دنیا کا ساتواں عجوبہ تاج محل کس تنازعے کا شکار ہو گیا؟

دنیا کے سات عجوبوں میں شمار ہونے والا تاج محل بھارت میں ایک نئے تنازع کا شکار ہو گیا ہے، اس تنازعے کی وجہ بنی بھارتی جنتا پارٹی، رواں مہینے چار تاریخ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایودھیہ ضلع کے میڈیا انچارج ڈاکٹر راجنیش سنگھ نے الہ آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں موقف اپنایا کہ تاج محل کے بیس کمروں میں ہندو دیوتاؤں کی مورتیوں اور تاریخی عباراتوں کو چھپایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کمروں میں ہندو دیوتاؤں کی مورتیاں اور مقدس عبارتیں پوشیدہ ہیں، ڈاکٹر راجنیش سنگھ نے معلومات حاصل کرنے کے حق (آر ٹی آئی) کے قانون کی بنیاد پر ایک درخواست دائر کی تھی جس کے جواب میں کہا گیا کہ ان کمروں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر تالے لگائے گئے ہیں۔
پٹیشن میں یہ موقف بھی اپنایا گیا کہ تاج محل کی جھوٹی تاریخ پڑھائی گئی، سچائی کے لیے اس کے بند دروازوں کو کھولا جائے، راجنیش سنگھ کی پٹیشن کے چند روز بعد بھارتیا جنتا پارٹی کی ایک رکن پارلیمان دیا کماری نے دعویٰ کیا ہے کہ جس زمین پر تاج محل تعمیر کیا گیا وہ زمین جے پور کے شاہی خاندان کی ملکیت تھی۔
جے پور کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی دیا کماری نے راجنیش سنگھ کی پٹیشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس کاغذات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ زمین جے پور کے خاندان کی تھی، اس لیے حقائق سامنے لائے جانے چاہئیں، تاہم عدالت نے راجنیش سنگھ کی پٹیشن کو مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ اس معاملے کو عدالت سے باہر رکھا جائے، اور اس کے لیے دیگر ذرائع کا استعمال کیا جانا چاہئے، یہ معاملہ الہ آباد ہائیکورٹ نے تو نمٹا دیا لیکن یہ اب بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے، ٹوئیٹر پر کئی روز taj mahal controversy ٹاپ ٹرینڈ میں شامل رہا ہے۔
متعدد صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کے تنازعے کھڑے کرنے میں واٹس ایپ گروپوں کا کردار نمایاں ہے، نجی ٹی وی کے صحافی نے کہا کہ لوگوں کو واٹس ایپ پر سازشیں پڑھنے سے زیادہ تاریخ پڑھنے پر وقت لگانا چاہئے۔
پروین نامی صارف نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ پہلے تاریخ پڑھیں اور پھر منہ کھولیں، علی نامی صارف نے لکھا کہ مستند زرائع سے معلومات حاصل کریں نہ کہ واٹس ایپ یونیورستی سے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاج محل کو مغل بادشاہ شاہ جہان نے اپنی بیگم ممتاز کی محبت کی نشانی کے طور پر 1648 میں بنوایا تھا، شاہ جہان کی بیوی ممتاز جن کا پیدائشی نام انجمن بانو بیگم تھا وہ انڈیا کے علاقے آگرہ میں 1593 میں پیدا ہوئی تھیں، ان کے والد شاہ جہان کے والد کے بہنوئی تھے، نیشنل جیوگرافک کے مطابق ممتاز اتنی خوبصورت تھیں کہ شاہ جہاں ان کی محبت میں گرفتار ہوگئے اور 1612 میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے، شادی کے بعد ہی شاہ جہان نے انجمن بانو بیگم کا نام تبدیل کر کے ممتاز رکھا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد ممتاز ہمیشہ شاہ جہان کے ساتھ ہی رہیں، وہ اس وقت بھی شاہ جہان کے ساتھ ہی رہتیں جب وہ مہمات پر جاتے تھے، ممتاز نہ صرف شاہ جہان کی بیوی تھیں بلکہ ان کی ہم راز بھی تھیں۔واضح رہے کہ شاہ جہان اپنے والد جہانگیر کی موت کے بعد 1628 میں مغل سلطنت کے تخت پر براجمان ہوئے، تاریخی کتب میں لکھا ہے کہ ممتاز بیگم اپنے 14ویں بچے کی پیدائش کے موقع پر 1631 میں انتقال کر گئی تھیں، اس وقت وہ اپنے شوہر کے ساتھ جنگی مہم پر تھیں، شاہ جہان اپنی بیوی کی موت کے صدمے سے نکل نہ پائے اور 17 برس اپنی محبت کی نشانی تعمیر کرنے پر لگا دیئے۔

Back to top button