‘ اور ’میکینزی‘ میں بھی کام کر چکے ہیں۔ جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ضیا چشتی کی کمپنی ‘افینیٹی’ سے استعفی دے دیا ہے جہاں وہ 2019 سے ایڈوائزری بورڈ کے چئیرپرسن کے عہدے پر فائز تھے۔
یاد رہے کہ ماضی میں چشتی کے لیے کام کرنے والی 27 سالہ ٹاٹیانا سپوٹس ووڈ 17 نومبر کو امریکی کانگریس کی ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں جہاں جنسی ہراسانی اور جنسی تشدد کے کیس میں گواہان سے بیانات لیے جا رہے ہیں۔
کانگریس کمیٹی کو دیے گئے بیان میں ٹاٹیانا سپوٹس ووڈ نے 50 سالہ ضیا چشتی پر الزام عائد کیا کہ 2017 میں برازیل میں ایک کاروباری دورے کے دوران اس نے زور زبردستی اسے سیکس پر مجبور کیا اور اس دوران تشدد بھی کیا۔ ٹاٹیانا نے بتایا کہ اس دوران چشتی نے اس کہا کہ تمہیں تو 13 برس کی عمر میں ہی میرے ساتھ سیکس کر لینا چاہیے تھا۔
کانگریس کمیٹی نے ٹاٹیانا سپوٹس ووڈ کی وہ تصاویر بھی دیکھیں جن میں اسکے چہرے اور گردن پر چشتی کے تشدد کے سے ہونے والے زخم اور چوٹیں نظر آ رہی ہیں۔
ہاؤس کانگریس کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی آٹھ منٹ طویل ویڈیو میں ٹاٹیانا سپوٹس ووڈ بتاتی ہیں کہ وہ 12 برس کی تھیں جب ان کی ضیا سے ملاقات ہوئی جو ان کے والد کے دوست تھے۔
ٹاٹیانا کہتی ہیں کہ 2016 میں ضیا چشتی نے انھیں افینیٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے نوکری کی آفر کی اور اگلے 18 ماہ میں مسلسل ان پر سیکس کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور ٹاٹیانا کی جانب سے منع کرنے پر انھیں دیگر عملے کے سامنے بے عزت کیا۔ ٹاٹیانا نے اپنے ساتھ ہونے والے متعدد واقعات کا ذکر کیا جس میں ضیا بار بار ان پر جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ برازیل کے واقعے کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ نوکری کھونے کے خطرے کے باعث وہ بہت پریشان تھیں اور بالآخر جب ضیا کے کہنے پر وہ ان کے ہوٹل کے کمرے گئیں تو اس نے زبردستی سیکس کرنے پر مجبور کر دیا اور دوران سیکس ان کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ ٹاٹیانا نے کانگریس کمیٹی کو دیے گئے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ انھیں خوف ہے کہ اس بیان کے بعد اب ان کے ساتھ کیا ہوگا۔
یاد رہے کہ جنسی حیوان ہونے کے الزام کا سامنا کرنے والے ضیا چشتی کی والدہ سعدیہ چشتی اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ انھوں نے امریکہ کی کورنل یونی ورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں حکومتِ پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کی بھی چھ سال تک رکن رہیں۔ پانچ برس قبل ضیا چشتی کو آئی ٹی کے شعبے میں گرانقدر خدمات سرانجام دینے پر اس وقت کے صدر منمون حسین نے ستارہ امتیاز بھی عطا کیا گیا۔ اس سال مارچ میں چشتی نے خیبر پختونخواہ کے دورے میں وزیر اعلی محمود خان سے ملاقات میں ‘ٹیکنالوجی سٹی’ قائم کرنے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد فروری 2021 میں بھی ضیا چشتی نے افینیٹی کمپنی کے اعلی عہدے داران کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں ان کے ہمراہ شہزادی بیٹریس، سابق ہسپانوی وزیر اعظم ہوزے ماریا ازنار اور سابق اطالوی وزیر اعظم میٹیو رینزی بھی شامل تھے۔ چشتی نے اس دورے میں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ وقت گزارنے کے علاوہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کی جانب سے ضیا چشتی سے ستارہ امتیاز واپس لینے کے مطالبے پر کب عمل درآمد ہوتا ہے۔ یاد رہے ضیا کی پیدائش 1971 میں امریکی ریاست ‘مین’ میں ہوئی جہاں ان کا پیدائشی نام ولسن لئیر رکھا گیا تھا۔ تین سال بعد ان کے امریکی والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ واپس پاکستان لے آئیں جہاں انھوں نے لاہور میں سکونت اختیار کی اور انکا نام ضیا چشتی رکھ دیا۔ لیکن ہھر ابتدائی تعلیم کے بعد ضیا نے امریکہ کی کولمیبا یونی ورسٹی اور سٹین فورڈ یونی ورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کی اور وہیں سیٹل ہو گے۔
