دنیا بھر میں پٹرول کی قیمت میں کمی، پاکستان میں اضافہ کیوں؟

عالمی منڈی اور دنیا کے اکثر ممالک میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود تحریک انصاف کے ڈیڑھ سالہ دور میں پٹرول کی قیمتوں میں 17 روپے فی لیٹر ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔
موازنہ کیا جائے تو مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دور میں پٹرول کی قیمتوں میں 5 روپے لیٹر کمی واقع ہوئی تھی۔ اس طرح تحریک انصاف دور میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا تناسب 15فیصد سے زائد اور مسلم لیگ ن کے دورحکومت میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا تناسب 5فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ حیرت انگیر بات ہے کہ ملک میں پٹرول کی قیمتوں میں ایسے وقت اضافہ کیا جا رہا ےے جب عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
پٹرول کی قیمتوں میں گزشتہ سات سالہ جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا، موجودہ حکومت اگست 2018 میں قائم ہوئی تو اندرون ملک پٹرول کی قیمت 95روپے لیٹر سے زائد تھی جبکہ موجودہ قیمت 111روپے 60پیسے فی لیٹر ہے۔ دوسری طرف نواز شریف جون 2013میں وزیر اعظم بنے توملک میں پٹرول کی قیمت 100روپے لٹر تھی جو ان کی اقتدار سے رخصتی کے وقت جولائی 2018میں 95روپے لٹر تھی۔
پٹرول کی قیمتوں میں اس اضافے کی وجہ روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی اور پٹرول کی مد میں حکومت کے عائد ٹیکسوں میں متواتر اضافہ بتایا گیا ہے جس کا تمام بوجھ صارفین برداشت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس وقت ایک لیٹر پٹرول میں حکومت 36روپے ٹیکس وصول کر تی ہے۔
پٹرول کی قیمتوں کا نظام اوگرا کے ہاتھوں میں ہے جو عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی بیشی کے رجحان کے مطابق ہر ماہ کی آخری تاریخ میں حکومت کو پٹرول کی قیمتوں کی تجاویز دیتی ہے اور وفاقی کابینہ پٹرول کی قیمتوں کا حتمی اعلان کر تی ہے جو ہر ماہ یکم تاریخ کو نافذالعمل ہو تی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مندی کا رجحان ہے اور خام تیل کی قیمت 72.6ڈالرفی بیرل سے کم ہو کر فروری میں 52ڈالر فی بیرل ہو گئی، خام تیل کی قیمت میں 20ڈالر سے زائد کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں صرف پانچ روپے لیٹر کمی کی گئی ۔ ایک اندازے کے مطابق عالمی منڈی میں گرتی ہوئی قیمتوں کے مقابلے میں پاکستانی صارفین کو صرف 50فیصد فائدہ ہوا جس کی وجہ پٹرولیم مصنوعات کے ٹیکسوں میں اضافہ بتائی گئی ہے۔
موجودہ حکومت کے 19ماہ کے دوران مجموعی طور پرکم از کم نو مرتبہ کمی اور دس بار اضافہ دیکھا گیا۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے باعث عام آ دمی کے لئے پٹرول کی قیمت ادا کرنا مشکل ہو چکا ہے ۔ اوگراحکام کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں عالمی منڈی کے مطابق کمی بیشی ہو تی ہے لیکن ملک میں روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ہونے سے پٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں کے متعلق اوگرا کا کام صرف تجاویز تیار کرنا ہے ، جبکہ قیمتیں مقرر کرنے کا حتمی اختیار حکومت کے پاس ہے جو کہ آئی ایم ایف کی طے کردہ ٹارگٹ پورے کرنے کے لیے قیمتی بڑھائے چلے جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button