سابق ISI چیف اسد درانی کا دوبارہ اسٹیبلشمنٹ سے پنگا پڑ گیا

سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی ایک بار پھر ایک اور کتاب لکھنے کی پاداش میں اہنے سابقہ ادارے کی گرفت میں پھنستے نظر آتے ہیں کیونکہ ریاست پاکستان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے تیار نہیں۔
یکم اکتوبر 2020 کو اپنی پنشن اور مراعات کی بحالی کی نوید سننے والے سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے 29 نومبر کو اپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایک سابق سربراہ کے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھنے کے جرم میں ان کی پینشن بند کر دی گئی تھی اور انکا نام ای سی ایک پر ڈال دیا تھا۔ تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں اسد درانی کی دوسری کتاب آنر امنگ سپائیز بھارت میں مارکیٹ ہونے کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمینٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے خلاف دوبارہ سے کاروائی کی جائے اور انہیں ملک سے باہر نہ جانے دیا جائے۔ رواں مہینے بھارت سے اپنی دوسری کتاب آنر امنگ سپائیز شائع کروانے والے سابق آئی ایس آئی چیف جنرل ر اسد درانی پہلی کتاب دا سپائی کرونیکلز سے پیدا شدہ تنازعے سے ابھی پوری طرح جان نہیں چھڑوا پائے تھے کہ دوسری کتاب پر بھی تنازع ہو گیا ہے۔ اسد درانی پنا نام ای سی ایل سے نکلوانا چاہتے ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ انہوں نے اپنی نئی کتاب میں ایک بار پھر اسٹیبشلمنٹ اور سیاسی قیادت کے لتے لئے ہیں اس لئے ادارے نہیں چاہتے کہ انہیں پاکستان سے باہر جانے کی کھلی چھوٹ دی جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 20 نومبر کے روز ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے سے متعلق درخواست پر وزارت داخلہ سے جواب طلب کیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں ہونے والی حالیہ سماعت میں اسد درانی کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ حکومت نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ر اسد درانی کا نام بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دُلت کے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھنے سے متعلق ہونے والی انکوائری کے تناظر میں ای سی ایل میں ڈال دیا تھا۔ انہوں نے نکتہ اٹھایا کہ اگرچہ انکوائری مکمل ہوچکی ہے تو پھر بھی ان کا نام ابھی تک ای سی ایل پر کیوں برقرار ہے۔ اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ پہلے حکومت نے اسد درانی کی پینشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی مراعات روکی تھیں۔ انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ اب حکومت ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں رکھ کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیے کہ اگر حکومت نے انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ ایک مختلف کیس ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے وزارت داخلہ کو ہدایت دی کہ وہ خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کا نام ای سی ایل میں رکھنے کے لیے وجہ بیان کریں۔ دوران سماعت ایڈیشل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ وہ وفاقی حکومت سے ہدایات لے کر آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کریں گے۔ بعد ازاں عدالت نے مذکورہ معاملے کو 4 دسمبر تک ملتوی کردیا۔
واضح رہے کہ 2018 میں دا سپائی کرانیکلز کے عنوان سے ایک کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی پینشن عارضی طور پر روک لی گئی تھی اور چند مہینے پہلے ہی بحال کی گئی ہے۔ یکم اکتوبر 2020 کو لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس شاہد جمیل کے روبرو سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل(ر) اسد درانی کی پنشن اور مراعات کی بندش کیس کی سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اسد درانی کی پنشن مارچ 2020 سے بحال کی جا چکی ہے۔ تاہم اس را کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر کتاب لکھنے کی پاداش میں سابق آئی ایس آئی چیف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی شامل کر دیا گیا تھا اور پاک فوج کے ترجمان نے اس حوالے سے ایک انکوائری کروانے کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ اس کتاب میں ایبٹ آباد کا اسامہ آپریشن اور مقبوضہ کشمیر اور کارگل سمیت دیگر معاملات کو بیان کیا گیا تھا۔ کتاب منظر عام پر آنے کے بعد فوج کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزارت دفاع نے باضابطہ طور پر اس معاملے میں ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں اس درانی کے خلاف فارمل کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا تھا۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کو اپنے بیانات پر پوزیشن واضح کرنے کے لیے جی ایچ کیو بھی طلب کیا گیا تھا۔ پھر فروری 2019 میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے خلاف انکوائری مکمل کر لی گئی ہے جس میں وہ ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کو بطور ریٹائرڈ آفیسر فوج سے جو پنشن اور مراعات مل رہی تھیں وہ روک دی گئی ہیں تاہم ان کے رینک کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے دو برس بعد رواں برس نومبر میں اسد درانی اے ایس دُلت کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب سے پیدا شدہ صورتحال اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے انہیں تختہ مشق بنانے سے متعلق آنر امنگ سپائیز کے عنوان سے ایک طنزیہ روداد بھی کھ چکے ہیں۔ اگرچہ اس کتاب کے شروع میں ہی بتایا گیا ہے کہ یہ حقیقت نہیں بلکہ فنکشن یعنی افسانوی کہانی ہے اور کسی بھی قسم کے حقیقی واقعات سے اس کتاب کے مندرجات کی مطابقت محض اتفاقیہ ہوگی تاہم کتاب پڑھنے سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ اس میں پاکستان پر روز اول سے حکمرانی کرنے والی ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر کس جاندار طریقے سے تنقید کے نشتر چلائے گئے ہیں۔اسد درانی کی کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جس طرح وہ اشاروں کنایوں میں مختلف واقعات اور شخصیات کا ذکر کرتے ہیں۔ پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ اور پاک بھارت مخاصمت سے واقف کوئی بھی شخص آسانی سے جان دیتا ہے کہ درانی کا اشارہ کس واقعے یا شخصیت کی جانب ہے۔
رواں برس یکم اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے استفسار پر ریاستی نمائندے نے یہ انکشاف کرکے خود اسد درانی اور پوری قوم کو حیران کردیا تھا کہ سابق آئی ایس چیف کی پنشن اور مراعات کئی اس سال مارچ میں ہی بحال کی جا چکی ہیں تاہم ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے معاملہ جوں کا توں رہا اور اب اس حوالے سے جنرل ر اسد درانی سرگرم ہوچکے ہیں کہ اگر ان پر لگے الزامات ختم کرکے پنشن، مراعات اور رینک بحال کردیا گیا ہے تو پھر ان کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج ہونا چاہیے۔ خیال رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کو 27 سال قبل فوج سے بے دخل کیا گیا تھا۔ فوج کی جانب سے پیپلزپارٹی کو الیکشن ہروانے کے لئے نواز شریف کی قیادت میں آئی جے آئی بنا کر سیاست دانون میں رقم تقسیم کرنے سے متعلق اصغر خان کیس میں اسد درانی کا نام آنے کے بعد انھیں آئی ایس آئی سے جی ایچ کیو بلوا لیا گیا تھا اور پھر جب دوبارہ یہ پتہ چلا کہ وہ سیاسی امور میں مداخلت کر رہے ہیں تو انھیں قبل از وقت ریٹائر یعنی فوج سے فارغ کر دیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button