ریحام کا کپتان پر مردوں کی فحش فلمیں دیکھنے کا الزام

عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کا دعوی یے کہ انکے سابق شوہر کو بہت اونچی آواز میں گانے سننے کی عادت تھی اور وہ روزانہ شام 7 بجے سے رات 2 بجے تک بنی گالا میں سب کا داخلہ بند کر کے گانے سنتے تھے۔
اپنی متنازعہ کتاب "ریحام خان” میں ریحام نے لکھا ہے کہ چونکہ میں خود بھی بچپن سے ہی گانے سنتی آرہی ہوں اس لیے میں ایسی والدہ نہیں ہوں کہ اپنے بچوں کو میوزک کی آواز کم کرنے کے لیے کہوں۔ لیکن شام کے وقت عمران جتنی اونچی آواز میں گانے سنتے تھے اس پر غصہ آتا تھا۔ شروع میں مجھے لگا کہ عمران اونچی آواز میں اس لیے گانے سنتے ہیں کہ وہ ہماری ذاتی گفتگو کو تحفظ دیتے ہیں یا شادی کے پہلے پہلے دنوں میں رومانوی انداز اپنانے کے لیے گانے سنتے ہیں کیونکہ پاکستان میں نئے شادی شدہ جوڑوں کی جانب سے گانے سننے کا رواج ہے۔ ریحام کے ۔طابق عمران خان شام 7 بجے سے رات 2 بجے تک میوزک سنتے تھے ،اس دوران کسی قسم کی گفتگو ممکن نہیں ہوتی تھی۔ وہ لکھتی ہیں کہ یہ بہت شرمناک بات تھی کہ رمضان میں تروایح کے دوران اور محرم کے پہلے دس دن بھی عمران خان میوزک سنتے تھے۔اگر میں بیڈ روم میں نماز پڑھنے کے لیے میوزک بند کرتی تھی تو وہ مجھے کہتے تھے کہ جلدی نماز ادا کرو۔ میں کالے جادو کا توڑ کرنے کے لیے بیڈ روم میں نماز پڑھتی تھی لیکن میں مغرب اور عشاءکی نماز پڑھنے کے لیے اپنی بیٹی کے کمرے میں جاتی تھی۔ عمران خان نے سختی سے تنبیہہ کر رکھی تھی کہ شام 7 بجے کے بعد بنی گالا میں کوئی مہمان نہیں آئے گا ،مجھے اور میرے بچوں کو بھی باہر رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر کبھی میں کچن میں کوئی کھانا بنانے جاتے تو عمران خان بھی وہاں آجاتے اور دیکھتے کہ میں کیا کر رہی ہوں۔ ان کی وجہ سے میں رات بھر جاگتی اور پھر صبح فجر کی نمازکے لیے اٹھتی اور پھر اپنی بیٹی کو سکول بھیجتی جس کی وجہ سے میں تھکی تھکی رہتی تھی۔
ریحام کے مطابق بعض اوقات میں رات کو سو جاتی تو عمران خان میوزک سنتے یا فلمیں دیکھتے تھے اور مجھے زبردستی اٹھا دیتے۔ میرے دوستوں نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو پوچھا کہ تم تھکی تھکی کیوں رہتی ہوں جس پر انہیں بتا یا کہ عمران خان رات بھر سونے نہیں دیتے تو انہوں نے میرے سابقہ شوہر کی مردانگی پر مجھے چھیڑنا شروع کردیا۔ ریحام نے اپنی کتاب میں سابقہ شوہر پر مردوں کی فحش فلمیں دیکھنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ”ایک دن میں کمرے میں داخل ہوئی تو عمران مردوں کی فحش فلمیں دیکھ رہے تھے اور مصروف تھے۔ ان کے پاس ایسی فلموں کی ڈی وی ڈیز کی ایک وسیع کولیکشن تھی اور وہ ان میں موجود مردوں میں سے بعض کی ’تعریف‘ بھی کرتے تھے۔ مردوں کی فلمیں دیکھتے ہوئے عمران کو میں نے متعدد بار رنگے ہاتھوں پکڑا۔ یہ ایک ایسی بیوی کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتا تھا جو کچن میں اپنے شوہر کے لیے کھانے بنا رہی ہوتی تھی اور وہ بیڈروم میں فلمیں دیکھنے میں مصروف ہو۔ ریحام کے مطابق انکے شوہر کے ذہن پر جس بری طرح جنسیت حاوی تھی مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس سے کیسے ڈیل کروں اور ان کی ایسی احمقانہ باتوں کا کیا جواب دوں۔
ریحام نے عمران کے بچوں سے متعلق بھی تہلکہ خیز انکشاف کئے ہیں۔ ریحام لکھتی ہیں کہ۔۔ایک بار ہم عمران کی بیٹی ٹیریان کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ عمران نے بتایا کہ وہ اپنے دونوں بیٹوں سے زیادہ ٹیریان سے بات کرتا ہے۔ اس نے مجھے ٹیریان کے ٹیکسٹ میسج بھی دکھائے، جن سے میں نے نتیجہ اخذ کیا کہ وہ بہت حساس اور سمجھ دار لڑکی ہے اور عمران کو باقی فیملی کی نسبت سب سے بہتر مشورے دیتی ہے۔ ایک میسج میں اس نے عمران کو کہا تھا کہ ’آپ سلیمان کی بچگانہ ڈیمانڈز کو نظرانداز کیا کریں اور اس کے ہاتھوں جذباتی بلیک میل مت ہوا کریں۔ وہ وقت کے ساتھ سمجھ دار ہو جائے گا۔‘ عمران نے مجھے بتایا کہ سلیمان اصل میں ٹیریان کو قبول نہیں کرتا تھا۔ اسے ٹیریان کو قبول کرنے میں 10سال لگے۔ عمران جب بھی لندن جاتا تو جمائما کے گھر میں ٹیریان سے ملاقات کرتا تھا۔ ہماری شادی کے چند ہفتے بعد ہی ہمارے درمیان ٹیریان کے متعلق گفتگو شروع ہو گئی تھی۔ ایک دن اسی پر بات ہو رہی تھی تو عمران نے شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا کہ ’ٹیریان اکیلی نہیں ہے، ایسے 5 اور کیسز بھی ہیں۔‘ میں نے حیرت سے پوچھا کہ ’کیا پانچ؟‘ اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ ’بچے۔‘۔۔ ریحام لکھتی ہیں کہ ’’میں نے شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا؟ تمہارے پانچ ناجائز بچے ہیں! تمہیں یہ کیسے معلوم ہے کہ وہ تمہارے بچے ہیں؟‘‘ اس پر عمران نے بتایا کہ ’’ان کی ماؤں نے مجھے بتایا۔‘‘ میں نے پوچھا کہ ’’کیا یہ تمام سفید فام ہیں؟‘‘ عمران نے جواب دیا کہ ’’نہیں، کچھ بھارتی بھی ہیں جن میں سب سے بڑے کی عمر 34 سال ہے۔‘‘ یہ باتیں سن کر میں سکتے کے عالم میں آ گئی تھی۔ میں نے پوچھا کہ ’’کیسے عمران؟ اس لڑکے کی ماں نے دنیا کو کیوں نہ بتایا کہ وہ تمہارے بچے کی ماں بن گئی ہے؟‘‘ اس نے کہا کہ ’’کیونکہ وہ میرے بچے کی ماں بن کر اتنی خوش تھی۔ اس کی شادی کو عرصہ ہو گیا تھا لیکن وہ حاملہ نہیں ہو پائی تھی۔ وہ بچہ پا کر بہت خوش تھی۔ اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ اسے خفیہ رکھے گی اور مجھ سے بھی درخواست کی کہ میں بھی اسے خفیہ ہی رکھوں۔‘‘ اس پر میں نے کہا کہ ’’تمہارے باقی ناجائز بچوں کی مائیں کیونکہ سامنے نہیں آئیں؟‘‘ اس پر عمران نے بتایا کہ ’’وہ سب کی سب شادی شدہ تھیں اور وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی شادیاں ٹوٹ جائیں۔‘‘ میں نے پوچھا کہ ’’یہ بات تمہارے علاوہ کوئی اور جانتا ہے؟‘‘ تو اس نے بتایا کہ ’’جمائما جانتی ہے کہ میرے پانچ ناجائز بچے ہیں۔ اسے بھی میں نے بتا دیا تھا۔‘‘ عمران کی یہ باتیں سن کر مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اس سے کیا کہوں۔ میں اس کی بیوی تھی لیکن وہ کیا تھا؟‘‘ تاہم عمران خان کے قریبی ذرائع جمائمہ خان کے ان دعووں کو سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہیں۔
