تیل کی قیمت گرنے سے پاکستان میں کتنا سستا ہو گا؟

جہاں ایک طرف دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے معیشت سست روی کا شکار ہے وہیں سعودی عرب کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں کمی کے اعلان سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب نے روس سے تیل کی پیداوار میں کمی لانے سے متعلق مذاکرات ناکام ہونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے دنیا بھر کی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ دیکھنے میں آئی۔
واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی مانگ میں کمی سے نمٹنے کے لیے گذشتہ دنوں تیل کے دو بڑے پیداواری ممالک سعودی عرب اور روس کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔ سعودی عرب کی قیادت میں تیل پیدا کرنے والے 14 ممالک کی تنظیم اوپیک نے روس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تیل کی مانگ میں آنے والی کمی سے نمٹنے کے لیے اپنی پیداوار میں کمی لائے۔ مگر ان مذاکرات میں ناکامی کے بعد سعودی عرب نے اپنے تیل کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے۔
مجموعی طور پر تیل کی قیمت اس سے قبل اس کم ترین سطح پر جنوری سنہ 2016 میں تھی اور یہ گذشتہ 16 سالوں میں تیل کی سب سے کم قیمت کے نزدیک ہے۔ اس صورتحال پر ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ایک طرح سے پاکستان کے لیے لاٹری نکل آئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے مستقبل قریب میں عوام کو اور تیل پر منحصر صنعتوں دونوں کو فائدہ حاصل ہوگا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت عوام کو اس کا پورا فائدہ نہیں پہنچائے گی۔
ماہر معاشیات کہتے ہیں کہ پاکستان بہت زیادہ تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس ساری صورتحال سے ملک کو بہت فائدہ ہوگا۔ پاکستان میں 13 سے 14 ارب ڈالرز کا تیل اور ایل این جی درآمد کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد کمی سے ملک کو صرف تیل کی مصنوعات درآمد کرنے پر چار سے پانچ ارب ڈالرز کی بچت ہوگی۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کی گراوٹ کے معیشت پر اثرات کے حوالے سے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کی مد میں بھی دو سے تین ارب ڈالرز یا اس سے زیادہ کی بچت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد میں بھی مدد ملے گی جن میں محصولات میں اضافے اور مہنگائی کو کم کرنے جیسے چیلنجز درپیش تھے، کیونکہ تیل کی قیمت ملک میں مجموعی طور پر مہنگائی کی شرح میں کمی واقع کرے گی۔ اس ساری صورتحال میں ممکنہ طور پر نقصانات کیا ہوسکتے ہیں،
اس حوالے سے معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں برآمدات شاید نہ بڑھ سکیں جو کہ معیشت کے لیے بہت ضروری ہیں۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلات زر میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے، جس کی وجہ خصوصاً مشرق وسطیٰ کی معاشی صورتحال ہوگی۔ ان کے خیال میں ملکی معاشی حالت کے پیش نظر حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل نہیں کر سکے گی تاہم تیل کی مصنوعات میں کچھ کمی ضرور کی جائے گی۔
ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں اضافے کے ذریعے قومی خزانے کو فائدہ پہنچایا جائے گا، جبکہ سٹیٹ بینک کو صنعتی شعبے کے لیے شرح سود میں کمی لانے کی گنجائش بھی حاصل ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ساری صورتحال نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لئے ایسا ماحول پیدا کردیا ہے، جیسے ان کی لاٹری نکل آئی ہو۔
یاد رہے کہ ماضی قریب میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے حکومت کو آٹھ سے 12 روپے کی بچت ہوئی تھی جس میں سے عوام کو پانچ روپے کا فائدہ دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ تیل کی قیمتیں اس قدر گراوٹ کا شکار ہیں کہ 20 روپے تک کی ممکنہ بچت میں سے حکومت 10 روپے تک عوام کو ریلیف فراہم کرسکتی ہے، جس سے ملک میں مجموعی طور پر مہنگائی کی شرح میں کمی واقع ہوگی۔ ان حالات میں اگر حکومت ممکنہ فائدے کا نصف بھی عوام تک پہنچا پاتی ہے تو آئندہ سہہ ماہی میں کنزیومر پرائس انڈیکس میں نو فیصد یا اس سے زیادہ کی کمی ہو سکتی ہے۔ جہاں عوام کو اس سے فائدہ ملے گا وہیں حکومت کو بھی ٹیکس وصولی میں پیش آنے والی دشواریوں کا کچھ حد تک ازالہ ممکن ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button