’’راحت فتح علی خان کی مداحوں سے صدق دل سے معذرت‘‘

پاکستان کے معروف گلوکار استاد فتح علی خان نے بینڈ ممبر پر تشدد کرنے کے حوالے سے مداحوں سے صدق دل سے معافی مانگتے ہوئے موقف اپنایا کہ میں یہ خصوصی پیغام ہرکسی سے معافی مانگنے کے لیے ریکارڈ کرا رہا ہوں، میں اپنا سر اپنے خالق قادر مطلق اللہ کے سامنے سر جھکا رہا ہوں کہ سب سے پہلے وہ مجھے معاف کرے، مجھے ایک انسان کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہیں کرنا چاہئے تھا بالخصوص ایسی صورت میں کہ میں ایک آرٹسٹ بھی ہوں، وہ سلوک جس کا میں نے پہلے اظہار کیا وہ درست نہ تھا اور میں اس پر معافی مانگتا ہوں، میں اپنے مداحوں اور احباب سے بھی معذرت کرتا ہوں۔غیر انسانی برتاؤ کے حوالے سے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے راحت فتح علی خان نے کہا کہ ان کا خاندان 600سال سے قوالی کےفن سے وابستہ ہے جوکہ پیار،امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہے ان لوگوں کا احترام بھی کرتا ہوں جنہوں نے میری ہی بہتری کے لیے مجھے سبق سکھانے کی خاطر میرا بائیکاٹ کیا۔ لوگ اپنے فنکاروں کو اس طرح نہیں دیکھنا چاہتے، میں صدق دل سے اپنے عمل پر معافی مانگتا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک گینگ مجھے بدنام کرنے کی دانستہ کوششیں کر رہا ہے اور مزید ویڈیوز جاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کتنی ویڈیوزمیری اجازت کے بغیر بنا رکھی ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ میری ویڈیو اس وقت منظر عام پر آئی جب میں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کی ۔ اپنے اس بیان میں دراصل وہ اپنے اس بیان کی جانب اشارہ کر رہے ہیں جو انہوں نے عالمی شہرت یافتہ کنسرٹ پروڈیوسر سلمان احمد سے راہین جدا کرنے کے حوالے سے دیا تھا جوکہ 12سال سے دنیا بھر میں ان کے کنسرٹ مینیج کر رہے تھے۔ سلمان احمد نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ اپنے اختتامی ریمارکس میں انہوں نے اپنے ساتھی فنکاروں، خواتین فنکاروں، میوزک انڈسٹری اور موسیقی کے ہدایت کاروں سے بھی معذرت کی۔راحت فتح علی خان کی ایک اور وضاحتی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’سب لوگ میرا مذاق کر رہے ہیں لیکن یہ بات سچ ہے کہ وہ میرے پیرو مرشد کا پڑھا ہوا پانی تھا، لوگ سمجھ نہیں رہے ہیں، میرے اور پیرو مرشد کے درمیان ایک معاملہ ہے اور وہ میرے لیے بہت بڑی چیز تھی۔یاد رہے کہ 27 جنوری کو سوشل میڈیا پر راحت فتح علی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہیں گھریلو ملازم کو مارتے پیٹتے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد وہ اپنے شاگرد کو بھی پیٹتے ہیں۔ ویڈیو میں ساتھ موجود ملازم نے بھی وضاحتی بیان میں کہا کہ ویڈیو میں جس بوتل کی وجہ سے تنازع کھڑا ہوا، اس میں پانی تھا اور وہ ان کے مرشد نے پڑھا ہوا تھا، وہ بوتل مجھ سے گم ہو گئی تھی۔
