داعش کے پاکستانی جنگجو: لوٹ کے بدھو گھر کو لوٹنے لگے

افغان حکومت نے داعش سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں گرفتار پاکستانی جنگجووں کی عورتوں اور بچوں کو ان کے پاکستانی رشتہ داروں کے حوالے کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ وہ اپنے ملک واپس جا کر بقیہ زندگی گزار سکیں۔ ان گرفتار جنگجووں میں وہ پاکستانی جہادی بھی شامل ہیں جنہوں نے افغان آرمی کے سامنے سرنڈر کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستانی داعش کے زیادہ تر جنگجو ماضی میں تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تھے جو بعد میں پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان میں داعش کا حصہ بن گئے۔ تاہم امریکی اور افغان فورسز کے بڑے ملٹری آپریشنز کے بعد اب افغانستان میں داعش کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ زیادہ تر مرکزی رہنما ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں اور اب داعش کے بچے کھچے جنگجو ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ ان جنگجوؤں میں سے بیشتر پاکستان چھوڑتے وقت اپنے اہل خانہ کو بھی ساتھ افغانستان لے گئے تھے جن کو اب افغان حکومت نے انسانی ہمدردی کے تحت پاکستان واپس بھجوانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے صدر مقام جلال آباد میں 10 جنوری 2020 کے روز داعش کے اُن پاکستانی جنگجوؤں کے خاندان کے افراد کو اُن کے پاکستانی رشتے داروں کے حوالے کیا گیا جنہوں نے اسلحہ پھینک کر خود کو افغان حکومت کے حوالے کر دیا تھا۔ افغان حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 50 خواتین اور 76 بچے اُن کے پاکستانی رشتے داروں کے حوالے کیے گے ہیں۔
افغان صدر اشرف غنی نے نومبر 2019 میں جلال آباد میں یہ اعلان کیا تھا کہ جنگجوؤں کے خاندانوں کو قبائلی عمائدین کے ذریعے اُن کے پاکستانی رشتے داروں کے حوالے کیا جائے گا۔ نومبر 2019 میں افغان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ داعش کے 1300 سے زیادہ جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور اپنے آپ کو افغان فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔
افغان حکام کے مطابق ان خاندانوں میں وادی تیرہ، ضلع اورکزئی اور باجوڑ سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچے شامل ہیں جنہیں مختلف مراحل میں ان کے پاکستانی رشتہ داروں کے حوالے کیا جائے گا۔ افغان حکام کے مطابق پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں سے داعش کے ہزاروں جنگجو افغانستان آئے تھے، جو بعد میں اپنے بیوی بچے بھی ساتھ لے آئے۔ یہ لوگ ننگرہار کے اُن علاقوں میں رہ رہے تھے جن پر داعش کا کنٹرول تھا۔
افغان حکام کے مطابق جن خواتین اور بچوں کے لواحقین اُنھیں پاکستان سے لینے آئیں گے صرف اُن ہی کو خواتین اور بچے حوالے کئے جائیں گے کیونکہ یہ افغانوں کی روایت ہے۔ یاد رہے کہ اگست 2016 میں افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے سربراہ جنرل جان نکولسن نے دعویٰ کیا تھا کہ داعش کے ستر فیصد جنگجو پاکستانی ہیں۔ ان کے مطابق یہ جنگجو پہلے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ تھے لیکن قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘ آپریشن کی وجہ سے یہ جنگجو افغانستان چلے گئے اور وہاں اُنھوں نے خود کو دولتِ اسلامیہ سے منسلک کر لیا۔
پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں کے بیشتر شدت پسند افغانستان میں داعش کے آنے کے بعد اُن کے ساتھ منسلک ہوگئے تھے، جنہوں نے ننگرہار کے ضلع اچین میں اپنے ٹھکانے بنا لیے تھے۔ اب جب داعش کے یہ جنگجو پہلے کی طرح زیادہ علاقوں پر قابض نہیں رہے، سینکڑوں اسلحہ پھینک کر اپنے آپ کو افغان حکام کے حوالے کررہے ہیں، جبکہ کئی اب بھی ضلع اچین کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں مقیم ہیں اور وہیں رینا چاہتے ہیں۔
