دانیا کا اصل چہرہ لودھراں کی وڈیرنی نے بے نقاب کیا

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین نے اپنی تیسری اہلیہ پر مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دانیا شاہ کی اصلیت اسکے آبائی علاقے لودھراں کی ایک معروف وڈیرنی سے پتہ چلی جس نے انہیں دانیا کی خوفناک آڈیوز بھجوائیں جنہیں سن کر وہ ہل گئے۔ یاد رہے کہ عامر لیاقت حسین اپنی تیسری اہلیہ کی جانب سے خلع کا دعوی دائر ہونے کے بعد ان کی کچھ مبینہ آڈیوز ریلیز کی ہیں جن میں خاتون کسٹمرز سے اپنی بکنگ کے حوالے سے گفتگو کر رہی ہیں۔ دانیا نے ان آڈیوز پر ابھی تک اپنا موقف نہیں دیا۔
عامر لیاقت حسین نے دانیا شاہ کی تہلکہ خیز آڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہت مجبور ہو کر صرف 50 فیصد گفتگو جاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کی لوگوں کو خود ان آڈیو میسجز کو سمجھنا ہوگا تاکہ دانیہ شاہ کے کاموں کا اندازہ ہو جائے۔عامر لیاقت نے انسٹاگرام پر اپنی طویل پوسٹ میں لکھا کہ شادی کے 15 دن بعد دانیا بہاولپور گئیں اور 15 دن بعد واپس آئیں۔ واپس آنے کے تین دن بعد وہ دوبارہ بہاولپور چلی گئیں، پھر وہ 15 دن بعد واپس آئیں اور لودھراں میں اپنے طویل قیام کے حوالے سے مختلف بہانے بناتی رہیں۔ بقول عامر لیاقت میں نے اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ کراچی میں تو 24 گھنٹے آپ کا موبائل آن رہتا تھا لیکن لودھراں جا کر رات سے صبح تک موبائل مسلسل بند رہتا تھا، اسکی کیا وجہ تھی؟ دانیا نے پہلے بہانے بنائے اور پھر قبول کیا کہ میں خود ہی اپنا موبائل بند کر دیتی تھی۔ اس پر میں چپ رہا لیکن میں تشویش میں تھا۔
عامر لیاقت نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ چونکہ دانیا کے بقول انکے گھر میں کمانے والا کوئی نہ تھا لہذا میں ان کی والدہ کو ماہانہ دو لاکھ روپے بھجواتا رہا جبکہ ایک لاکھ روپے دانیا کو بھی جیب خرچ دیتا رہا۔ انہوں نے دانیا کی جانب سے خود پر تشدد کرنے اور کمرے میں بند رکھنے کے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دور کی سب سے بڑی جھوٹی ہے جو خود گاڑی ڈرائیو کر کے 12 بجے دوپہر گھر سے نکلتیں، پارلر جاتیں، اور پھر تیار ہو کر جہاں مرضی ہوتی چلی جاتیں، ان کی واپسی رات 9 بجے سے پہلے ممکن نہیں ہوتی تھی۔ واپسی پر وہ قیمتی کپڑے، جوتے اور میک اپ وغیرہ سے لدی ہوتیں اور کمرے میں جا کر سو جاتیں۔ رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ دانیا اسکے بعد اسلام آباد سے بہاولپور چلی گئیں کیونکہ ان کی بہن کے ہاں ولادت متوقع تھی۔ میں نے انہیں ہسپتال کے اخراجات، اور بہن اور بہنوئی کے خرچے کی مد میں 5 لاکھ روپے دیے۔ اسکے علاوہ الگ سے 8 لاکھ قرض اتارنے کے لیے دیے۔ میں نے دانیا کو گاڑی بھی دے رکھی تھی، آخری مرتبہ بھی جب وہ لودھراں گئیں تو مجھ سے نقد 15 لاکھ روپے لے کر گئیں جبکہ وہاں سے واپس آتے ہی انہوں نے مجھ سے ہیرے کی انگوٹھی اور سونے کے سیٹ کی فرمائش کر دی۔
عامر لیاقت نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ میں نے دانیا سے کہا کہ میرے پاس صرف دس لاکھ روپے ہیں تو انہوں نے جیولرز سے 22 مارچ کو 9 لاکھ روپے کی انگوٹھی خرید لی، پھر دو دن میرے پاس رکنے کے بعد وہ کرولا کرائے پر لے کر بہاولپور روانہ ہو گئیں۔ عامر لیاقت نے بتایا کہ رمضان گزر گیا، عید گزر گئی اور دانیا واپس نہ آئیں، میں اس کی وجہ سے ڈیپرشن میں ہسپتال پہنچ گیا ۔ دوسری جانب موصوفہ 5 یا 6 دن بعد میرے لیے ایک ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر بھیج دیتیں اور پیار بھرے میسیجز کرتیں۔ بہرحال جب بھی ان کا فون آتا تو کسی نہ کسی بہانے مجھ سے پیسے مانگ لیتیں۔ کبھی کہیں کہ میری بہن کے نومولود بچے کی حالات بگڑ گئی ہے۔ کبھی موصوفہ کے ابو ہسپتال میں ایڈمٹ ہو جاتے۔ کبھی بہن کے گھر میں تنگی ہو جاتی۔ میں اس سے پوچھتا رہتا صرف دل کو بہلانے کے لیے کہ آپ کی واپسی کب ہو گی لیکن وہ ہیسے مانگنے کے سوا کوئی بات نہیں کرتی تھیں۔
عامر نے دعویٰ کیا کہ اس دران لودھراں کی معروف وڈیرنی نے مجھے دانیا کی خوفناک آڈیوز بھیجیں جنہوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن اسکے ایک ہی دن بعد دانیا نے تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کر دیا حالانکہ موصوفہ نے اب تک ازدواجی حقوق بھی ادا نہیں کیے۔
