فیصل واوڈا کیخلاف نااہلی کی درخواست سماعت کےلیے مقرر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کی درخواست18 مارچ کو سماعت کےلیے مقرر کر تے ہوئے کابینہ ڈویژن، سیکرٹری قانون اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرلیا ہے ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی نااہلی کی درخواست کی سماعت کی کازلسٹ جاری کر دی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق 18 مارچ کو کیس کی سماعت کریں گے۔
عدالت نے فیصل واوڈا، کابینہ ڈویژن، سیکرٹری قانون الیکشن کمیشن سے جواب طلب کررکھا ہے، عدالت نے فیصل واوڈا کو بطور وفاقی وزیر فوری کام سے روکنے کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کررکھا ہے، 24 فروری کو بینچ کی عدم دستیابی پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی گئی تھی۔
فیصل واوڈا پر کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے کا الزام ہے، شہری میاں محمد فیصل نے فیصل واوڈا کیخلاف درخواست دائر کررکھی ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ فیصل واوڈا کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت دہری شہریت رکھتے تھے، فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں دہری شہریت چھوڑنے سے متعلق غلط بیانی کی۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن میں بھی الطاف ابراہیم قریشی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ فیصل واڈا کی نا اہلی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے کیس سے متعلق الیکشن کمیشن میں متفرق درخواست دائر کر دی،الیکشن کمیشن نے آئندہ سماعت پر فیصل واوڈا کی جانب سے مکمل جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ کیس کی سماعت 24مارچ تک ملتوی کردی گئی۔
خیال رہے کہ جس وقت وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے 2018 کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، اُس وقت وہ امریکی شہری تھے اور یہ کہ ان کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرایا جانے والا حلف نامہ جعلی تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔
11 جون 2018 کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے اور کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی ان کی امریکی شہریت برقرار تھی۔ فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں حلفاً کہا کہ وہ صرف پاکستانی شہری ہیں تاہم دستاویزات سے ثابت ہوا جب انہوں نے کاغذات جمع کرائے وہ امریکی شہری بھی تھے۔ واوڈا کے معاملے میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 جون تھی جسے مزید تین دن کیلئے بڑھایا گیا تھا۔ واوڈا نے اپنے کاغذات 11 تاریخ کو جمع کرائے اور ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔
این اے 249 سے ریٹرننگ افسر نے ان کے کاغذات کی 18 جون 2018 کو منظوری دی جس کے بعد 22 جون 2018 کو فیصل واوڈا نے امریکی شہریت کی تنسیخ کےلیے شہر میں امریکی قونصل خانے میں درخواست جمع کرائی جس کا مطلب یہ ہوا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button