خاتون کو جنسی ہراساں کرنے پر نجی بینک کا ملازم گرفتار

اسلام آباد میں نجی بینک کے ایک ملازم کو دفتر میں کام کرنے والی خاتون ساتھی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے جبکہ پولیس نے اسے گرفتار بھی کرلیا۔
گزشتہ روز سماجی روابط کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک دفتر میں کام کرتے ہوئے شخص کو اپنی سیٹ سے اٹھ کر دوسرے ساتھی سے بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو کے مطابق جب مذکورہ شخص دوبارہ اپنی نشست کی جانب گیا تو ساتھ ہی کھڑی خاتون کو نامناسب انداز میں چھوا۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق مذکورہ شخص کی شناخت عثمان گوہر کے نام سے ہوئی جو فیصل بینک کی اسلام آباد میں قائم ایک برانچ میں ملازمت کرتا تھا۔ ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی لوگوں نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور بینک انتظامیہ کے علاوہ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ عوام کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد حکام بھی اس کا نوٹس لینے پر مجبور ہوگئے اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، ٹوئٹر پر مذکورہ شخص کے خلاف کی گئی کارروائی کے بارے میں وقفے وقفے سے آگاہ کرتے رہے. ابتدائی ٹوئٹ میں انہوں نے بتایا تھا کہ پولیس نے ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا ہے، ملزم نے گھنٹوں سے اپنا فون بند کر رکھا ہے اور روپوش ہے، ہماری خصوصی ٹیم اس کی تلاش کررہی ہے۔

https://twitter.com/hamzashafqaat/status/1325148301725999104

جس کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفاعت نے ایک اور ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے عوام سے ایک مرتبہ پھر اپیل کی کہ مذکورہ ویڈیو کو ڈیلیٹ کریں اور خاتون کی پرائیویسی کا خیال رکھیں۔
بعدازاں فیصل بینک کی انتظامیہ کی جانب سے بھی بیان سامنے آیا جس میں ہراسانی کے اس واقعے کی سختی سے مذمت کی گئی تھی۔ بیان میں ادارے کی جانب سے بتایا گیا کہ مذکورہ شخص کو فوری طور پر ملازمت سے برخاست کردیا گیا ہے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف کارروائی بھی جاری ہے۔

ساتھ ہی بیان میں بینک انتظامیہ نے اس بات کی وضاحت بھی کی مذکورہ ملزم برانچ مینیجر نہیں تھا اس کے علاوہ انتظامیہ کی جانب سے کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف عدم برداشت جاری رکھنے اور اس واقعے پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button